دیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر شادی کے تقریب کے دوران دھماکے سے 5 افراد جا ں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔
نور عالم محسود ولد غلام جیلانی کی فیملی ایکٹیویٹیز میں شادی کا تقریب منعقد تھا جس پر دھماکہ ہوا۔ پھر یہ نہ صرف ان کی جان لی گئی بلکہ 10 زخمی بھی ہوگئے۔
ان کا ایمبولینس میں ہونے پر انہیں سٹیشنری ہسپتال لے جاتے ہوئے اس دौरے کی پورے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں خبردار کیا گیا تھا۔ ایک بار پھر یہ شہر خوفناک عجيب واقعے سے گزریا۔
دیرہ اسماعیل خان میں 4 جنوری کو دھماکے کی اطلاع آئی جس پر ضلع میں چل پائی گئی ایک جماعت امن کیمپ منعقد کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں شادی کا منصوبہ بھی بنایا تھا اور ان کی فیملی ایکٹو ڈیویژن نے تقریب پر جسمانی موجودگی اختیار کی تھی۔
اس دہشت گرد حملے میں شادی کے تقریب کے دوران ایک چارچر گریو ڈائریکٹر اور ان کی فیملی ڈیویژن نے اپنی جان قربانی کر لی تھی۔
دیرہ اسماعیل خان میں دھماکے سے زخمی ہونے والوں کو دوڑ بھاگ کے ایک جگہ ایک جگہ لے جاتے ہوئے اس واقعے کی پوری خبردار کر دئی گئی تھی، حالانکہ یہ ایک ایسا شہر تھا جس میں دھماکے کی آواازیاں ماحول کے ناخوش منदہ انداز میں لگی رہتی ہیں۔
عجीब عجीब! یہ شہر کچھ بھی نہیں ہوتا... دھماکے اور زخمیوں کی خبر لگتے ہی نہیں، مگر ایسے واقعات کی تعداد بڑھ رہی ہے! میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ سوشل مڈیا پر سب کو ہر گھنٹے ہی نئی خبر پہنچتی ہے، مگر اس وقت تک کہ ہمیں اپنی جگہ میں موجودگی سے اچھا لाभ نہ ہو سکے، یہ بات تھی کہ آپ کتنا بھارپور آپریٹر بن جائیں گے!
بے شک یہ واقعہ دیرہ اسماعیل خان سے جڑا ہوا ہے، ایک شہر جو ماحول کے ناخوش مند انداز میں رہتا ہے اور یہاں دھماکے کی آوازوں کی بڑی سنیائیں بھی ہوتی ہیں. لیکن ایسا کیا چاہتے تھے? ایک شادی کے تقریب پر دھماکہ کرنے اور اس طرح کئی جانوں کو حیات بچانے کی خواہش نہیں ہوتی. یہ تو بھاگ بھاگ کر نکلنا چاہتے تھے، دوسروں پر آمنی رکھنا چاہتے تھے اور صبر کرتے تھے. لیکن یہاں ڈیرہ اسماعیل خان میں ہو کر دھماکے کی آوازوں نے آل سے خوف پڑایا ہے.
ایسا تو حال ہی میں بھی ہو چکا ہے کہ دیرہ اسماعیل خان میں شادی کے تقریب پر دھماکہ ہوتا ہے اور لاکھوں لوگ زخمی ہوجاتے ہیں مگر پھر اس سے نکلنے والا کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا! یہاں تک کہ ایک چارچر گریو ڈائریکٹر اور ان کی فیملی ڈیویژن میں بھی جان لگ گئی اور اب وہ 10 زخمی ہیں!
اس نے مجھے یاد Dil diya ki اس طرح کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، مگر یہ بات حقیقت کی ہے کہ جب بھی شادی کے تقریب پر ان کی جان لگتی ہے تو وہ لوگ کمزور ہوجاتے ہیں اور ابھی ہی اس واقعے میں زخمی ہوئے!
کسی بھی فیملی ایکٹو ڈویژن کو اپنی جان لگا کر شادی کے تقریب پر موجود رہنا کتنا خطرناک ہوتا ہے، یہ کیسے سچ ہے!
امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر دھماکے سے 5 افراد جا بحق اور 10 زخمی ہوگئے، یہ شاندار واقعہ دیرہ اسماعیل خان کو مزید تباہ کر رہا ہے। ان کے فیملی ایکٹیویٹیز میں شادی کا تقریب منعقد ہونے پر یہ دھماکہ ہوا، اس سے پورے ضلع میں خبردار کیا گیا تھا اور تقریب کی پوری جماعت امن کیمپ ڈال دی گئی تھی۔
اب اس شہر میں دھماکے کی آواازیاں لگی ہوئی ہیں، یہ تو ایک سہولت جو دیرہ اسماعیل خان کو پہنچائی تھی، اب یہ شہر خوف کا مرتکب ہو گیا ہے۔ 4 جنوری کو بھی دھماکے کی اطلاع آئی جس پر جماعت امن کیمپ منعقد ہوا تھا، اور اب شادی کے تقریب کے دوران دھماکے سے لوگ زخمی ہو گئے، یہ ایک شاندار واقعہ تھا۔
اس واقعے سے پورے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈرپ ڈرپ ہو گیا ہے نہ صرف اس کے ساتھ ایک چارچر گریو ڈائریکٹر اور ان کی فیملی ایکٹیویٹس کی ہار بھی ہوئی ہے مگر یہ تھا نہیں کہ دھماکے سے 10 زخمی لوگ پے پے چلے آئے ہیں جس کی صورت حال بہت Critical hai
دیرہ اسماعیل خان ایک شہر ہے جو دھماکے کا تھا نہیں کہ وہ اپنی دھن کے لئے پاتا ہوا ہے یہ ایک شہر ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے مل کر رہتے ہیں اور ان کے منصوبوں کو بھی ملازمت دی جاتی ہے لیکن اب یہاں ایک واقعہ اس پُٹلی شہر کی زندگی میں ہوا ہے جس سے لالچ کے نتیجے میں شادی کے تقریب کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے
اب پورے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگ دھماکے کی آواازیوں سے محفوظ رہنا چاہیں گے اور اس شہر میں ایک فریٹ اینڈ ہونے والے واقعات سے محفوظ ہونا چاہیں گا لیرے نہ ہوا تو یہ شہر کتنے دیر تک رہ سکتا ہے اور کتنا پریشانی کا سامنا کرسکتا ہے؟
میں سچمैन ہوں تو یہاں تک کہ دھماکے کی آواذ اور زخمی ہونے والے لوگ سب سے پہلے سیکھتے ہیں ، لیکن اس شہر میں ہو رہا ہے تو یہ کیسے چلے گا؟ مجھے لگتا ہے کہ دیرہ اسماعیل خان میں سوشل مीडیا پر ایک اور دھماکے کی آواذ بھی نکلتی ہیں ، لیکن اس شہر میں یہوٹا تو ہوتا ہے…
مگر فیکس کرنے والے لوگ اس شہر کو دھماکے کے جال کی طرح دیکھتے ہیں ، لیکن ان کا کہنا ہو وہاں سے دھماکے کی آواذ نکل رہی ہیں اور وہاں سے ہلاک ہوئے لوگ ہیں تو اس شہر میں سب سے پہلے زخمی ہونے والوں کو لینا شروع کر دیا جائے گا…
تجھے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ دیرہ اسماعیل خان ایک پریشان جوہر ہے اور یہ واقعہ اس بات کو مزید یقینی بناتا ہے۔ مجھے بھی ان کی جان کی قربانی کرتے ہوئے شہریوں کی ایمانداری پر مجھے گوارا ہوتا ہے۔ ان کے شادی کے تقریب میں دھماکے سے باقی سب کچھ بھی محض نجات کی تلاش تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ وہ سب اپنی جان جیت کر گئے ہیں۔ اب ان کی قربانی ایسا نہ ہو سکتا کہ مجھے اور آپکو ایک تعزہ دیا جائے، لیکن وہی تھا جو ہوتا ہے۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ بڑے پیمانے پر شہریوں کی جان کی قربانی ایسی ہی رہتی ہے۔
اس دہشت گرد حملے سے پچیس افراد جان بحق گئے اور دس زخمی ہوگئے، یہ ایک بہت بھی دکھدار واقعہ ہے۔ میرے لئے یہ بات بہت کہلائی کہ جس شہر میں دھماکے کی آواازیاں اٹھنے کے بجائے دھماکے ہی اٹھ رہے ہیں، یہ شہر اب ایک دھماکیا گئی جگہ ہو گیا ہے।
یہ بات سچ ہے کے ہم نے ابھی تک دیرہ اسماعیل خان اور ان کے لوگوں کو بھی انصاف ملانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس طرح سے زخمی ہو جاتے ہیں. لاکھوں افراد نے اپنی زندگی قربانی کر دی ہے۔ ان لوگوں کے بچوں کو اور ان کی پتیوں کو اس سے محفوظ رکھنا ہمیںPriority بنتا ہے.
