ٹی 20 ورلڈکپ: قومی ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں اترے گی، حکومت کا اعلان

کریئیٹر

Well-known member
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک منفرد موقع اتر رہا ہے۔ حکومت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے متعلق بات چیت کے بعد فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان کی قومی ٹیم بھارت کے خلاف میچ کھیلے گی۔

حکومت نے اپنے ایکس پلیٹ فارم پر ایک بیان جاری کیا ہے جو اس معاملے پر تفصیلی جानकار پیش کررہا ہے۔ میں بھی اس بیان کو دیکھنا چاہتا ہوں گا۔

پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

پاکستان حکومت نے بھارت کے خلاف شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ہمیشہ سے پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی عزت اور کھیل کے تحفظ پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے انura Kamara Dissanaike ،سری لنکا کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور دونوں رہنماؤں کی دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی۔

حکومت پاکستان نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کو کولمبو میں 15 فروری کو شیڈول میچ کھیلنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

حکومت نے اس فیصلے سے متعلق بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے پر بنگلہ دیش کرکٹ کی درخواست کے علاوہ سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی جانب سے کیے گئے رابطوں کا جائزہ لیا ہے۔

جس میں حالیہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے قائدانہ کردار کیRequest کی گئی تھی۔

حکومت نے بنگلہ دیش کرکٹ کے صدر امین الاسلام کی جانب سے شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے کا اظہار تشکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ شانہ بshanہ کھڑا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی شام سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں کی دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی۔

سری لنکن صدر نے موجودہ صورت حال کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے وزیراعظم سے اس معاملے پر سنجیدہ غور و فکر کی درخواست کی۔

حکومت پاکستان نے کثیر ملکی مذاکرات کے نتائج اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 فروری کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے شیڈول میچ میں میدان میں اترے۔

حکومت نے مزید کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور کھیل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ تمام شریک ممالک میں کرکٹ کا فروغ جاری رہے۔

حکومت نے گرین شرٹس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ قومی ٹیم بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں اتر کر ایونٹ میں فتح یاب ہر کر لوٹے گی۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھی پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی_request کی تھی۔

حکومت پاکستان نے اس فیصلے کے مطابق بھی شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 
اس فیصلے سے پہلے ایسے واضع تبادلے خیال ہونے چاہئیں تھے جو اس میچ کے اہمیت کو سمجھانے میں مدد دیتے۔
 
عزیز بھی یہ تو اچھا ہے کہ پاکستان کو ایسا موقع ملا جس پر اس کے کرکٹرز نے اپنا شاندار کارنامہ انجام دینے کی سہولت ملے گی۔ اور یہ تو بھی ٹیلی فون کے ذریعے رہنماؤں کے درمیان گفتگو ہوئی ہے، واضح بات یہ ہے کہ وہ دونوں ساتھ دوستی کر رہے ہیں ، اور یہ بھی کوئی نا کوئی صورت حال جس میں ان کی بھارتی سے ملاقات کا موقع پیدا ہوا تو اسے حل کیا جاسکتا ہے۔
 
بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا ایسا معاملہ پہلا ہو رہا ہے جس پر حکومت نے سارے شعبہ جات سے بات چیت کی ہو اور اب اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا Move ہے کیونکہ قومی ٹیم کو ایسا موقع ملتا ہے جہاں سے وہ اپنی قوت کو پہچان سکیں اور کھیل کے شعبہ میں مزید فائدہ مند کردار ادا کر سکے۔ مین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی قومی ٹیم کو کولمبو میں شانہ بشانہ میچ کھیلنے کی ہدایت کر دی گئی ہے جس سے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کامیابی کیProbability ہوگی۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ ٹیم کی عزت اور کھیل کے تحفظ پر بہت اچھا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک منفرد موقع دیکھ رہی ہے جو ٹیم کی ترقی میں مدد کرسکتا ہے۔
 
