ایران کیخلاف کسی بھی فوجی مداخلت کا مخالف ہے: ترکیہ

سنٹی پیڈ

Well-known member
ترکوزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ Turkey ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے، وہ امریکی انتظامیہ سے متفق ہیں کہ کوئی اہل قیدی نہیں کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے استنبول میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا، اسرائیل امریکا کو ایران کے خلاف فوجی حملہ کرنے پر آمادہ کر رہا ہے، جو علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا، اسرائیل کو اپنی عدم استحکام کی پالیسیوں کو ختم کرنا چاہیے اور ایران کے اندرونی مسائل کو بیرونی مداخلت کے بغیر حل کرنے پر ہم متفق ہیں، امید ہے ایرانی عوام ان مسائل کو ایک peaceful manner سے حل کرلیں گے۔
 
turkey khaas karo ke woh iran ke khilaaf aapki koi bhi fazee madad karti hai 🤝🏻 toh ye khabar bhi zaroor sahi hai. yeh ek achchi baat hai ki america aur isthmal countries ko apne Iran ko peaceful manner se solve karne ki koshish karni chahiye, kyunki is kshetra mein humari duniya ki zindagi jhok ke jhuka rhi hai 🤯
 
عمر نہیں، اس کی تو انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف فوجی حملہ کرنا چاہیے اور خود کیسے؟ کیا وہ امریکی انتظامیہ کی نالیوں پر چل رہے ہیں؟

اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ کوئی اہل قیدی نہیں کیا جائے گا، اب وہ انہیں ملک پر رکن بنا کر چال آ رہے ہیں؟

ایسا لگتا ہے کہ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کو پچھلے ہی انہوں نے کیا تھا وہ جانتے ہیں، اب اس پر ایران اور اسرائیل کی مدد چاہتے ہیں تو وہ اپنی اسی پالیسی کو بدلنا چاہتے ہیں! 🤣
 
ایسا لگتا ہے کہ ترک وزیر خارجہ نے بھارتی اور امریکی پالیسیوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہیے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی حملہ نہیں ہونا چاہیے، اس سے علاقے میں مزید تیزاب ہو گا اور وہاں کی صورتحال بدتھی ہوئی ہے۔ اس لیے Turkey اور Iran دونوں کو ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے پر زور دینا چاہیے، فوجی مداخلت سے پہلے اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ ایران کے اندرونی مسائل کو حل کرنے کے لئے شام اور عراق میں ہونے والے معاشی اور سیاسی معاملات پر توجہ دینا چاہیے۔
 
😐 Turkey ko Iran ke khilaf kisi bhi faujee madadat ki talaash mein nahi hoga, yeh America ke saath mil kar keh raha hai. Abbas Iraqchi ke sath joint press conference me unhone bataya ki Israel America ko Iran ke khilaf faujee hamele par amadaa karta hai, jo region ka situation aur stability ko nuksan pahunch sakta hai 🤔.

Mere khayal mein Turkey aur Iran ke beech ek alag cheez hai, Turkistan ka matlab nahi hai ki wo Iranian sabooton ko chunaav kar rahe hain. Har kisi ke liye zaroorat hai ki Pakistan bhi apne doston ki madad kare, lekin yeh kafi mushkil hai 🤯.
 
ایسے تو اسرائیل کو اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہیے اور ایران سے صمیمیت کرتے ہوئے اس کی مدد کروائی جائے, ان میں سے ایک Iranian people ko zindagi aur sahayata dena chahiye. #Turkey #Iran #Israel #PeacefulSolution 🤝🌎
 
ارے یہ وہی خبر ہے جو مجھے کہیں نہیں پوچھا گیا تھی، ایران اور اسرائیل کی دوسری ملاقات کیا ہوئی؟ اور کیا یہ بھی سچ ہے کہTurkey کو Iran سے fight nahi karna چاہیے? میں تو سمجھتا ہوں کہ ایران میں ایک بڑا problem hai, اور وہ اپنے problems ko alag se solve karna chahiye. Turkey کو Iran ki taraf koi action nahi leni chahiye, لیکن Israel bhi kuch nahi kar sakta, woh apni security policy ko badalna chahiye...
 
