آئی ایم ایف کی اسٹاف کنٹری رپورٹ جاری، پاکستان کے اہم معاشی اعشاریے سامنے آ گئے

طلائی مچھلی

Well-known member
پاکستان میں آئی ایم ایف کی اسٹاف کنٹری رپورٹ جاری ہوئی ہے، جس کے مطابق موجودہ مالی سال اور آئندہ سال کی معاشی کارکردگی، مہنگائی، روزگار اور بیرونی کھاتوں سے متعلق مفصل تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق موجودہ مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے نمایاڤ طور پر کم ہے۔ اس میں گزشتہ مالی سال کی معاشی شرح نمو 3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ آئی ایم ایف کو یہ بھی مشورہ کیا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال پاکستان کی معاشی نمو میں بہتری کی امید ہے اور جی ڈی پی گروتھ 4.1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رواں مالی سال اوسط مہنگائی 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو مقررہ حکومتی ہدف سے کم ہے۔ آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ مالی سال مہنگائی میں دوبارہ اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے 7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کو یہ بھی مشورہ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.6- فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ مالی سال اس میں مزید بہتری کی امید ہے اور خسارہ 0.4- فیصد تک سکڑ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کو یہ بھی مشورہ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی واقع ہوگی، جبکہ آئندہ مالی سال بیروزگاری 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 8 فیصد کے مقابلے میں بہتری ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے حوالے سے مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال ذخائر بڑھ کر 17 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال مزید بہتری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور ذخائر 23 ارب 30 کروڑ ڈالر تک جانے کی امید ہے۔
 
🤐اس معیشت میں بھی کچھ نئی باتें ہیں... جواب دہاں سے پاکستان کی معاشی نمو، مہنگائی اور روزگار کے بارے میں یہ تخمینے بہت اہم ہیں۔ اگر ان تخمینوں پر عمل کیا جائے تو یقیناً معیشت میں تبدیلی آئے گی۔
 
پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق یہ رپورٹ کچھ منفی لہریں لے رہی ہے... 3.2 فیصد کی معاشی نمو کی توقع ہے، جو حکومت کی 4.2 فیصد ہدف سے کافی کم... اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی معیشت ابھی بھی کچھ problem رکھتی ہے... 😕
 
پاکستان میں معاشی شق کے بارے میں یہ رپورٹ بہت گھناسینہ دکھائی دے رہی ہے. اگرچہ حکومت کے ہدف 4.2 فیصد کی پابندی ہے لیکن اس میں 3.2 فیصد کی معاشی نمو کی توقع ہے. یہ بھی ہے کہ آئندہ سال جی ڈی پی گروتھ 4.1 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو ایک بہتر نتیجہ ہوگا.

مہنگائی کی توقع 6.3 فیصد کی ہے جو goverment کے ہدف سے کم ہے، مگر آئندہ سال اس میں اضافے کا خطرہ بھی ہے. اس نے کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارہ جی ڈی پی کے 0.6-فیصد تک محدود رکھنے اور بیروزگاری کی شرح میں کمی واقع کرنے کو مشورہ دیا ہے.

ذخائر کی طرف سے یہ رپورٹ بھیPositive لگی دکھائی دے رہی ہے.

اس پر نظر انداز نہیں کرتا کہ ان پابندیوں اور مشوروں سے اس معاشی شق کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے.
 
اس سے بھی توجہ دیرے کیا جائے اسٹAFF کنٹری رپورٹ میں پیش کردہ تخمینوں پر یہ بات کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں کہ آج بھی پاکستان کی معاشیات سے متعلق اسی طرح کے تخمینے پیش کرنا جاری رہا ہے، یہ ایک روایت ہے، لگتا ہے ڈیٹا پر یقین کیا نہیں جاتا ہے؟ اور یہ بھی بات کوئی دیکھ نہیں رہی ہے کہ مہنگائی کی پیش گوئی میں سے اس حد تک 7 فیصد تک پہنچنا ایک بڑا خطرہ ہے، اس پر آپ کیسے یقین کرتے ہیں؟
 
یہ بھی پتا ہوا کہ پاکستان کی معیشت میں بہت سی چیلنجز ہیں، لیکن یہ بات تو صحت مند ہے کہ جی ڈی پی گروتھ 4.1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے اور ذخائر میں بھی مزید بہتری کا امکان ہے 🤞
 
پاکستان کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہی جیتنے والے ایک چیلنجنگ بات یہ ہے کہ مہنگائی میں کمی کی پابندی پر ایسا کیسے کیا جائے؟ آئی ایم ایف کے مطابق وہ اسے بھی بھیڑ دیکھ رہے ہیں جو وہی ہیں، پتا لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی میں کمی کی گنجائش ہوسکتی ہے۔
 
اس ٹیکس دوری پر بھی بات چیت نہیں ہوسکتی ہے، مگر آئی ایم ایف کا مشورہ ہے کہ جی ڈی پی گروتھ تین فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن دیکھنی چاہئے کہ اس میں توسیع کی کوئی آسازش نہیں کی گئی، ابھی بھی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے یہ منظر پیش کیا ہے کہ وہ بھی چاہتے ہیں آؤٹ پوزیشن کو کم کرکے ملکی معاشی نمو کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کا ایسا توziح نہیں کرنا ہوگا جو ہمارے ملک کی معاشی صورتحال کو واضع کرتا ہو اور پھر اس پر مبنی مشورے دیتا ہے۔
 
