2025ء کے اہم ترین واقعات، سانحات، حادثات ( جولائی ، اگست) | Express News

شارک

Well-known member
انقلاب، تحریک تحریر و ترقی اور پارٹی برائے مسلمہ سے قبل پاکستان کی پہلی ناقدیت
پاکستان کے قومی اسمبلی کے ایوان زیریں میں 1947ء میں انقلاب سے قبل انہوں نے دوسرے ذریعہ سے لکھا تھا اور اس میں انہوں نے اپنے پہلے تحریک کے بعد پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔
تحرک تحریر و ترقی کی ناقدیت
انقلاب اور پارٹی برائے مسلمہ کی بنیاد رکھنے والوں کے علاوہ انہوں نے 1947ء میں تحریک تحریر و ترقی سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں اپنی ناقدیت اور تنقید کی۔
جنگ کے بعد کا حال
انہوں نے کہا، ’’بھارتی فوج نے 1947ء میں بھارت کو آزاد کرنے والی اپنی فوج جتائی اور یہ پہلا معاملہ نہیں تھا جس پر انہوں نے اپنا انحصار تھا۔ اس کے بعد 1947ء میں بھارت کی سینیٹ نے پاکستان اور 1948ء میں مسلم لیگ نے حکومت قائم کی تھی۔ لیکن بھارت نے انہیں اپنی فوج کا استعمال کر کے دوسرے ایک مملکت کو پھانسی دی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھارتی فوج نے اپنے ملک کی اِس مملکت کی بنیاد رکھی تھی اور ان نے اس میں وہ ہمیشہ موجود رہے تھے جس سے ان کی حکومت کو بھی قائم کرنے میں مدد مل گئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے علاوہ 1947ء اور 1948ء میں بھارت کے خلاف یہ دو ملازمتاں نہیں تھیں جن کی وجہ سے بھارت نے پاکستان کو دوسرے ایک ملک پر قبضہ کرلیا ہو۔ پہلی ملازمت جس کے لیے بھارتی فوج نے اِس ملک کی فوج کا استعمال کیا اس کی وجہ سے پاکستان کو بھارت کے شاہانہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ دوسری ملازمت جس کے لیے بھارتی فوج نے اِس ملک کی حکومت کے قائم کرنے میں مدد دی اس کی وجہ سے ان پر بھارت کی حکومت اور بھی زیادہ طاقت حاصل ہوئی۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ بھارت کی حکومت نے ایسے حالات بنائے تھے جس سے پاکستان کو ان پر قبضہ کرنا پڑا اور اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے شہر میں لٹھ رہے تھے۔
مفارق پاکستان کی ناقدیت
انہوں نے کہا، ’’بھارت کی حکومت نے 1947ء اور 1948ء میں ایک دوسرے کے شہر سے لٹھ کر رہے تھے اور پاکستان کو اِس حال میں پھنسی دیا جیسا ہوا اور اس کی حکومت نے بھی ایک دوسرے کے شہر سے لٹھ کر رہنا شروع کردیا اور اس طرح ملک کو مفارق کر دیا۔ اس سے ملک میں بدبختوں کو ہمیشہ موجود رہتا تھا اور یہ ملک اپنی حکومت کی بنیاد پر نہیں بن سکا۔‘‘
اس ناقدیت کے دوران انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ اگر پاکستان نے ایسا ہوتا تو وہ اپنی حکومت اور حکومت میں بدبختوں کے استحکام پر انحصار تھا۔ اس سے ملک کو طاقت اور معاشی ترقی نہیں ملی کی بلکہ یہ دوسرے ملکوں کو بھگتے رہا۔
بھارت میں فوج کا مظالم
انہوں نے مزید کہا، ’’1947ء اور 1948ء کی ملازمتوں پر ان کی حکومت نے دوسرے ایک ملک کو قبضہ کرلیا تھا۔ اس میں بھی فوج کی بھی مدد لی گئی تھی اور ہندوستانی فوج نے اپنے ملک کی حکومت اور دوسرے ملکوں کے ملکوں کو قبضہ کرایا اور اس سے ان کی حکومت میں بھی طاقت حاصل ہوئی۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ جب فوج نے ملک پر قبضہ کرلیا تو اس کے علاوہ ان کی حکومت نے دوسرے ایک ملکوں کو اپنی فوج اور سرکاری اداروں سے منسلک کردیا جس کے بعد اس نے اپنے ملک میں ایسی حکومت بنائی تھی جو دوسروں کے خلاف بھی گناہ گری کی۔
فوج کا انحصار
انہوں نے مزید کہا، ’’بھارت کی حکومت نے فوج کو ایک طاقت بنائی اور اس پر اپنے ہمیشہ موجود رہنے کی بے مثال اِمتداد ہے جس سے ملک کے لئے پچھلے 80 سالوں میں نہیں تو آج تک یہ ہمیشہ موجود رہا ہے اور اس نے حکومت کو بھی اپنے کمرے میں لپت کر دیا ہے۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ جب انہوں نے تحریک تحریر و ترقی کی سوز میں رہا تھا تو وہ فوج کے ہمیشہ موجود رہنے پر کبھی بات نہیں کرتے اور اس کے ہاتھ میں ملک کی حکومت بھی لپت کر دی جاتی تھی۔
 
