لاہور، تین روز میں پتنگوں، گڈوں اور پنوں کی فروخت نے ریکارڈ قائم کر دیے | Express News

آرٹسٹ

Well-known member
لاہور میں बसنت کے موقع پر گڈوں، پتنگوں اور.penوں کی فروخت میں نمایاں تیزی دیکھنے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ قائم ہونے والا کاروباری ماحول سامنے آتا ہے۔

تیسرے روز 5 لاکھ سے زائد گڈے اور پتنگوں کی خرید و فروخت ہوئی، جس سے مجموعی کاروبار 54 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا۔ اس میں 10 ہزار سے زائد.penوں کی بھی فروخت ریکارڈ ہوئی، تاہم پتنگوں کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دستیابی میں کمی دیکھنے میں آئی۔

قیمتوں کا حوالہ کرکے ملک فیضان احمد نے بتایا کہ ڈیڑھ تاوا گڈا 650 روپے، ایک تاوا 450 روپے اور پونا تاوا 250 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ دو پیس کا پنا 7 سے 8 ہزار روپے اور چار پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

اس ماحول میں سائنس فائیٹنگ ایسوسی ایشن کے لیगल ایڈوائزر ملک فیضان احمد نے بات کی ہے کہ پتنگوں اور متعلقہ سامان کی خرید و فروخت کے دوران حقیقی رش کو دیکھنا مشکل ہوتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں نمایاڈ تیزیت آتی ہے۔
 
منہ کی گھنٹی چل رہی ہے... یہ نئے سال کیسے گزارے؟ میں اچانک سوچta hoon, میں کیسے اپنا پینٹنگ کمپلیٹ کر سکتا ہوں، میرا ایک ہی پینٹنگ 10 لاکھ سے زیادہ ملا رہا ہوں اور میں اسے کیسے فروخت کرूं؟ اور گڈی بھی... میں اپنی پرانی گڈی کی دیکھنا چاہتا تھا، وہ میرے لیے کس قدر سenciمل ہے!
اب یہ دیکھنا ہے کہ کس پر رش کا پتنگوں میں فائدہ ہے... نہ تو میں اور نہ ہی میرے دو ساتھی!
 
ایسے میں تو یہ بات کہی جا رہی ہے کہ لوگ گڈوں اور پتنگوں کی خرید و فروخت کرنے کا بھلایا کرتے ہیں، لیکن اب یہ بات تو تھोडی سے تھوڑی تیز ہو گئی ہے۔ پتنگوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ دستیابی میں کمی، یہ سارا بات ہے کہ لوگ اب اسے بہت بھلائی لگ رہے ہیں اور اس لیے وہ زیادہ پیداوار کر رہے ہیں اور بھی کم قیمت پر فروخت کرتے جا رہے ہیں۔
 
Wow! 🚗👀 ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کی جانب سے اس وقت پتنگوں اور گڈوں کی خریداری میں بھاگت جارہی ہے، جس نے ملک کو ایک کاروباری ماحول میں لانے والا ایک اچھا تجربہ دیا ہے!
 
یہاں یہ رکاوٹ نہیں بلکہ کامیابی کی بھرپور جسمانی شکل ہوئی ہے، اس میں سے کوئی نہ کوئی دوسروں کو متاثر کرنے والا ہو گا لیکिन یہ بات نہیں کہ پتنگوں کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے حصول میں کمی دیکھی جا سکتی ہے، کھانے اور پین کے برٹنڈاں ہو کر پہلے سے کم قیمتوں پر بھی فروخت ہوتے ہیں۔
 
ایسا کہنے کے باوجود جب یہ پتنگوں کی دوسری فروخت سے مل کر سمجھ آ رہی ہے کہ لاکھ لاکھ روپے کی قیمتوں میں اضافے نالے گا تو ایسا بھی محو ثبوت بنتا ہے کہ لوگ اچھے ماحول کو اپنے جائزے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
 
بصرتے یہ جاننے والی ہوں کہ لاہور میں پتنگوں کی فروخت میں ایسی تیزی ہو رہی ہے جو دیکھنی بہت دیر ہوئی اور اب یہاں 10 سے 15 ہزار روپے تک کے پنا کی فروخت بھی ہونے لگی ہیں جس سے ایک دفعہ کے لیے گھروں میں یہ رات ہوتا ہے اور یہاں کی کھان پین میں بھی اس بات کو لگنے سے نہیں کہ یہ 2025ء کی دفعہ ہے۔
 
بسنت کے موقع پر گڈی کی فروخت بھی گزری اور یہ سچ کی بات ہے کہ پتنگوں کاmarket بھی بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔ لاکھوں روپے میں 5 لاکھ گڈیوں اور پتنگوں کی فروخت ہوئی، یہ بہت بڑا کاروبار ہے۔ لیکن ایسا کیا کہ اس market میں حقیقی رش کو دیکھنا مشکل ہوتا ہے، سائنس فائیٹنگ ایسوسی ایشن کے lawyer ملک فیضان احمد نے بتایا ہے۔ گڈیوں اور پتنگوں کی قیمتوں میں بھی تیزیت آ رہی ہے، اور اس market میں توسیع کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
 
باسنت پر گڈیوں اور پتنگوں کی فروخت کا یہ ماحول دیکھنا ایسا لگتا ہے جو چاقلے کی تازگی سے بھرپور ہے! 🤩 سب کو خوشی ہے وہ لوگ جس کے پاس پچاس ہزار روپے ہوں اور وہ بھی اس ماحول میں اپنی شان کھیل سکیں گی! لیکن ایسا تھوڑا سا سوچنے کا عزم رکھنا چاہئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو پتنگ اور گڈیوں کی خریداری پر دباؤ ہو سکتا ہے، انہیں بھی ایسا ماحول میں شامل ہونا چاہئے جو ان کے لیے بھلے ہی رہے! 🙏
 
ایسا لگتا ہے کہ لوگ ایک بار پھر اسے گاڑی چلانے کی ضرورت کا احساس کر رہے ہیں...پتنگوں اور.penوں کو بھی خریدنے لگے ہیں تو وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کئی دن تک ٹرانسپورٹ سٹیشن پر رہتے ہیں...اس ماحول کو پورا کرنے کا یہ راستہ کچھ لाभ دے گا یا اس نے لوگوں کی معیشت میں ایسی ہی تیزگی دیکھی ہو گی جس سے ان کی اہمیت بڑھ جائے...
 
میتھی لگائیں تو اچھا لگتا ہے، میری مائیکریف وala ہر دوسرا نہیں دیکھتے ہیں اس میں کس کی بھی ضرورت ہو گئی، توڈی لگن میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، مینے ایک بار اپنی گڈی وala کو کہا تھا کہ یہ پتنگوں کی فروخت سے اچھا نہیں ہوتا، اور وہ چھوٹا چھوٹا کہتا رہا، میرے لئے ایسے کاروبار میں بھی کیے جانے والے کاروبار کی بات نہیں، اور پتنگوں کی قیمتوں میں اضافے کا یہ کیا ہے؟
 
واپس
Top