امریکا کا بھارت کیساتھ تجارتی معاہدے پر اتفاق ٹیرف میں کمی کا اعلان

بیک پیکر

Well-known member
امریکا نے ہجوم سے تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا، اس کی وجہ مڈی ایس کا پچھا، ان کے کہنے کے مطابق امریکا اور بھارت نے تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے جو ٹیرف میں کمی سے آگے بڑھ جائے گا، ان کے مطابق برطانیہ اور ہسپانہ کی طرح روس نے تیل خریدنے کو ختم کر دیا ہے، اس لیے ٹیرف میں کمی تو ہوئی گئی جبکہ تجارتی معاہدے پر اتفاق بھی ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بڑھنے گئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے خود یہ اعلان 24 نیوز کی ویب سائٹ پر شائع کیا، ان کے مطابق انھوں نے وزیراعظم مودی سے ٹیلی فون کے ذریعے بات کی اور کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، انھوں نے یہ کہنا تھا کہ روس کے تیل کی خریداری کو ختم کرنے اور امریکا اور وینیزویلا سے تیل خریداری میں اضافے پر بھی توافق ہو گیا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدے فوری طور پر نافذ ہونے والے ہیں اور اس کی وجہ سے امریکا اور بھارت کی دوستی و احترام میں اضافے کا مظاہر ہوا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ باہمی ٹیرف میں کمی سے لگایا گیا ٹیرف اب 18 فیصد تک کر دیا جائے گا، انھوں نے یہ بھی کہا کہ مودی نے 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات خریدنے کا عہد کر لیا ہے، انھوں نے کہا کہ یہ معاہدے بھارتی اور امریکی تجارت کی ترقی کے لئے اہم ہیں۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے ٹیرف میں کمی پر صدر ٲمپ کا شکریہ پیغام دیا، انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان شائع کیا جس میں انھوں نے صدر ٲمپ کے یہ اعلان پر بے حد happiness کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے اہل قسما 18 فیصد تک کر دیا گیا ہے جو بھارت کی پوری کارکردگی کو دیکھتے ہوئے جس کے لیے انھوں نے شکریہ کا پیغام جاری کیا،
 
یہ رہی گھنٹی بھر کی خبروں کے بعد، میرا خیال ہے کہ یہ معاہدے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور اس کی صدر کے رہنماؤں کے عمل کی ایک نئی شروعات ہے۔ ٹرمپ صاحب کے یہ اعلان بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے کے ذریعے کر رہے ہیں اور یہ معاہدے ان کے وطن کی ترقی کے لیے اہم کام ہوگا۔ 🤝
 
یہ لگتا ہے کہ امریکا اور بھارت کی یہ معاہدہ ٹیرف کو کم کرنے میں تو کامیاب رہا لیکن دوسری جانب اس سے روس کو پچتایا گیا ہوگا?
اس معاہدے سے یہ بات واضح ہے کہ اب بھارتی اور امریکی تجارت میں کوئی حد تک اضافہ ہوا ہے، جو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر سے زیادہ ہوگا!
لیکن اس بات پر گمان ہے کہ ٹیرف میں کمی کے ساتھ یہ معاہدہ روس کو دوسری طرف سے چیلنج کر رہا ہے، جو اب تک دنیا کی تیز ترین اور سب سے بڑی ٹیرف میں سب سے زیادہ حصہ لینے والا ہوگا!
اس لیے اس معاہدے کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ ایک اور جنگ کا خطرہ اب بھی لاحق ہے، جس سے دنیا کی تیز ترین اور سب سے بڑی ٹیرف میں سب سے زیادہ حصہ لینے والا روس کو پچتایا گیا ہوگا!
 