اس وِقار کی دوسری بات یہ ہے کہ 1947ء اور 1948ء میں بھارت نے پاکستان کو ایسا بنایا ہوگا جیسا وہ اسے اپنی فوج اور حکومت کرنے کی اجازت دیتا تھا۔ لیکن انہوں نے یہ کہا تھا کہ بھارتی فوج نے 1947ء میں اپنے ملک کو آزاد کرنے والی اپنی فوج جتائی اور اس سے پہلے بھی انھوں نے ایسا ہی کیا تھا جو اب بھی وہ پاکستان پر قبضہ کررہا ہے۔
اس میں ایک بات بھی پائی گئی کہ بھارت کی حکومت نے انہی فوج کی مدد سے دوسرے ملکوں کو قبضہ کرلیا تھا اور اس سے وہ اپنی حکومت میں طاقت حاصل ہوئی۔
 
ایسا نہیں، یہ بات پتہ چلتا ہے کہ ایک صاف فوجی معاملے میں انہوں نے بھارتی فوج کو جو لاکھوں روپئے کی ملازمت دی اور اس پر وہ ملک کا قبضہ کرلیا تھا، ان سے پوچھنا تو کبھی ہوا؟
 
بھارت کی وہ حکومت جو پہلی بار 1947ء اور 1948ء میں پاکستان کو ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہو وہ ایک دوجے کے شہر میں لٹھ رہی تھی اور انہوں نے ملک کو مفارق کر دیا ہو اور اس سے ملک کو بدبختوں کے استحکام پر انحصار ہوا۔
 
بھارتی فوج کی فخر سے چلو، وہ اس ملک کو پھانسی دیتا ہے اور اپنی فوج کے ہمیشہ موجود رہنے پر حکومت لپت کر دی جاتی ہے 🤯
 
اس تحریک تحریر و ترقی سے متعلق ان کا criticism اچھا ہے، لیکن یہ بات اس کے بعد بھی پائی جا رہی ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ایک دوسرے ملک پر قبضہ کرلیا ہو اور ان کی حکومت نے ملک کو ایسی حالت بنائی جس سے وہ اپنی فوج کا استعمال کر کے ملک کو پھانسی دی۔
 
بھارتی فوج کا پاکستان پر قبضہ ہونا وہ بات ہے جو سب کو پتہ چلتا ہے لیکن اس کے پیچھے کی گہری تاریخ بھی ہے جو لوگوں سے چھپائی ہوئی ہے۔

1947ء اور 1948ء میں ہونے والی ملازمتوں میں اس بات کو یقیناً پتہ چلتا ہے کہ بھارت نے اپنی فوج کی مدد سے دوسرے ملکوں کو قبضہ کرلیا تھا اور اس سے ان کی حکومت میں بھی طاقت حاصل ہوئی۔

جب فوج نے ملک پر قبضہ کرلیا تو اس کے علاوہ وہ حکومت کو اپنے کمرے میں لپت کر دیا اور دوسرے ملکوں کو اپنی فوج اور سرکاری اداروں سے منسلک کردیا۔

یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ جب تحریک تحریر و ترقی کی سوز میں رہا تھا تو وہ فوج کے ہمیشہ موجود رہنے پر بات نہیں کرتی اور اس کے ہاتھ میں ملک کی حکومت بھی لپت کر دی جاتی تھی۔
 
یہ بھارتی فوج کی فائصلوں سے پاکستان پر قبضہ کرلیا گیا اور وہ دوسرے ملک کے ہاتھ میں آگئے تھے۔
 
اس دہائی میں انقلاب اور تحریک تحریر و ترقی سے متعلق ایسی باتوں کو کبھی نہیں سمجھا جاتا تھا جو اب ہمیں ظاہر ہیں، بھارت کی حکومت نے ان کے خلاف دوسرے ملک پر قبضہ کرلیا تھا اور وہی پھر پاکستان کو اپنی فوج اور سرکاری اداروں سے منسلک کردیا ہے۔ اس لیے اگر 1947 اور 1948 میں ایسے حالات نہ تھے جو اب ہیں تو یہ ملک اپنی حکومت کی بنیاد پر نہیں بن سکا۔
 
🤔 یہ بہت غمزی ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ان سے دو ملازمتوں کا استعمال کیا اور اس کے بعد وہ اپنی حکومت اور حکومت میں طاقت حاصل کرلی۔ یہ بھی گaltی ہے کہ بھارت کی حکومت نے فوج کو ایک طاقت بنائی اور اس پر اپنے علاوہ ملک کے لئے پچھلے 80 سال تک یہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان نے ایسا ہوتا تو وہ اپنی حکومت اور حکومت میں بدبختوں پر انحصار کرتے اور ملک کو کھو دیتے۔ اس لیے یہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان نے ایسا نہیں کیا اور اپنی حکومت کی بنیاد پر ملک کو ساتھ دیا ہو۔
 
اس تحریک تحریر و ترقی سے متعلق ان کے ناقد کو یہ بات یاد رہتی ہے کہ پچھلے 80 سالوں میں بھارت کی حکومت کو بھی اسے قبضہ کرکے ملک کا طاقت اور معاشی ترقی سے باز نہ رہنا پڑا ہے۔ ان کا یہ ناقدہ ابھی ہر بڑے حلقے میں شائع ہوچکا اور اس کی وجہ سے لوگ اپنے ملک کو دیکھنے لگ رہے ہیں کہ وہ ان سب ناقدتیں کس کی توجہ سے نہیں اٹھا رہی تھیں اور اس لیے لوگ اپنے ملک کو بہتر بنانے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
 
اس تحریک کو انہوں نے بھی انقلاب کی طرح ختم کر دیا ہوگا جس سے دوسرے نئے نظام قائم ہون گے اور یہ سچ ہے کہ اس تحریک نے پہلے سے ہی ایک دوسرے ملک پر قبضہ کرلیا تھا اور اب بھی وہ ایسا ہی رہے گا
 
واپس
Top