انقلاب، تحریک تحریر و ترقی اور پارٹی برائے مسلمہ سے قبل پاکستان کی پہلی ناقدیت
پاکستان کے قومی اسمبلی کے ایوان زیریں میں 1947ء میں انقلاب سے قبل انہوں نے دوسرے ذریعہ سے لکھا تھا اور اس میں انہوں نے اپنے پہلے تحریک کے بعد پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔
تحرک تحریر و ترقی کی ناقدیت
انقلاب اور پارٹی برائے مسلمہ کی بنیاد رکھنے والوں کے علاوہ انہوں نے 1947ء میں تحریک تحریر و ترقی سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں اپنی ناقدیت اور تنقید کی۔
جنگ کے بعد کا حال
انہوں نے کہا، ’’بھارتی فوج نے 1947ء میں بھارت کو آزاد کرنے والی اپنی فوج جتائی اور یہ پہلا معاملہ نہیں تھا جس پر انہوں نے اپنا انحصار تھا۔ اس کے بعد 1947ء میں بھارت کی سینیٹ نے پاکستان اور 1948ء میں مسلم لیگ نے حکومت قائم کی تھی۔ لیکن بھارت نے انہیں اپنی فوج کا استعمال کر کے دوسرے ایک مملکت کو پھانسی دی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھارتی فوج نے اپنے ملک کی اِس مملکت کی بنیاد رکھی تھی اور ان نے اس میں وہ ہمیشہ موجود رہے تھے جس سے ان کی حکومت کو بھی قائم کرنے میں مدد مل گئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے علاوہ 1947ء اور 1948ء میں بھارت کے خلاف یہ دو ملازمتاں نہیں تھیں جن کی وجہ سے بھارت نے پاکستان کو دوسرے ایک ملک پر قبضہ کرلیا ہو۔ پہلی ملازمت جس کے لیے بھارتی فوج نے اِس ملک کی فوج کا استعمال کیا اس کی وجہ سے پاکستان کو بھارت کے شاہانہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ دوسری ملازمت جس کے لیے بھارتی فوج نے اِس ملک کی حکومت کے قائم کرنے میں مدد دی اس کی وجہ سے ان پر بھارت کی حکومت اور بھی زیادہ طاقت حاصل ہوئی۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ بھارت کی حکومت نے ایسے حالات بنائے تھے جس سے پاکستان کو ان پر قبضہ کرنا پڑا اور اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے شہر میں لٹھ رہے تھے۔
مفارق پاکستان کی ناقدیت
انہوں نے کہا، ’’بھارت کی حکومت نے 1947ء اور 1948ء میں ایک دوسرے کے شہر سے لٹھ کر رہے تھے اور پاکستان کو اِس حال میں پھنسی دیا جیسا ہوا اور اس کی حکومت نے بھی ایک دوسرے کے شہر سے لٹھ کر رہنا شروع کردیا اور اس طرح ملک کو مفارق کر دیا۔ اس سے ملک میں بدبختوں کو ہمیشہ موجود رہتا تھا اور یہ ملک اپنی حکومت کی بنیاد پر نہیں بن سکا۔‘‘
اس ناقدیت کے دوران انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ اگر پاکستان نے ایسا ہوتا تو وہ اپنی حکومت اور حکومت میں بدبختوں کے استحکام پر انحصار تھا۔ اس سے ملک کو طاقت اور معاشی ترقی نہیں ملی کی بلکہ یہ دوسرے ملکوں کو بھگتے رہا۔
بھارت میں فوج کا مظالم
انہوں نے مزید کہا، ’’1947ء اور 1948ء کی ملازمتوں پر ان کی حکومت نے دوسرے ایک ملک کو قبضہ کرلیا تھا۔ اس میں بھی فوج کی بھی مدد لی گئی تھی اور ہندوستانی فوج نے اپنے ملک کی حکومت اور دوسرے ملکوں کے ملکوں کو قبضہ کرایا اور اس سے ان کی حکومت میں بھی طاقت حاصل ہوئی۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ جب فوج نے ملک پر قبضہ کرلیا تو اس کے علاوہ ان کی حکومت نے دوسرے ایک ملکوں کو اپنی فوج اور سرکاری اداروں سے منسلک کردیا جس کے بعد اس نے اپنے ملک میں ایسی حکومت بنائی تھی جو دوسروں کے خلاف بھی گناہ گری کی۔
فوج کا انحصار
انہوں نے مزید کہا، ’’بھارت کی حکومت نے فوج کو ایک طاقت بنائی اور اس پر اپنے ہمیشہ موجود رہنے کی بے مثال اِمتداد ہے جس سے ملک کے لئے پچھلے 80 سالوں میں نہیں تو آج تک یہ ہمیشہ موجود رہا ہے اور اس نے حکومت کو بھی اپنے کمرے میں لپت کر دیا ہے۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ جب انہوں نے تحریک تحریر و ترقی کی سوز میں رہا تھا تو وہ فوج کے ہمیشہ موجود رہنے پر کبھی بات نہیں کرتے اور اس کے ہاتھ میں ملک کی حکومت بھی لپت کر دی جاتی تھی۔