امریکا اور بھارت نے جو تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے وہ پوری طرح ایک ایسے تجزیے سے ٹکر گیا ہے جس میں انہیں خود 500 ارب ڈالر کی بے چینی کی دیکھنی پڑی ہے، یہ معاہدے ابھی ایک ایسے ساتھ جو ڈھانچے پر ٹکر رہنے والے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے آگے بڑھنا ہے، یہ معاہدے کو لانے والے لوگوں کی اہلیتیاں یہاں تک پہنچ گئی ہیں کہ وہ اپنی ڈالری کو ٹھیک سے نہیں سمجھ سکیں گے، اور اب بھارتی اور امریکائی تجارت پر اس سے ہونے والا اثر کے بارے میں کسی کی بھی جائیداد کو یہ بات نہیں آئی جو وہ معاہدے میں پڑنے سے کیسے ہوگا؟
 
اس معاہدے سے پہلے ڈی ایس ٹی کی ایک وڈی کھلاڑی تھی کہ کیسے روس نے امریکا اور بھارت کو ان کی ساتھیوں کے مقابلے میں ہونے والی تجارتی معاہدے پر اعتماد کیا، لیکن اب یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دونوں ملکوں نے ایسے معاہدے پر اتفاق کیا ہے جو ٹیرف میں کمی سے نکل کر دو-sided trade relations میں بڑھ گیا ہے، یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ روس کی تیل کی خریداری کو ختم کرنے اور امریکا اور وینیزویلا سے تیل خریداری میں اضافے پر توافق ہوا ہے، اب یہ بات بھی پوری طرح سے نکل آئی ہے کہ اس معاہدے کے بعد امریکا اور بھارت کی دوستی میں اضافے کا مظاہر ہوا ہے، 500 ارب ڈالر سے زیادہ بھی بھارتی اور امریکی تجارت پر معاہدے پر توافق کیا گیا ہے، اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس معاہدے سے بھی ٹیرف میں کمی ہوئی ہے، 18 فیصد تک کر دیا گیا ہے، اب یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ملکوں کی دوستی میں اور تجارت میں اضافہ ہو گا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس نے اپنی تیل کی خریداری کو ختم کر دیا ہے، اب یہ بات پوری طرح سے نکل آئی ہے کہ اس معاہدے سے بھارت اور امریکا کی دوستی میں اضافہ ہو گا۔
 
امریکا اور بھارت نے تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، یہ ایک گہرا تعلقات کو فروغ دینے کا سلسلہ ہے جس میں دوسرے معاہدوں کی طرح روایتی تجارتی پالیسیوں کا بھی بدلाव ہوا ہے۔

پرانے طاقتوں کے ساتھ ہونے والے تعامل کو ختم کرنا اور نئے تعلقات پیدا کرنا ایک عظیم تبدیلی ہے جس کی وجہ سے ٹیرف میں کمی ہوئی ہے، لیکن اس معاہدے کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ دوسرے معاہدوں کی طرح اس میں بھی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

امریکا اور بھارت کی دوستی و احترام میں اضافے کا مظاہر ہوا ہے، یہ ایک گہرا اعلان ہے جو اس بات کو دیکھتے ہیں کہ تعلقات کی نوعیت بڑھتی جارہی ہے اور دنیا میں ایسی تبدیلیوں کی پیداوار ہوتی ہے جو تعلقات کو فروغ دیتی ہیں۔
 
🤔 اس معاہدے پر ٹیمپ کی توازن کیسے حاصل ہوا؟ وہ اپنی حکومت کو مڈی ایس کے ساتھ مل کر ان لاکھوں ڈالروں کی معاونت کر رہا تھا، اور یہ معاہدہ جس پر وہ توافق کیا، اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہو سکا؟ اور ان کے بعد وہ بھارتی وزیراعظم سے ٹیلی فون کا بات چیت کرتے ہوئے، اس معاہدے پر توافق کیا، اور اب تو وہ اس معاہدے کے تحت بھارتی اور امریکی تجارت میں اضافہ کرنے کے لئے 500 ارب ڈالروں سے زیادہ امریکی مصنوعات خرید رہا ہے، یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ ٹیمپ کو مڈی ایس کی مدد سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا، اس لیے اچھا ہو گا کہ وہ اپنے خاندان اور وزیر اعظم کے سامنے ان معاملات پر بھی سچائی کہیں، اور اس معاہدے کو تین لاکھوں لوگوں کی زندگی میں اپنی توازن حاصل کرکے دیکھے!
 