یہ خبر بہت مشقور ہوگی کہ پاکستان کا معاشی نمو 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے اور جی ڈی پی گروتھ 4.1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے! یہ بھی جیت کا سندبہ ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی میں کمی واقع ہوگی اور آئندہ مالی سال ذخائر بڑھ کر 23 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں! یہ واضح ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کی معاشیات پر optimistic ہیں! 😊💰
 
یہ واضح ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت بھی برا ہو رہی ہے، موجودہ مالی سال کا معاشی نمو 3.2 فیصد اور آئندہ سال جی ڈی پی گروتھ 4.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے؟ یہ تو حکومت کے بھی چلوانے والے ہدف سے بالکل مشابہ نہیں ہے، آگے بھی معاشی نمو میں کمی یا برادari کی روزگار کا کوئی اہمہ تناسب نہیں دیکھنا چاہیے، مگر جس طرح حکومت اور بین الاقوامی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ذریعے پیش گوئیاں کی گئی ہیں وہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ توقع اچھی تو ہو رہی ہے یا نہیڰ ہے؟
 
اس معاشی رپورٹ میں ایسی کوئی خبر نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہو کہ پاکستان کے معاشی نظام میں بھرپور بچاؤ ہوا ہے، حالانکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے ایسا ہی پہنا اور اس رپورٹ کی جانب سے 4.2 فیصد کی معاشی نمو کا ہدف لیا ہے، جو اسی کے اسلاف کا بھی ہدف تھا اور ابھی تک نہیں پورا ہو سکا ہے۔ جی ڈی پی گروتھ میں بھی یہاں ایسے ہی 4.1 فیصد کی بڑھتی ہوئی نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے جو کہ آج تک پاکستان کی معاشیات میں نہیڰ ہوئی ہے، واضح طور پر اس رپورٹ سے یہ اچھی نئی چٹان ٹوٹنا نظر آ رہا ہے!
 
بہت گھنٹی سے نہیں کھیل رہا تھا کیوں کہ پاکستان کی معاشی کثرت کے بارے میں یہ خبر ایک اور نقصان دہ بات ہے... 4.2 فیصد سے کم نمو کی پیشگوئی بھرپور خوفناک ہے، اور آئندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ میں بھی بہتری کا امکان نہیں ہے... مہنگائی اور روزگار کی صورت حال بھی گھریلو معیشت پر دباؤ ڈالتے ہیں، ان میں بھی یہ بات غلط نہیں ہے کہ آئندہ مالی سال مہنگائی میں اضافہ کا امکان بھی ہے...
 
یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو میں بھی ایسا ہی تیزی اور بحران دیکھنا پڑرہا ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہوا ہے۔ میرے خیال میں، آئی ایم ایف کی یہ تجویز کچھ متوقع اور مفید ہوگی جیسا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی توقع رہی ہے، لہذا اس کے لیے ہم بے روزگاری کو کم کرنا اور ذخائر میں اضافہ کرنا بھی چاہتے ہیں، مگر یہ توقع کرتے وقت کچھ بھی رہتا ہے! 🤔
 
یہ خبر ایک بڑی خبر ہوگی، مگر اس پر توجہ دیتے ہوئے پاکستان کی معیشت میں گھنٹوں میں کمی تو نہیں آئی لیکن یہ سوچنا مفید ہوگا کہ ایک سال کے بعد جس معاشی نمو پر منصوبہ بنایا گیا ہے، وہ واضح طور پر نہیں پورا ہوگا۔ مگر یہ بات تو اس وقت تک بھی کبھر کبھر رہتی ہے۔
 
Wow 😮 وہ معیشتی پیشگوئیاں جس میں جی ڈی پی گروتھ کو 4.1 فیصد تک محدود رکھنے کا امکان ہے، ایسی حقیقی طور پر بہت اچھی ہے!
 
پاکستان کی معاشی صورتحال بھی ایسے ہی دکھائی دی جارہی ہے جو آپ کو اچھا محسوس نہیں کرسکتی۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ سے ملتا ہے کہ وہی معاملات ہوں گے جس پر آپ نے اس سے پہلے بتایا تھا، بھرپور مہنگائی اور روزگار کی کمی ۔

جی ڈی پی گروتھ میں بھی نا کامیابی کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی معاشی صورتحال جاری رہے گی اور یہ بھی چیلنجز کا سامنا کرے گئی۔
 
تھکاؤنے والی گزری ہوئی ماہرین کے بعد اب مہنگائی کی چپلائی سے ہم پچتہ ہو رہے ہیں، اور یہ بتا کر کہ وہ معاشی نمو بھی کم ہونے والی ہے تو حالات کو بھی بدنی۔ گزشتہ سال کی مہنگائی سے پچتہ ہوتے ہوئے اب وہ تیز ہو رہی ہے اور آئندہ سال کی پیشگوئی میں اسے اٹھنا مشکل ہوگا، اگرچہ معاشی نمو میں بہتری کا امکان بھی ہے تو یہ جب تک پریشانی ہے۔
 
اس نئی رپورٹ سے تو میرا خیال ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو میں بھی پچھلے سال جیسا خوفناک موسم آ رہا ہے। مہنگائی اور روزگار کے منظر کا نہیں کسی طرح کو خوشی کا شکار ہونے کی امید ہے... 💸
 
واپس
Top