پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش نے ایک اہم نتیجہ کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات سچ بھی ہے کہ وہ طالبان جو افغانستان کے حلیف نہیں ہوں، اِس بندش کی بنیادی وجہ ان کے دہشت گرد حملوں کو روکنے میں ناکام رہنے سے نہیں لیکن پاکستان کا شعبہ فوری موڑ لگایا اور اس طرح وہ فوری طور پر ان کے خلاف دباؤ میں ڈال دیا گیا ، اِس لیے وہ افغانستان کی سرحد پر بھی اپنا دباؤ مہیا کررکھنے لگے تاکہ وہ ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کریں جو نہیں چاہیں گا اس لیے افغان طالبان کو ایسے حالات میں پہنچایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے شعبے کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے ساتھ امن سے باہم رہیں تو ان کو اس بات پر توجہ نہیں دی جائے گی کہ وہ بھی یہ دباؤ اپنے شعبہ کی جانب ڈال کر چلے گا اور اس طرح ان کی منصوبوں کو ایسا سدباب کیا جا سکے گا جس سے نتیجہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے متعارف نہ ہونے والا تعلقات میں کشیدگی پیدا کرکے ایک نئی صدبوں سے پھپھرا دے گا جو یہاں تک جاتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کے حوالے سے سہولت نہیں ہو سکتی اور پاکستان کو بائی پاس کرنا افغانستان اور بھارت کے لیے ناممکن نہیں سمجھا جاتا جو نا سچ بھی ہے کیونکہ یہ 40 فیصد زیادہ مہنگی ہو کر اس سے دونوں ملکوں کے ٹریڈرز کو کم فائدہ اٹھانا پڑتا جائے گا۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ افغانستان کی سرحدی بندش سے اس ملک نے ایک بھارپور معیشت حاصل کرلی ہے اور یہ پہلے تو پاکستان کو صرف 450 ملاین ڈالر تک کماتا رہا تاکہ وہ اس سے بہی زیادہ نہیں جائے لیکن اب یہ دوسری اہمیت لگاتی ہے کہ کینو کی برآمد سے پاکستان کی معیشت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، کیونکہ یہ افغانستان سے آ رہا ہے اور اگر اس کا رخ بھارت پر چلے گا تو وہ بھی اس کو اپنی منڈی میں داخل کر کے سچائی سے نہیں جائے گا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ان شعبہ کی مدد سے بھارت اور افغانستان کو ایک دوسرے سے متعلق تجارت کرنے میں مدد ملنی چاہی ہے مگر یہ واضح نہیں کہ اس بات کی کیا یقین بنائی جاسکتی ہے کہ افغانستان اور بھارت دونوں ایسی معاملات میں آئیں گے جو پاکستان کو بائی پاس کرنا بھی نہیں پہنچائے گا اور یہ واضح نہیں کہ ان دونوں ملکوں کی منڈیوں میں سہولت اِس بات پر ہو سکتی ہے کہ اسے ایک بھارپوری معاملے میں تبدیل کیا جائے۔
اس سرحدی بندش نے یہ بات سچ کر دئے کہ پاکستان اور افغانستان کی دوسری جانب بھارت کو بھی اس بات پر توجہ دی گئی ہے جو پہلے ڈرائٹ نہیں تھی۔ اب یہ بات یقینی ہو چکی ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں ایک بھارپور تجارت حاصل کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ افغانستان اور بھارت دونوں کے درمیان جو دباؤ پڑ رہا ہے وہ پچھلے سے نہیں تھا۔
امن خان کی حکومت نے افغانستان سے لائے گئے 450 ملین ڈالر سے فیکٹریوں کو بھی نہیں بھیگایا، اُسے صرف ٹیکس ایکٹ کروائی، اور اب وہ 35 अरب ڈالر پر چار سال کی قیمتی کھیرچھی کھرچا رہا ہے اور اس سے پاکستان کو بھی اپنی معیشت میں اضافہ نہیں ہوا، ہلچل کی صورت میں ایک دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارت کرنے کی طرف متحرک ہوگئے، اُن کا یہ مقصد اور انہیں یہ بھرپور معیشت میں اضافہ نہ ہونے پر اُنہیں ایسا ادراک کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ٹیکس مہیا کروائیں اور اپنی میڈیا نے بھی اس بات پر توجہ دی ہے کہ افغانستان کی حکومت ان شعبہ کی مدد سے پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرنے میں مدد ملنی چاہیے، لیکن اس بات پر یقین نہیں ہو سکتا کہ وہ اُن شعبہ کی مدد سے یہ بات پر توجہ دی جائے گی کہ افغانستان اور بھارت دونوں ان معاملات میں آئیں گے جو پاکستان کو بائی پاس کرنی نہ پہنچائے گا
@Sadaqat : اچا ایسے حالات میں افغانستان کو دوسرے ملکوں سے زیادہ ہی مجبور نہیں کیا جا سکتا تو یقیناً وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ امن سے باہر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی جائے گی تو یقیناً وہ پہلی بار اس بات کو سمجھیں گے کہ یہ بھی ایک اچھا منصوبہ ہے۔
اس سرحدی بندش کو صرف ایک دباؤ کی چابی نہیں سمجھنا چاہئیے، یہ افغانستان کو ایسے حالات میں پہنچانے کی کوشش ہے کہ وہ اپنی مرضی سے تجارت نہیں کر سکے اور اس طرح بھارت سے محفوظ رہ سکے ، لیکن یہ تو بہت مشکل ہو گا کہ افغانستان اور بھارت دونوں ایسے معاملات میں آئیں جو اسے دھکے سے دوچکے نہیں کرائیں گی.
ابھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش سے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے میں مدد کر گیا ہے ۔ لیکن واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ بندش ایک طالبان نہیں جو افغانستان کے حلیف ہیں، اس کی بنیادی وجہ ان کے دہشت گرد حملوں کو روکنے میں ناکام رہنے سے نہیں لیکن فوری موڑ لگایا گیا اور اب وہ بھارت کے خلاف دباؤ میں ڈال دیا گیا ہے ، اور اب وہ افغانستان کی سرحد پر اپنا دباؤ مہیا کررکھنے لگے ہیں تاکہ پاکستان کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا جائے جو نہیں چاہیں گا ۔
افغانستان کی سرحدی بندش کی وجہ سے یہ بات بہت جانتے ہیں کہ وہ طالبان کے دہشت گرد حملوں کو روک نہیں سکتی تھی لیکن وہ شعبہ فوری موڑ لگاتا اور اس طرح افغانستان بھی اپنے شعبہ کی جانب ڈال دیتا جو پاکستان اور بھارت کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے
یہ بات بھی نازک ہے کہ افغانستان کی معیشت اس سرحدی بندش سے حاصل کرلی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر یہ رخ بھارت پر چلتا ہے تو وہ اسی کی منڈی میں داخل نہیں ہوتا، اس لیے افغانستان کی حکومت پاکستان کو ایک دوسرے سے متعلق تجارت کرنے میں مدد ملنی چاہتی ہے
لیکن یہ بات بھی نہیں کہ افغانستان اور بھارت دونوں ایسی معاملات آئیں گے جو پاکستان کو بائی پاس کرنے پر مجبور کریں گے، 40 فیصد زیادہ مہنگی ہونے سے ٹریڈرز کے لیے کم فائدہ اٹھانا پڑتا جائے گا
بےشک یہ بات بھی सच ہے کہ افغانستان کی سرحدی بندش نے وہ فائدہ پاکستان کو حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اسے ایسا محسوس کرنا اچھا لگا ہو گا کہ وہ بھارت سے تجارت کرنا چاہتا ہے تو یہاں تک نہیں پہنچ سکتا کہ پاکستان کی معیشت میں بھی اس کے نقصان نہیں آئے اور وہ ہمیشہ یہ چاہتا رہے گا کہ ان شعبہ کی مدد سے بھارت اور افغانستان کو ایک دوسرے سے متعلق تجارت کرنے میں مدد ملے اور اس طرح یہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی جائے جس سے پاکستان کی معیشت پر بھی نقصان ہو سکے گا۔
پاکستان و افغانستان کے درمیان سرحدی بندش کو دیکھتے ہوئے سچ ہے کہ وہ طالبان نہیں ہوں اُن کی بنیادی وجہ ان کی دہشت گرد حملوں کو روکنے میں ناکام رہنے سے نہیں لیکن پاکستان کا شعبہ فوری موڑ لگایا ہوا ہے اور اس طرح وہ فوری طور پر ان کی جانب دباؤ میں ڈال دیا گیا ہو سکتا ہے
دوسری طرف یہ بات بھی سچ ہے کہ افغانستان کی سرحدی بندش سے اس ملک کو ایک بھارپور معیشت حاصل کرلی ہوئی ہے مگر نا سچ ہے کہ یہ پاکستان کو صرف کماتنا تھا۔ اب اس کی اہمیت اس بات پر ہے کہ کینو کی برآمد سے اس کی معیشت کو نقصان نہیں پہنچ رہا، کیونکہ یہ افغانستان سے آ رہا ہے اور اگر اس کا رخ بھارت پر چلے گا تو وہ اس کو اپنی منڈی میں داخل کر کے سچائی سے نہیں جائے گا
اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ افغانستان اور بھارت دونوں ایسی معاملات میں آئیں گے جو پاکستان کو بائی پاس کرنا نہیں پہنچائے گا اور یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں ملکوں کی منڈیوں میں سہولت اِس بات پر ہو سکتی ہے کہ اسے ایک بھارپوری معاملے میں تبدیل کیا جائے
