ٹی 20 ورلڈ کپ پروموشنل پوسٹر، پاکستانی شائقین کے برسنے کی وجہ سامنے آ گئی

آئی سی سی نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے ٹکٹوں کی فروخت سے تعلق رکھتے ہوئے ایک پوسٹر شائع کیا جس میں پاکستان کا کپتان سلمان علی آغا کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹی20 ورلڈکپ 2026 کا س케چل ہندوستان اور سری لنکا میں ہوگا، جبکہ دنیا بھر کے شائقین کو آج سے ٹکٹ خریدنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اس پر آئی سی سی نے ایک پروموشل پوسٹر جاری کیا جو پاکستان میں شدید تنازع ہونے والا ہے، جس میں بھارت اور سری لنکا کے ٹی20 کپتان کی تصاویر شامل ہیں، مگر پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کی تصویر نمایاڈ طور پر غائب ہے۔

اس پوسٹر کو دیکھتے ہوئے پاکستانی کرکٹ مداحوں نے شدید ردعمل دیا ہے اور آئی سی سی کے رویے کو غیر مناسب اور متعصبانہ قرار دیا ہے۔ شائقین سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید کی بچھاڑ کر رہے ہیں، جو کہ ٹی20 ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ کے تشہیری مواد میں پاکستان جیسے اہم کرکٹ ملک کے کپتان کو نظر انداز کرنا ناقابلِ فہم ہے۔

شائقین کی یہ رائے کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کے کپتان کو ان کے ملک کی نمائندگی کے لیے دیکھا جاتا ہے، اس پر ان کے خلاف تنقید اور عدم محبت کی بڑی تعداد میں رائے دی جا رہی ہے۔

پاکستانی کرکٹ حلقوں نے ایسے لاحظات کیے ہیں کہ آئی سی سی کو مہم میں شامل ممالک کی نمائندگی منصفانہ طریقے سے کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی ملک کے شائقین میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔
 
یہ طاقت ہارنے والی سٹیجنگ مچھلی ہے! آئی سی سی کی جانب سے ایسا سے دیکھنا ناپلิด ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی شوق کرکٹ کے دیکھنے کا ہو تو، کپتان سلمان علی آغا کی صورتحال کو نظر انداز کرنا بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا کہ ان کے ساتھ ہونے والے تنقید میں دیکھ رہے ہیں! یہ تو ٹورنامنٹ کے مشابہ تھیم کے لیے نہیں لگتا جو کہ ایک بڑا عالمی اہمیت کا ایونٹ ہو گا!
 
ایسا تو آئی سی سی کی جانب سےicket کی فروخت کے منصوبے کو ہندوستان اور سری لنکا میں چلائے گا، مگر پاکستان کے شائقین اپنی مہمانزگی کو سمجھنے میں معذول ہیں۔ ٹی20 ورلڈکپ کی مہم کے منصوبے کو بھی ایسا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو پاکستان کے شائقین کو محروما بھگتای۔ آئی سی سی کی جانب سے ٹکٹ فروخت کرنے والوں پر یہ بات کہ ایسے منصوبوں میں پاکستان کے کپتان کو نظر انداز نہیں کیا جائے، تو ایک نئا معاملہ پیدا ہوتا ہے۔
 
ایسے پوسٹر شائع کرنے سے پہلے آئی سی سی کے منصوبے کی پہچان نہیں کرتا، جو کہ ایک بڑے ایونٹ جیسے ٹی20 ورلڈ کپ میں ہوتا ہے۔ شائقین کو ایسا لگتا ہے کہ ان پر دھکہا جارہا ہے اور ان کی نسل کے لحاظ سے بھی ایسا کرنا گیا ہے، جو پوری طرح۔

ٹوٹلی، یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کو اپنے رویے پر دیکھنا چاہئے اور ایسے نہیں کرنا جو کسی ملک کی نمائندگی کرنے والوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
 
اس پوسٹر کی بھرپور تنقید تو قابل قدر ہے, لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ انصاف اور معاونت کا لاکھ رupyے سے بھرنا نہیں چلا۔ آئی سی سی کو پوسٹر بنانے کی فریقیت سے باہم اور کسی ملک کے شائقین کی محرومت سے گریز کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے سڑک پر قدم رکھنے کے طور پر جو ملک کو اس وقت بھرنا پڑتا ہے جب وہ سب کچھ سے غافل ہو رہا ہوتا ہے۔
 
ایسا تو یہ جاننا ٹاز ہوا ہے جو آئی سی سی نے کیا ہے، ہم کھیل کے شائقین ہیں نہ کیٹلوج میں شامل نہیں ہو کر ایک دوسرے کے خلاف تنقید کی جا سکتی ہے، لگتا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ کی تازہ ترین آزادی سے کوئی معاملہ نہیں جو ان پوسٹرز میں دیکھ رہا ہے، ہم کے ملک کی نمائندگی کرنے والوں کو نظر انداز کرنا ٹریفنگ ہے اور ابھی یہ تو پوسٹر نہیں دیکھ رہا تھا مگر ان پر تنقید شروع ہو چکی ہے
 
بھارتی اور سری لنکن ٹی20 کپتانیں کئے جانے والے شخصات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں کرکٹ کی حقیقت کو جھانکنے کے لیے انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ بھی یقینی طور پر دیکھنا چاہئے کہ آئی سی سی نے اس پر غور کر کے کوئی نہ کوئی ایسی کارروائی کی جو ان شائقین میں احساسِ محرومت کے خاتمے کو ترغیب دے۔
 
عقلانیت دیکھیے! 😳 آئی سی سی کو ایسا کیسے کرنا پڑا؟ تھرڈ ورلڈ کی سب سے بڑی کرکٹ میٹھا ہوا تو کیسے بن گے?! ان پر ناکام ہونے والے ہندوستان اور سری لنکا کے ٹی20 کپتانیں دیکھتے ہوئے وہ پاکستان کی نمائندگی کیسے کرنے گئے?! یہ تو پوری بات بے احترام ہے!
 
واپس
Top