پاکستان کے قومی اسمبلی کے ایوان زیریں میں 1947ء میں انقلاب سے قبل انہوں نے دوسرے ذریعہ سے لکھا تھا اور اس میں انہوں نے اپنے پہلے تحریک کے بعد پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔
تحرک تحریر و ترقی کی ناقدیت
انقلاب اور پارٹی برائے مسلمہ کی بنیاد رکھنے والوں کے علاوہ انہوں نے 1947ء میں تحریک تحریر و ترقی سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں اپنی ناقدیت اور تنقید کی۔
جنگ کے بعد کا حال
انہوں نے کہا، ’’بھارتی فوج نے 1947ء میں بھارت کو آزاد کرنے والی اپنی فوج جتائی اور یہ پہلا معاملہ نہیں تھا جس پر انہوں نے اپنا انحصار تھا۔ اس کے بعد 1947ء میں بھارت کی سینیٹ نے پاکستان اور 1948ء میں مسلم لیگ نے حکومت قائم کی تھی۔ لیکن بھارت نے انہیں اپنی فوج کا استعمال کر کے دوسرے ایک مملکت کو پھانسی دی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھارتی فوج نے اپنے ملک کی اِس مملکت کی بنیاد رکھی تھی اور ان نے اس میں وہ ہمیشہ موجود رہے تھے جس سے ان کی حکومت کو بھی قائم کرنے میں مدد مل گئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے علاوہ 1947ء اور 1948ء میں بھارت کے خلاف یہ دو ملازمتاں نہیں تھیں جن کی وجہ سے بھارت نے پاکستان کو دوسرے ایک ملک پر قبضہ کرلیا ہو۔ پہلی ملازمت جس کے لیے بھارتی فوج نے اِس ملک کی فوج کا استعمال کیا اس کی وجہ سے پاکستان کو بھارت کے شاہانہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ دوسری ملازمت جس کے لیے بھارتی فوج نے اِس ملک کی حکومت کے قائم کرنے میں مدد دی اس کی وجہ سے ان پر بھارت کی حکومت اور بھی زیادہ طاقت حاصل ہوئی۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ بھارت کی حکومت نے ایسے حالات بنائے تھے جس سے پاکستان کو ان پر قبضہ کرنا پڑا اور اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے شہر میں لٹھ رہے تھے۔
مفارق پاکستان کی ناقدیت
انہوں نے کہا، ’’بھارت کی حکومت نے 1947ء اور 1948ء میں ایک دوسرے کے شہر سے لٹھ کر رہے تھے اور پاکستان کو اِس حال میں پھنسی دیا جیسا ہوا اور اس کی حکومت نے بھی ایک دوسرے کے شہر سے لٹھ کر رہنا شروع کردیا اور اس طرح ملک کو مفارق کر دیا۔ اس سے ملک میں بدبختوں کو ہمیشہ موجود رہتا تھا اور یہ ملک اپنی حکومت کی بنیاد پر نہیں بن سکا۔‘‘
اس ناقدیت کے دوران انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ اگر پاکستان نے ایسا ہوتا تو وہ اپنی حکومت اور حکومت میں بدبختوں کے استحکام پر انحصار تھا۔ اس سے ملک کو طاقت اور معاشی ترقی نہیں ملی کی بلکہ یہ دوسرے ملکوں کو بھگتے رہا۔
بھارت میں فوج کا مظالم
انہوں نے مزید کہا، ’’1947ء اور 1948ء کی ملازمتوں پر ان کی حکومت نے دوسرے ایک ملک کو قبضہ کرلیا تھا۔ اس میں بھی فوج کی بھی مدد لی گئی تھی اور ہندوستانی فوج نے اپنے ملک کی حکومت اور دوسرے ملکوں کے ملکوں کو قبضہ کرایا اور اس سے ان کی حکومت میں بھی طاقت حاصل ہوئی۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ جب فوج نے ملک پر قبضہ کرلیا تو اس کے علاوہ ان کی حکومت نے دوسرے ایک ملکوں کو اپنی فوج اور سرکاری اداروں سے منسلک کردیا جس کے بعد اس نے اپنے ملک میں ایسی حکومت بنائی تھی جو دوسروں کے خلاف بھی گناہ گری کی۔
فوج کا انحصار
انہوں نے مزید کہا، ’’بھارت کی حکومت نے فوج کو ایک طاقت بنائی اور اس پر اپنے ہمیشہ موجود رہنے کی بے مثال اِمتداد ہے جس سے ملک کے لئے پچھلے 80 سالوں میں نہیں تو آج تک یہ ہمیشہ موجود رہا ہے اور اس نے حکومت کو بھی اپنے کمرے میں لپت کر دیا ہے۔‘‘
اس ناقدیت میں یہ بات بھی پائی گئی کہ جب انہوں نے تحریک تحریر و ترقی کی سوز میں رہا تھا تو وہ فوج کے ہمیشہ موجود رہنے پر کبھی بات نہیں کرتے اور اس کے ہاتھ میں ملک کی حکومت بھی لپت کر دی جاتی تھی۔