اتحادی حکومت نے 26 اور 27 ویں ترمیم کی منظوری دی لیکن 18 ویں ترمیم پر ان کی مخالفت شروع کر گئی ہے جس پر پیپلز پارٹی نے سخت رد عمل کیا ہے اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے اسے حکومتی پالیسی قرار دیا ہے مگر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ خواجہ آصف کا ذاتی بیان ہے جبکہ وفاقی حکومت نے کوئی بیان نہیں دیا لیکن وفاقی وزیروں نے اپنی تقریروں میں 18 ویں ترمیم کے سلسلے میں جو بیان دیا اس میں انھیں یہ وضاحت کرنی چاہی ہوگی کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انھیں پہلے یہ وضاحت بھی دینی چاہی ہو گی کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ انھیں اپنی رائے کو عوام میں واضح کرنا چاہیے تو انھیں دو بڑی جماعتیں آمنے سامنے آگئی ہیں کیونکہ اس وقت جب 18 ویں ترمیم منظور ہوئی تھی تو پیپلز پارٹی کی حکومت اور آصف زرداری صدر تھے اور پی پی، مسلم لیگ اور بعض جماعتوں نے بھی ترمیم کی حمایت کی تھی مگر اس وقت پی پی کے رہنما لطیف کھوسہ نے 18 ویں ترمیم کے خلاف بیان دیا تھا اور بعد میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے اور صوبہ سرحد کا نام بھی اسی ترمیم کے تحت خیبر پختون خوا رکھا گیا تھا جہاں اے این پی اور پی پی کی حکومت تھی مگر اب اے این پی کا کہنا ہے کہ کے پی کا نام صوبہ خیبر ہونا چاہیے یہ انھیں اب یاد آیا ہے پہلے اس کی حمایت کی گئی تھی مگر پی ٹی آئی خاموش ہے جس کی وجہ سے کے پی میں اقتدار میں آئی تھی۔
18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت زیادہ بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے اور اس سے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بادشاہ بنا دیا جاتا ہے لیکن نہیں کہیں انھیں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرکے منتقل کرنا تھا مگر نہیں کیے گئے۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں میں بے اختیار بلدیاتی ادارے موجود ہیں جس کے نتیجے میں مکمل طور پر صوبائی حکومتوں اور بیورو کریسی کے محتاج بنے ہوئے ہیں۔ پی پی نے سندھ میں اور کے پی میں پی ٹی آئی نے اپنی مرضی کا بے اختیار بلدیاتی نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے اور پی ٹی آئی نے اقتدار میں آ کر پنجاب کا بلدیاتی نظام ختم اور اسلام آباد میں کئی بار ختم کیا جو عدلیہ نے بحال کیا۔ مسلم لیگ (ن) بھی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا استعمال نہ کرے مگر انھوں نے پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کرائے نہ رکھے۔
اتحادی جماعتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں کیونکہ اس وقت جب 18 ویں ترمیم منظور ہوئی تھی تو پیپلز پارٹی کی حکومت اور آصف زرداری صدر تھے اور پی پی، مسلم لیگ اور بعض جماعتوں نے بھی ترمیم کی حمایت کی تھی مگر اس وقت پی پی کے رہنما لطیف کھوسہ نے 18 ویں ترمیم کے خلاف بیان دیا تھا اور بعد میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے اور صوبہ سرحد کا نام بھی اسی ترمیم کے تحت خیبر پختون خوا رکھا گیا تھا جہاں اے این پی اور پی پی کی حکومت تھی مگر اب اے آن پی کا کہنا ہے کہ کے پی کا نام صوبہ خیبر ہونا چاہی۔
