پی سی بی نے بنگلا دیش سے ہم آہنگی کی کہانی، جس میں دباؤ کی صورت نہیں
بھارت کے دباؤ سے بچنے کے لیے پی سی بی نے اپنی حمایت کی کہانی شروع کی ہے اور اسی وادی میں بنگلا دیش کو ایک فخر مندرجہ ہے۔
امراعتی قیاس آرائیوں سے نکل کر، پی سی بی نے بتایا کہ یہ فیصلہ صرف ایک ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب بھارت کی جانب سے کوئی دباؤ پکڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔
واضح یہ رہے کہ پی سی بی نے بتایا ہے کہ بنگلا دیش کو اپنی ٹیم کو بھارت سے باہر بنانے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور یہ فیصلہ صرف سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔
امین الاسلام نے بتایا کہ آئی سی سی نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا ہے اور کسی بھی پوائنٹس کی کٹوتی کے بارے میں بھی کوئی جانب سے تعلقات نہیں ہیں۔
امیر الاسلام نے مزید بتایا کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور ان کے ساتھ موقف بنانے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے نئی وینج کا مظاہرہ کرنے پر بھی ان کو یقینی طور پر مشغول ہونے کا موقع مل گيا ہے۔
پی سی بی نے بتایا ہے کہ وہ دیگر بین الاقوامی کرکٹ بورڈز کے ساتھ مل کر اس معاملے کی نگرانی کرے گا اور کسی بھی غیر منصفانہ دباؤ کو ناکام بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔
اس مظاہرے سے یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ پی سی بی بھارت کے دباؤ سے نکلकर اپنے حقوق کی طرف توجہ دے رہا ہے اور یہ جانشین کہ کوئی ایسا دباؤ پکڑنا چاہتا ہے جس سے وہ اپنے حقوق کے ساتھ بہت زیادہ محنت نہ کرسکتا ہو۔
یارو! پچیس سال سے یہ کرکٹ کے میدان میں دباؤ اور تنازعات کی کہانی تھی، اب بھی ایسا ہوا تو نہیں، یہ ایک فخر مندرجہ decision ہے جو بنگلا دیش کو اپنی ٹیم کو باہر بنانے کی مکمل آزادی دی گئی ہے।
امراعتی قیاس آرائیوں سے نکل کر یہ فیصلہ صرف ایک ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب بھارت کی جانب سے کوئی دباؤ پکڑنے کی کوشش کی گئی تھی، اب یہ بھی بات ہے کہ بھارت نے اپنی طرف سے کوئی دباؤ نہیں پکڑا تو اسے ناکام ہونے میں بھی ایسا ہوا ہو گا۔
ٹیموں کے درمیان دباؤ سے محفوظ رہنے کی ضرورت نہیں، کرکٹ ایک sporting activity ہے جو شاندار sportsmanship اور respect پر مبنی ہوتی ہے، اور یہ فیصلہ بھی اس principle پر مبنی ہے۔
اس فیصلے کی طاقت تو پورے دuniya کو اس بات پر توجہ दلاتی ہے کہ پی سی بی اور بنگلا دیش کے درمیان محبت و اقرار کی بھاری کٹائی ہو چکی ہے اور وہ دونوں اپنے حق میں آئے ہیں!
یہ معاملہ میں ایک اور بات تھی کیونکہ اس کے بعد ابھی پہلے ہی بنگال دیش کو کرکٹ ٹیم سے باہر نہیں کر دیا گیا تو اب یہ معاملہ دباؤ پر بڑھتا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اسی وجہ سے پی سی بی نے اس فیصلے کو لیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی طرف توجہ دے رہا ہے اور ابھی تک بھارت نے کرکٹ ٹیم سے باہر بنگلہ دیش کو نہیں کیا تو اس معاملے میں ایسا فیصلہ کرنا عام ہوتا کہ اس میں کسی ایک کی بھی جانب سے کوئی دباؤ پکڑنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو پی سی بی کی حمایت اور ایک فخر مندرجہ قرار دینا بہت ممتاز ہے! انھیں اپنی آزادی مل چکی ہے اور یہ فیصلہ صرف سیکیورٹی خدشات پر ہی نہیں لیا گیا بلکہ انھیں دوسرے ملکوں کے دباؤ سے بچنے کی ضرورت تھی!
اب جب پہلے انھوں نے یہ فیصلہ لیا ہوتا تو پی سی بی کے واضع بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی جانب سے کوئی دباؤ پکڑنے کی کوشش کی گئی تھی! لیکن اب وہ پی سی بی اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک تعلقات کی پہچان کر آئی ہیں اور انھوں نے اپنی ٹیم کو فخر سے مندرجہ کر دیا ہے!
