ان سال کا بھی ایسا مشن تھا جو محض وٹ یا مفاہمت پر مبنی نہ تھا بلکہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاری اور تنظیم کی ضرورت تھی۔
2025 ایک سال تھا جس میں شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار ہر سطح پر مسلمانوں نے کسی نہ کسی “قانونی دائرے” میں مقید رہے۔ وہ سال جبچیلوں کے لیے ایک اور بھی پریشانی کی سر گرمیاں ہوئیں، جبکہ مسلم سیاسی قیادت اپنے درمیان تو گارے لگا کر دھمکیوں پر چل رہی تھی۔
پوری سطح پر ایسے مظالم سامنے آئے جس سے مسلمانوں نے اپنی نہایت صحت اور انتہا کے ساتھ مزاحمت کی۔ ان مظالم میں کارروائی، مذہبی دباؤ، قانونی کیسز، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار شامل تھے۔
مگر 2025 بھارت کے مسلمانوں کو پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم عرصے کی عارضی اور منفی پہچان دیتا ہے۔ 2025 میں شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار کو ایسی نوعیت دی گئی جس سے مسلمانوں نے کہا کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کی طرف بڑھتے چل رہے ہیں، مگر اس عمل کو پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم عرصے کی پہچان دیتے ہوئے نہیں رہتے۔
2025 ایک سال تھا جس میں بھارت میں مختلف سطحوں پر تشدد کم دیکھا گیا، مگر اس کے باوجود مسلمانوں کو وہ عرصہ ملا جس سے وہ اپنی تحفظ اور اقتدار کی طرف بڑھ سکیں۔
2025 میں شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار کو ایسی نوعیت دی گئی جس سے مسلمانوں نے کہا کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کی طرف بڑھتے چل رہے ہیں، مگر اس عمل کو پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم عرصے کی پہچان دیتے ہوئے نہیں رہتے۔
یہ سال Muslims کو 2025 کے نام سے اپنی جدوجہد کی طرف بڑھنے کی ایک نئی مہم میں شامل ہوئا۔ اس سال پوری دنیا میں Muslim politics پر فोकس تھا۔ اس سال کی Politics میں مسلمانوں کے لیے زیادہ تر کھوئی گئی۔
2025 ایک سال تھا جس میں شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار ہر سطح پر مسلمانوں نے کسی نہ کسی “قانونی دائرے” میں مقید رہے۔ وہ سال جبچیلوں کے لیے ایک اور بھی پریشانی کی سر گرمیاں ہوئیں، جبکہ مسلم سیاسی قیادت اپنے درمیان تو گارے لگا کر دھمکیوں پر چل رہی تھی۔
پوری سطح پر ایسے مظالم سامنے آئے جس سے مسلمانوں نے اپنی نہایت صحت اور انتہا کے ساتھ مزاحمت کی۔ ان مظالم میں کارروائی، مذہبی دباؤ، قانونی کیسز، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار شامل تھے۔
مگر 2025 بھارت کے مسلمانوں کو پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم عرصے کی عارضی اور منفی پہچان دیتا ہے۔ 2025 میں شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار کو ایسی نوعیت دی گئی جس سے مسلمانوں نے کہا کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کی طرف بڑھتے چل رہے ہیں، مگر اس عمل کو پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم عرصے کی پہچان دیتے ہوئے نہیں رہتے۔
2025 ایک سال تھا جس میں بھارت میں مختلف سطحوں پر تشدد کم دیکھا گیا، مگر اس کے باوجود مسلمانوں کو وہ عرصہ ملا جس سے وہ اپنی تحفظ اور اقتدار کی طرف بڑھ سکیں۔
2025 میں شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار کو ایسی نوعیت دی گئی جس سے مسلمانوں نے کہا کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کی طرف بڑھتے چل رہے ہیں، مگر اس عمل کو پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم عرصے کی پہچان دیتے ہوئے نہیں رہتے۔
یہ سال Muslims کو 2025 کے نام سے اپنی جدوجہد کی طرف بڑھنے کی ایک نئی مہم میں شامل ہوئا۔ اس سال پوری دنیا میں Muslim politics پر فोकس تھا۔ اس سال کی Politics میں مسلمانوں کے لیے زیادہ تر کھوئی گئی۔