ان 18 ویں ترمیم کی طرف توجہ دینے سے پہلے اس وقت کی سیاسی معرکز کو دیکھنا بہت اہم ہوگا। وفاقی حکومت نے کچھ بیان کیا ہے مگر انھوں نے واضح کرنی چاہیے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انھیں عوام میں یہ بیان کرنا چاہیے کہ اس پر ان کی فیکٹ فیچر نہیں ہوگی।
اتحادی حکومت نے 26 اور 27 ویں ترمیم کی منظوری دی لیکن اب وہ 18 ویں ترمیم پر مخالفت شروع کر گئی ہے جو پیپلز پارٹی کو تیز کر رہی ہے۔ اس میں شاندار لڑائی جاری ہے جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور ان کی جماعتیں اپنی رائے کو واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے تاہم انھیں اپنی رائے کو عوام میں واضح کرنا چاہیے۔ مگر اورھا ، اب اس پر لڑائی جاری ہے، اور اس کا جواب آئس پی، مسلم لیگ اور پی ٹی آئی نے دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک بات قابل ذکر ہے کہ 18 ویں ترمیم سے لے کر اس کے خلاف لڑائی اور عوام کی نظر میں ان پالیسیوں کو بہت زیادہ ذہین اور درانداز سمجھا جاسکتا ہے مگر اگر پھر یہی کہا جاتا رہے تو اس سے عوام کی ایک نئی پلیٹ فارم اور دوسری نئی جماعت یا وفاق بننے کا امکان بھی پیدا ہو جائega جو عوام کی ضرورت پر بنتی اور ان کے رائے سنی کرتی اور ان کی مشقت پر کام کرتی۔
یہ خبثوں کی دن تھی جس نے 18 ویں ترمیم منظور کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کو بے باکبزی سے اس پر مخالفت کرنا پڑی ہے اور اب انھوں نے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کو حکومت کی پالیسی قرار دیا ہے جس کاMeaning وہ انھیں بھوکا ہوا ہے۔
تجسے وہ لوگ پورا دن چہرے پر ہیرن لگاکر راتوں رات دھونے کے بعد نہیں اٹھتے۔ آج بھی اس پر پی ٹی آئی نے پوری طاقت کا استعمال کیا ہے اور انھوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو پورا تباہ کر دیا ہے اور اب انھیں یہ بات آسان نہیں ہوسکتی کہ وہ انھیں اپنی رائے سے باہر رکھ دیا گیا ہے مگر وہ اب پوری طرح جانتے ہو کہ نہیں اس پر اٹھنا چاہیے یا نہیں دھونے دھونے کے بعد انھیں سونا چاہیے۔
نوجوانوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات حیران کن ہے کہ کیونکہ وہ اس تحریک میں اور اس تحریک سے متاثر ہیں جو ایسے سچائیوں کو ترجیح دیتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انھیں بھی علم رکھنا ہے لیکن وہ اس کے لیے کافی وقت اور کوشش نہیں کرتیں بلکہ پوری دuniya کی معاشیات کو سمجھتے ہوئے یہ سوال لگاتی ہے کہ کیا یہ معاشرے میں اچھائی ہے؟
اس پر تبصرہ کریں
اتحادی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ بااختیار مقامی حکومتوں کا استعمال نہ کرے مگر انھوں نے اس کے لئے ایک چال اچھا سے لیا ہے۔ اگر انھوں نے 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کر رہی تھی تو اس لئے کہ وہ اس سے اپنے استحالے کی وجہ نہیں بنائیں لیکن اب انھوں نے پھر ایک جھاد کیا ہے اور اس میں پی پی اور کے پی دونوں اپنی رائے پیش کرنے لگے ہیں۔ اب یہ سوال ہے کہ بااختیار مقامی حکومتوں کی وجہ سے انھیں کتنے اضافے ملتے ہیں اور انھوں نے کیسے اپنا استحالہ یقینی بنایا ہے؟