آئی سی سی کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور کسی بھی پوائنٹس کی کٹوتی سے تعلقات نہیں رکھتے!
اب جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم کو یہ فخر ملانے کی کوشش کررہا ہے تو پی سی بی انھیں یقینی طور پر تعاون سے لطف اندوز کر رہی ہے اور اس معاملے کی نگرانی کرنے کے لیے واضع بیان کررہی ہے!
اس مظاہرے سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پی سی بی بھارت کے دباؤ سے نکلकर اپنے حقوق کی طرف توجہ دے رہا ہے اور انھیں یقینی طور پر مل چuka ہے کہ وہ اپنے حقوق کو محفوظ رکھ سکتے ہیں!
امراعتی دباؤ کو دور کرنا چاہیے... پی سی بی نے بنگلا دیش سے اپنے معاشرے میں ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اگر کسی ٹیم کو بھارت کے خلاف بہتر موقف بنانے کی ضرورت ہو تو، انہیں خود بھی اپنی بہتری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اور پچھلے سات سالوں میں بین الاقوامی کرکٹ بورڈز نے کیا ہوا اس پر جواب دینا چاہیے۔
یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ پی سی بی نے اپنی جانب سے ایسے لوگوں کی مدد کی ہے جو بھارت سے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی خود کشوں کی وجہ سے آگ لگنے والے مظاہرے ہونے پر بھی انھوں نے اپنی جانب سے یقینی طور پر مشغول ہونے کا موقع دیا ہے۔ اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے ان کی پوری مدد اور مدد دेनے کی کوشش ہو رہی ہے
یہ سچ ہے کہ پی سی بی نے بنگلا دیش کو ایک فخر مندرجہ کر دیا ہے اور یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ لیکن کیا اس معاملے میں صرف سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انھوں نے فیصلہ لیا? یہ بات بھی چیلنجنگ ہے کہ دیگر بین الاقوامی کرکٹ بورڈز کو اس معاملے کی نگرانی کرنا چاہیے اور کسی بھی غیر منصفانہ دباؤ کو ناکام بنानے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔
ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے یہ فیصلہ بھارت کے دباؤ سے باہر کیا گیا تھا اور اب وہ اپنے حقوق کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ اس سے ہمیں یقینی طور پر محسوس ہوتا ہے کہ پی سی بی اپنی جانب سے سب کچھ کر رہا ہے اور اب وہ کسی بھی دباؤ سے باہر ہیں۔
ایسا لگ رہا ہے کہ پی سی بی نے یہ فیصلہ اپنے حقوق کی طرف سے آتے ہوئے دباؤ سے بچنے کے لیے لیا ہے اور اب وہ اپنی آزادی حاصل کر رہا ہے۔
امراعتی دباؤ کو ناکام بنانے کی یہ پھرکی کوشش کافی دلچسپ ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پی سی بی اپنی عزت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اب وہ اپنے حقوق کی طرف توجہ دے رہا ہے۔
یہ جانشین ہے کہ پی سی بی نے اپنی آزادی حاصل کر لی ہے اور اب وہ اپنے فیصلے پر کھڑے ہونے کا مطالبہ کر رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بہت دلچسپ اور انتہائی اہم فیصلہ ہے۔
یہ دھڑكانا ایسا ہوا ہے جیسا پہلے اسے کبھی سونا چاہتے تھے اور اب وہی مٹا رہا ہے، پی سی بی کو یہ بات مل گئی ہے کہ وہ اپنے دیرپے اور معاشرتی حقوق کا احتساب کرنا چاہتا ہے اور نہیں کہ کسی ایسے بھارت کو اپنے دباؤ سے کبھر کیا جائے جو انہیں ایسی پوزیشن پر رکھتا ہے۔
اس مظاہرے کی یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ پی سی بی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہا ہے اور نہیں کہ کسی ایسے دباؤ سے پکڑی جا سکے جو اس کے معاشرتی اور معاشی حقوق کو جھٹکے چھوڑ کر رکھے۔
اس کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ موثر طریقے سے جدوجہد کریے اور کسی ایسے دباؤ کو پکڑنے میں نہیں ہو جس سے وہ اپنی خودمختاری کے ساتھ بہت زیادہ محنت نہ کر سکے۔
اس مظاہرے کی یہ بات اس بات کا ایک شہرہ ہے جو پی سی بی کو ایسی پوزیشن پر رکھتا ہے جس سے وہ اپنے حقوق اور معاشرتی لازمیات کی طرف اگے بڑھ سکے۔