افغانستان کی سرحدی بندش نے افغانستان کو یہ اچھا مقام ملایا ہو گیا ہے جو پاکستان اور بھارت کے لیے ایک بڑی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے . میرے خیال میں افغانستان کی سرحدی بندش سے ابھی یہ واضح نہیں ہو گا کہ اس ملک نے کینو کی برآمد سے پاکستان کی معیشت کو بہت فائدہ پہنچایا ہے، اس لیے اِس نئی صورتحال میں اس کے لیے ایک فرار قوس ہو گئی ہے جو اسے وہی فائدہ نہ ملا سکے گا اور یہ دھانچہ افغانستان اور بھارت کے لیے بھی ایسی ہوئے گی جو کہ ان دونوں کو پہلی بار اس طرح سے ٹیگ بنایا جائے گا ۔
اس بے چین پرانے سیریل کی طرح، سرحدی بندش کا پتہ چلتا ہے کہ اس نے افغانستان کو ایک فریٹ زون بنایا ہے لیکن یہ جاننا ہمیشہ آسان نہیں رہتا کہ اسے کیا استفادة حاصل ہوئی ہے؟
diagram: ایک سرحدی بندش کی شکل میں
____________________
| |
| پاکستان |
| بھارت |
|________________|
| |
| کینو کی برآمد
|________________|
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے، ہم کو ان تمام عوامل کا تجزیہ کرنا پڑے گا جو اس سے وابستہ ہیں کیونکہ افغانستان کی سرحدی بندش کی بنیادی وجہ کینو کی برآمد نہیں، بلکہ اس کی دھمکیوں اور پچتائیاں ہی رہی ہیں؟
diagram: ایک کینو کی برآمد کی شکل میں
____________________
| |
| افغانستان |
| بھارت |
|________________|
| |
| دھمکیاں
|________________|
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کی منڈیوں میں بھی سہولت نہیں ہو سکتی، اس لیے یہ معاملات ایک نئے دور میں منتقل کرنے کا وقت ہے جب ہم انہیں سمجھ سکیں اور ان کی مدد کی جاسکے۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ افغانستان کی سرحدی بندش نے پاکستان اور بھارت دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بھارپوری تعلقات میں رکھنا مشکل بنایا ہے حالانکہ یہ بات تو ہی تھی کیونکہ اس بندش نے افغانستان اور پاکستان کے مابین تعلقات کو ٹوٹا ڈال دیا ہے لیکن اب بھی یہ معاملہ اس حد تک کشید ہوا ہے کہ اس میں سہولت نہیں ہوسکتی ہے اور یہ پوچھنا مشکل ہو گا کہ افغانستان بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا جا رہا ہے یا نہیں؟ اور پاکستان کی حکومت نے اس معاملے میں کتنی جوش و خروش رکھی ہے، یہ بات تو چالیس ملین ڈالر سے پچاس تک زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ اسے افغانستان اور بھارت دونوں کے لیے 40 فیصد زیادہ ہونے کا کوئی کوئی نہیں چاہتا ہے، وہ جس سے ان کی معیشتوں میں نقصان پہنچ رہا ہے اور اس پر یہ بات بھی سچ ہے کہ افغانستان کی سرحدی بندش نے اس ملک کو ایک بھارپوری معیشت حاصل کرلی ہے لیکن یہ بات تو اب واضح ہو چکی ہے کہ اسے پاکستان کی حکومت کی مدد سے اپنے شعبہ کی جانب سے بھارت اور افغانستان کو ایک دوسرے سے متعلق تجارت کرنے میں مدد ملنی چاہی ہے مگر یہ بات نہیں کہ اس پر ان دونوں کی معیشتوں میں کوئی نقصان نہ پھونچایا جائے گا۔
یہ رہی کہ افغانستان کی سرحدی بندش نے ان کے لئے ایک اچھا موقع دیا ہو، بھارت کو یہ بھی مل گیا ہو گا کہ وہ کیسے افغانستان سے تجارت کر سکتا ہے، اور اب پاکستان کو اس بات پر توجہ دی جائیگی کہ وہ اپنے بھارتی دوست کی مدد سے ان کے ساتھ اچھی معاملت کرتا ہے یا نہیں؟ اب یہ بات بھی رہ جاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت کینو سے کم نہیں پہنچتی، لیکن میں سوچتا ہوں کہ اسے ایک بھارپوری معاملے میں تبدیل کرنا ہو گا، اور اس کے لئے بھی توجہ دی جائیگی، کیونکہ یہ بات سچ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ان شعبہ کی مدد سے ایسے معاملات کو حل کیا ہو گا جو اب بھی کسی بھی صورت میں نہیں آئیں گے۔