ایسا تو بات فاش ہو گئی ہے جو پچھلے ہی سوچ رہا تھا اور اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی حقیقی منظر نامہ جسے اب تک انھوں نے محفوظ رکھا تھا اس پر زبانی بھی کرنے لگی ہیں اور پچھلے کے بعد اب وہ سب کچھ اپنی سے متصادم کر دیں گئیں۔
تمام جماعتیں انھیں دیکھ رہی ہیں کہ کہاں سے لاتھنا ہو گا اور کہاں پھینकनے والا ہے نہ 18 ویں ترمیم منظور ہوئی ہے بلکہ کبھی یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ پیٹروئم کی طاقت سے ہر بات واضح نہیں ہوسکیگی۔
یہ بہت خطرناک بات ہے کہ پی ٹی آئی نے صوبہ سرحد کو خیبر پختون خوا رکھنا شروع کیا ہے اور اب وہ اس پر قائم ہو گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ انھیں پہلے بھی اس کی حمایت کی گئی تھی مگر اب وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہو گئے ہیں اور یہ واضح بات ہے کہ انھیں اب سے عوام کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ جو انھوں نے اس ترمیم میں کی تھی وہ تو انھیں ہی تعلق رکھتی ہے لیکن اب وہ عوام کو ان کی مرضی کا بے اختیار نظام کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تو واضح بات ہے کہ پی ٹی آئی نے اب سے عوام کو ایسا معاملہ دکھایا ہے جس سے لوگ انھیں ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کے بھی ساتھ آئیں گے
بھی پھیپھڑوں میں بیٹھے ہیں اور ان کو پہچانتا ہے کہ کس نے کیا؟ یہ تو کدر کی بات ہوتی ہے جس سے سارے معاملات میں گھلٹا پکڑتے ہیں اور ان کے بعد بھی نتیجہ کیا جاتا ہے؟ سچ کی بات یہ ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بارے میں واضح واضح طور پر بات کی جاتی ہوگی تو بھی نتیجہ اسی طرح نکلتا ہے۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا انھیں اس معاملے میں واضح رائے دی جاتی ہوگی تو اس سے کیا نتیجہ اٹھتا؟ کیونکہ یہ بات باسے بھرپور ہے کہ انھیں واضح رائے دی جائے اور وہ اپنی رائے کو عوام میں واضح کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ بات تو باقی رہتی ہے کہ انھیں واضح رائے دی جاتی ہوگی تو بھی نتیجہ اسی طرح نکلتا ہے۔
چرچا کر رہا ہوں کہ 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو بااختیار بنانے کی بات کی گئی ہے لیکن یہ بات تو سچ نہیں ہے کہ وہ صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بادشاہ بنا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے بجائے انھیں بااختیار مقامی حکومتوں کو قائم کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے صوبوں میں بے اختیار بلدیاتی ادارے نہ بنائیں اور وہاں کچھ محنت کریں۔ لیکن یہ بات تو سچ ہے کہ اب انھیں اس معاملے میں واضح رائے دی جاتی ہوگی تو بھی نتیجہ اسی طرح نکلتا ہے۔
یہ بات بہت مشکل ہے اس معاملے میں جس پر سارے سیاست دانوں کی توجہ مرکوز ہوئی ہے اور اب وہ آمنے سامنے آ رہے ہیں یہ بات یقینی نہیں کہ وہ سب ان میں متعمدی جھوٹ کے قیمتی گھر میں پھنس سکیں گے یا اس معاملے کو کچھ حقیقی اور مفید جانب بھی لے جائیں گے۔ یہ بات ہمیں یقینی نہیں بناتی کہ اس سے politics کی ایک نئی چال میں قدم رخ دیا گیا ہے اور وہ Politics کو ایک نئی دیکھ سکتے ہیں جس میں پچھلے معاملات کے انٹیلی جنس کو بھی شامل کیا گیا ہے