Turkey ki foreign minister حاقان فیدان ko laga ke Iran ke khilaaf koi bhi gareebi ladai ki wajah se zinda nahi hai, jo America ke sath milkar hain toh Iran ke kisi bhi aam qaidi ko nahin kiya jayega 🙅‍♂️

Fedan ne kaha, Israel amrika ko Iran ke khilaaf ladaai chalaane par majboor kar raha hai, jo region ka mazboot hone ke liye behtareen nahi hai 💔 Aur woh kaha ki Israel apni assthiti ki nazdikari nitiyon ko badalne ki zarurat hai aur Iran ki andheri samasyaon ko bina anya deshon ki madad ke hal karne par hain, hope Iranian log in apni aapni tarah se samasyaon ko shanti se hal karenge 🤞
 
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں کو تبدیل کرنا اکثر بھلے ہیں، ان्हوں نے اپنی مینڈیٹ پر فوجی مداخلت کو تسلیم کر لیا ہے اور اب وہ ایران کے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں… 😐

اس کے ساتھ ہی ایک بات یہ بھی ہے کہ ایران کے اندرونی مسائل کو حل کرنے کا راستہ بالکل آسان نہیں ہوتا… کئی دہائیوں سے وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی… 😔
 
یہ واضح ہے کہ یہ سب ایسے بات چیت نہیں تھی کی جس پر Israel، US اور Iran بھی متفق ہو۔ Turkey کا بیان کافی intéressant lagta hai, لگتا ہے کہ وہاں Turkey کو کچھ strategy banayna padega taaki Iran ke problems ko solve karein. Iranian people ko apni internal issues solve karne ka mauka dena important hai, lakin unki decision ek peaceful manner leni chahiye. Yeh sab ek strategic move lagta hai, Turkey ne apni side par balance banane ki koshish ki hogi.
 
اس نے ایران سے لگاتار سنجیدہ تنازعات دیکھے ہیں، لاکھوں لوگوں کی جانوں پر یہ تنازعہ ہر سال ایک بار اور ایک بار جاری رہتا ہے۔ اس کے لیے کوئی حل نہیں، صرف ایسا ہی دیکھنا چاہیے جو ان لوگوں کی جانوں میں کوئی نقصان نہیں ہو۔ اور اب اسرائیل ایران کے خلاف فوجی حملے کرنے پر آمادہ ہے؟ یہ وہی غلطی ہے جو اب تک ہوئی ہے، کبھی بھی فوجی مداخلت سے ان لوگوں کی جانوں میں نقصان پہنچتا ہے۔
 
بھانے بھانے یہ کہ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے، لیکن اس کا سوال یہ رہتا ہے کہ کیا انہوں نے یہ بات تو سچائی سے کہی ہے یا وہ امریکی بھراووں کی حاقان فیدان کی وادی میں اچھا لگنے والا ایک پالیسی پہنا کر رہے ہیں؟

ایسے میں یہ بات بھی تھی کہ کیا ایران کو امریکی اس سے محفوظ ہونا چاہیے؟ یا کیا اس پرIran میں لوگ اچھا لگنے والی پالیسیوں کی تلاش میں تھے؟

اس کے علاوہ اگر امریکی سے متفق ہونے کے ناطے کوئی اہل قیدی نہیں کیا جائے گا تو یہ بھی دیکھنا ضروری ہوگا کہ کیا اس پر Iran میں لوگ اچھا لگنے والی پالیسیوں کی تلاش میں تھے یا وہ ایک بہترین معاملے میں اپنی جان کھونے کو تیار ہیں؟
 
ایسا کہنا بھی چاہیے کہ ترك وزیر خارجہ حاقان فیدان کی باتوں سے کچھ محنت ہوئی ہے، انہوں نے اسرائیل کے خلاف امریکی رائے کو دیکھا ہے اور اس پر اپنی حمایت کی ہے۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی مداخلت کو بھی منہ زرد کیا ہے، جو اچھا ہے کیونکہ ہر کے لیے ایسا ہونا چاہیے جیسا ہو سکتا ہے... 🤔
 
انھا تو اس پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ ایران کے اندرونی مسائل کو اسٹاپ کرنا چاہیے نہ کہ بیرونی مداخلت کے ذریعے حل کرنا ... :(

میں تو سوچتا ہوں کہ وہ ایرانی عوام کے خیال میں بھی چلے گا کہ ان مسائل کو ایک peaceful manner سے حل کرلیں گے اور بیرونی مداخلت کے ذریعے نہیں ...