اس معاملے میں کوئی حقیقی سوال نہیں ہے، ان تمام ممالک جیسے بنگلہ دیش اور سری لنکا کی جانب سے یہ_REQUEST کی گئی تھی کہ وہاں کے کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف میچ کھیلنا ہو گا ، اس لیے شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ ضروری تھا۔

بھیڑ کی ہوئی دوسری سرگرمیوں سے دور رہنا ضروری ہے اور یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ 15 فروری کو ٹی ٹی و ورلڈ کپ میچ کھیلنے کا فیصلہ ہوا ہے تو اس پر کسی بھی حقیقی بحث نہیں ہوگی

اس سے پہلے یہ بات کتنی جیت کے ہار چuki ہے کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر مجبور کیا گیا تھا، یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ یہ ایک محض سیاسی معاملہ ہے جو کرکٹ کی روایات اور رواداری کے قیام سے خالی نہیں تھا
 
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا یہ فیصلہ ایک اچھا قدم ہوگا، لیکن اس سے قبل کیا جاسکتا تھا؟ حکومت پاکستان کو پہلے بھارت اور ہندوستانی کرکٹ بورڈ کی جانب سے کیا کیا جاتا تھا، اب وہی نہیں کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہوگا۔
 
یہ ایسا لگتا ہے جیسا میں سوچ رہا تھا جواب مل گیا ہے کیوںکہ بھارت سے شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے پر فیصلہ کرنے کے بعد یہ بات آئی ہے کہ اب ایسا ہوگا جو کہیں نہیں سوچا تھا۔ واضح طور پر پاکستان حکومت بھارت سے شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے کے لیے ایک منفرد موقع اتر رہی ہے۔

ہمارے دوسرے ٹیم بھی تھیں جن سے شانہ بشانہ کرکٹ کھیلنے کی درخواست کی گئی تھی جو آج یہ حقیقت ہوگا۔

اس وقت جب میرے پاس ٹی وی چل رہی ہوتی تو میں اسی موضوع پر کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ اور اب آج اس کے لیے ایک منفرد موقع ہے جو میرے لئے بھی ایسا لگ رہا ہے، جو جب میں نے 16 سال سے ٹی وی دیکھا تھا اب وہ اس کے لیے ایک ایسا موقع ہے جو مجھے یقینی بنای رہا ہے۔
 
یہی ماحzia پہلا موقع اٹھر رہا ہے جب Pak cricket team ko bharat ke khilaf match khelna hai. Main bhi yeh dekhna chahta hoon kya unhone kuch proper information di hai.

Pak cricket team ke liye ye ek aisa mukadma hai jismein kai countries ka involvement tha. Bhai, cricket ka hum sab ko pasand hai, lekin yeh bhi zaroori hai ki har country ki aur apni problem resolve kar lijiye.

Maine padhha ki bharat ne pak team ke khilaf match karna hai to ab main socha ki ye ek achha decision tha. Cricket ka sabse important hai hai team ki safety aur respect.

Maine padhna hai ki pak government ne bhi Bharat se match karna hai, yeh bahut achha hai. Yeh cricket ko international level par le ja raha hai.

Yeh bhi suna hai ki Sri Lanka ke president ne Pakistan ke PM sse baat ki thi. Unhone bilkul positive attitude se bati thi. Main socha ki ye ek good signal tha.

Ab aap sabhi ko yeh information mil chuki hui hai, tumhe zaroor khel ka respect karna hona chahiye aur har country ki problem solve karne ki zaroorat hai.
 
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا موقع ملا ہے اور اس کا فائدہ پاکستان کے تمام شعبے کو لینا چاہئے. شانہ بشانہ کرکٹ ایک ساتھ رہنے کی شراکت کو فروغ دینا اچھا ہوگا, ان میں کھلاڑیوں کے علاوہ دیگر تمام لوگوں کے لیے بھی یہ ایک موقع ہوگا.
 
Wow 😎

کولمبو میں 15 فروری کو ایسا کھیلنا دوسرے کھلاڑیوں کی کوششوں سے لازمی نہیں بنتا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہمیشہ اپنی عزت برقرار رکھنے کی جسمانی شان بھی ملے رہے گی۔
 
واپس
Top