یہ تو ایک اچھا نتیجہ ہوا ہے جو روس سے ٹیرف میں کمی سے آگے بڑھنے پر پہلا ہے، اب بھی لگتا ہے کہ یہ معاہدے ایک ایسا ہوا گا جو دو دوسرے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائے گا، جیسا کہ ٹرمپ نے کہا ہے، مڈی ایس کی وجہ سے بھارتی اور امریکی دوست میں اضافے کا مظاہر ہوا ہے، اب یہ سوال کیا جائے گا کہ اس معاہدے کی وجہ سے بھارتی اور امریکی تجارت میں کیسے اضافہ ہوگا؟
 
یہ اعلان سنیا جاتا ہے تو میرے ذہن میں وائٹ نیجسٹی کا دور آتا ہے جب بھی امریکی صدر نے ایک اور معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ وہ عہد جس پر یہ معاہدہ بنایا گیا ہے وہ کبھی کبھر کا تھا جو سنا نہیں۔ اب تو وہ معاہدہ باقی رہ گیا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ٹیرف میں کمی سے 18 فیصد تک آگے بڑھ جائے گا، یوں جیسا کہ پچاس کی دہائی میں ہوا تھی تو اس معاہدے کو محسوس کرنا ممکن تھا جو امریکا اور بھارت نے بنایا تھا۔ اب ان کی دوستی کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا گیا ہے اور وہ دونوں طرفوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔
 
یہ واضح ہے کہ مڈی ایس کی وجہ سے اب امریکا اور بھارت نے تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، ٹیرف میں کمی سے آگے بڑھنے کی بات کرتے ہوئے مڈی ایس کی پچھا لگائی گئی ہے 🤔

جیسے کہ اس معاہدے پر اتفاق کر لیا گیا ہے وہ بھی ٹیرف میں کمی سے لگایا گیا ہے، باقی بات یہ ہے کہ اہل قسما کو اب 18 فیصد تک کر دیا جائے گا اس میں کوئی چیلنج نہیں ہے 🙄

یہ بھی واضح ہے کہ مڈی ایس کی وجہ سے اب روس اور برطانیہ نے تیل خریدنے کو ختم کر دیا ہے، اب اس کے بجائے امریکا اور وینیزویلا سے تیل خریدائی جائے گی۔ یہ بھی دیکھنی بات ہے کہ مڈی ایس کی وجہ سے اب امریکا اور بھارت کے درمیان دوستی و احترام میں اضافہ ہوا ہے 💕
 
اس معاہدے پر بھیرو تو، ایک نئا دور شروع ہوتا ہے...

جیت نہیں سکتے اس معاہدے کی بدولت امریکا اور بھارت کے تعلقات تازہ ہو گئے ہیں...

امریکی صدر ٲمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی سے بات کر رکھی، اب تو دونوں طرف کی تعلقات بہت تازہ ہو گئی ہیں...

ٹیریف میں کمی بھی ہوئی اور اب اس پر 18 فیصد سے کم کر دیا گیا ہے، اس کے بعد دونوں ملکوں کی تعلقات بڑھ گئی ہیں...

اب وینیزویلا اور روس کے ساتھ بھی امریکا اور بھارت کی تعلقات بہتر ہوئی ہیں...

500 ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی مصنوعات خریدنا، اب یہ ایک نئا دور ہوتا ہے...

ہم نے دیکھا ہے کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات تازہ ہو گئے ہیں، اب دوستی و احترام میں اضافہ ہوا ہے...

🤝
 
ایسا کہنا ہی ہوتا ہے جو اچھا لگتا ہے مگر یہ بھی دیکھیں کہ یہ معاہدے کس کی طرف لے جائیں گے؟ امریکا اور بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات کرنے کے لیے وزیراعظم مودی کو ٹیلی فون کے ذریعے بات کرنا چاہیے تو کیا یہ معاہدے نہ ہوتے اگر انھوں نے سوشل میڈیا پر بھی بات کی ہوتی؟
 
واپس
Top