ایسے حالات میں کسی بھی فوجی مداخلت سے قبل،Turkey کی پالیسیوں کو بھی ہی توجہ دی جانی چاہئیے اور ان کے بارے میں بات کی جائے ... @idk
 
اس اسرائیل کی پالیسیوں پر یہ بات کہتی ہے کہ وہ کوئی بھی فوجی مداخلت میں متعذور نہیں ہونگے اور ایران کے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی امید ہے کہ عوام خود اپنا کाम کریں گے… وہ یہ بات تو کہتے ہیں، لیکن اسرائیل کی پالیسیاں اور ان کی طاقت اس بات کو ٹھیک بناتی ہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کر سکتے ہیں… 🤔
 
ایسا لگتا ہے کہ حاقان فیدان نے اس بار بھی ایران سے بات کرتے وقت اپنے دباؤ کو پہچانتے ہوئے اپنی بیانیہ کو ڈبل چکیا ہے ۔ پہلے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں اور اب وہ دوسری بار یہی بات کرتے ہوئے ان کے لئے ایک نیا مظاہرہ بن گیا ہے 🤔
 
یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ آمریcki فوج کا بھارے طور پر حملہ ایران پر نکلنا آپ کی بھی پکڑ میں لے گا اور ایسے سے انہوں نے تو یہ بات بھی کہی ہے کہ کوئی آمریکی آئین پر قیدی نہیں کیا جائے گا تو یہ کس کی بات ہو سکتی ہے؟

سورکھیا اور ایران میں بیرونی مداخلت سے اس صورتحال کو بہت زیادہ تیز کر دیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہو گا کہ دونوں طرفوں پر ایک پہل بوجھ آنی چاہیے جس سے ان کے درمیان کی باتیں آسانی سے حل ہو سکتی ہیں، اور یہ جاننا ضروری ہے کہ ایران میں کیا پالاس کی واجبیت نہیں ہے؟

ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ دنیا کی تمام زبانیات میں یہ بات کہی جائے گئی ہے کہ ایران اور اسرائیل دونوں سڑک پر چل رہے ہیں اور وہاں کسی نے بھی ایسا کچھ نہیں کہا جو دنیا کی بے سلوکیوں کو بڑھا سکے
 
یہ وہ موازنہ ہے جس پر دنیا کا دھ्यان پڑے گا، ترکی اور امریکا نے ایران کے خلاف فوجی مداخلت کو توکھا، اور ابTurkey Iran کے ساتھ diplomatic talks ہو رہی ہیں, یہ سب ہمارے درمیان میں اہم باتوں کی پرمانت ہے، turkey ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی مداخلت کرتے تو انھیں international community کا panik کا سامنا کرنا پڑے گا, اورIran Iran کے اندرونی مسائل کو foreign mediation سے حل کرنے پر ہم متفق ہیں, یہ بھی تو کہیں تو بنتا ہے۔
 
یے تو پھرTurkey Iran conflict میں Turkey کی stance تو اچھی لگتی ہے, وہ فوجی مداخلت پر انکار کرتے ہوئے دوسروں کو متفق کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں. Iran issues ko solve karna chahiye, peaceful manner se to better hai 🤞
 
Turkish وزیر خارجہ حاقان فیدان کی بات میں کچھ دیکھنا ہی مایوس کن نہیں ہوتا. وہ اپنے بھائی عباس عراقچی سے مل کر ایک ساتھ کیا کرتا ہے، اور اسرائیل کی باتوں پر وہ متفق ہے لیکن اس میں کوئی نوٹ نہیں ہوتا. انہوں نے بات کی ہے کہ ایران کے اندرونی مسائل حل کرنے پر دوسرے لوگ متفق ہیں لیکن اُن کو یہ بات پتہ ہوتی ہے کہ عوام کس طرح ایک peaceful manner سے حل کرسکتے ہیں?
 
واپس
Top