یہ بات بہت مشکل ہے کہ 18 ویں ترمیم کی صورت حال پر کیا کہنا جائے، ایک طرف پیپلز پارٹی اور پھر دوسری طرف پی ٹی آئی کا یہ بہت واضح اختلافات کا باعث بن رہا ہے، نہیں تو اس میں کسی ایسے معاملے کی صورت حال کو واضع کرنا چاہیے جس سے لوگوں کو یہ سمجھ آئے کہ کیا انھیں بہت زیادہ بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے یا نہیں، کیونکہ اس صورت حال میں لوگوں کو یہ سمجھنے میں کچھ معذور ہو سکتے ہیں اور وہ انھیں یہ سمجھنے میں پوری دلی بھر کر نہیں سکتی، اس لیے وہ لوگ جو ان کے پاس پاور ہے انھوں نے اپنی رائے کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ عوام بھی انھیں سمجھ سکیں کہ یہ وہ انتہائی بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے یا نہیں، کیونکہ ایسے میں لوگوں کو واضع کرنا چاہیے کہ یہ انھیں کس طرح بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے یا نہیں، تاکہ لوگ اس میں اپنی رائے بھی جمع کر سکیں اور وہ لوگ جو انھیں پاور ہے انھوں نے اپنی رائے کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ عوام بھی انھیں سمجھ سکیں۔
تمام وفاقی اقوام متحدہ کی ناکامی کو یہی بھی سمجھنا مشکل ہے کہ ان میں سے کون سی حکومت اور جماعت انھیں تو صوبوں میں باقیات رکھتی ہے یا انھیں بالکل نہیں رکھتی۔ اس صورت حال میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر کی ترمیم کو ایسے اچھے نام سے نہیں دیا جاسکتا جیسے انھوں نے دیا ہے پھر بھی ان کا یہ کہنا کہ اس میں کسی جماعت کا نام شامل نہیں ہوتا بلکہ صوبے کی جانب سے ہی اسے رکھا گیا ہے تو بھی واضح ہے کہ انھوں نے اس کے لئے کچھ اور کہا ہوتا ہے۔
بہت گمرا ہو گیا! اس وقت سے پی پی اور آصف زرداری کی حکومت میں انھوں نے وہی پالیسی رکھی تھی جس پر انھوں نے اپنے انتخاب کے لیے لڑا تھا مگر اب جب پی پی نے اسے واپس لے لیا ہے تو وہی پالیسی آگے بڑھ رہی ہے اور وہی جماعتیں ان کے ساتھ آ رہی ہیں جو اسے پہلے مخالفت کر رہی تھیں۔ مگر یہی نہیں ہو گا اور اگر وہی پالیسی جاری رہتی ہے تو کبھی خواتین کو صدر بننے کی بھی hopes نہیں رہیں گی۔
18 ویں ترمیم سے صوبوں کو زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے لیکن یہی بات اس کے لیے ایک لچک کی جگہ بھی ہو سکتی ہے تاکہ وہ اپنی رائے کو عوام میں वاضح کری سکیں اور انھیں حکومت سے بھی ایسا نہ لگے کہ وہ اچھے لڑائی کا ایک حصہ ہیں بلکہ تمام معاملات میں ذمہ دار ہیں.
اس سلسلے میں میں سوچتا ہوں کہ 18 ویں ترمیم ایک ایسا قدم تھا جو پی پی اور مسلم لیگ کی حکومت کی حکومت نے اپنایا تھا جس پر اب انہوں نے سخت مخالفت شروع کر دی ہے مگر اس سے پتہ چلتا ہے کہ پی پی اور مسلم لیگ کی حکومت نے یہ ترمیم اپنائی تھی تاکہ صوبوں میں زیادہ بااختیار مقامی حکومتوں کو قائم کرنا ہو جس سے وہ اپنی رائے کی تحریک میں ہر سال پچیس کروڑ روپے لگا سکیں اور اپنے وزیر اعلیٰ کو بادشاہ بنا دیں لیکن اب نہیں کہیں انھوں نے صوبائی مقامی حکومتوں کو قائم کرکے منتقل کرنا تھا مگر نہیں کیے گئے ۔
18 ویں ترمیم کا واضح طور پر ان سماجی اور معاشرتی مظالم کو حل کرنے کی پوری نہیں تھی جو آسانی سے پکڑے جاسکتے ہیں اس لئے کے پی کا یہ فیصلہ تو انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اپنے معاشرتی اور سماجی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