ایسا بھی ہو کر جیتتے ہیں لیکن یہ بات کبھی اور اس طرح نہیں آئی گتی کہ پوری دیرہ اسماعیل خان میں خبردار کو اپنی جان کی جान بھی جاری رکھی جائے۔ چارچر گریو ڈائریکٹر، ان کی فیملی ایکٹو ڈویژن اور اس شادی کے تقریب میں بھاگنے والے لوگ سب کو یہی قوت نے لے لیا تھا؟ آپ جانتے ہو گے ایسا تو نہیں، اس دہشت گردی کے پس منظر سے بچنے والوں کو ابھی پوری حقیقت بتانی کی ضرورت ہے۔
ایسے واقعات نہیں دیکھتے تو صاف صاف اٹھکیا جاتا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ان لوگوں کی جان کیوں قربانی کرنی پڑتی ہے جو صرف ایک جماعت امن تقریب میں موجود تھے؟ اس شہر کے لوگ اپنے آپ کو دہشت گردوں سے بچانے کی امید میں رہتے ہیں تو یہ کیسے چلتا ہے؟ دھماکے کی سانس ہمیشہ لگ کر ہوتا ہے، اب یہ شہر بھی ایسا ہونے والا ہے!
یہ تو ایک بڑا تباہ کن واقعہ ہو گیا ہے। دیرہ اسماعیل خان کے شادشادی کی تقریب میں دھماکے سے ان کو جان بھی نہیں چلی اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی بڑی ہو گئی ہے۔ یہ ایک بے درdek شہر تھا اور اب اس نے اپنے ایسے واقعے سے کیسے آگاہ کیا گیا؟ پوری ضلع میں خبردار کیا گیا ہو گا تو یہی نہیں بلکہ اس شہر کی پورے ملک میں جان جائیگی تھی۔
اس واقعے پر غور کرنے پر یہ سوچنا تھا کہ دیرہ اسماعیل خان میں شادی کے تقریب کے دوران دھماکے سے 5 افراد جا بحق اور 10 زخمی ہوگئے، یہ ایک بہت ہی گھنٹا ہے۔
یہ واضح بات ہے کہ دیرہ اسماعیل خان ایک اسٹریٹجک مقام ہے جو مایوس کن واقعات سے گزر رہا ہے، پھر بھی یہ شہر اپنے لوگوں کی زندگی کو جاری رکھتا ہے۔ اسے دیکھ کر میں سرفہرست لائسنس پر گاڑی چالانے والوں کے سامنے اپنی ایمولیشن کی بات کیے گی تو انہیں پتہ لگتا ہے کہ اس شہر میں دھماکے ہوئے لوگوں کو بھی گاڑی سے لے جانا پڑتا ہے؟
میں ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے دل کھلایا ہوا ہوں جو اس شہر میں رہتے ہیں، ان کی زندگی کو بھی آمنے سامنے رکھنا ہوگا۔ اس دہشت گرد حملے سے ابھی مریض ہی نہیں تھے تو ایک ایسا واقعہ ہوا جس پر شہر بھی خوفی محسوس کرتا ہے، لیکن اس سے قبل ان شہریوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں کو ایک بھائی کی طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