پاک افغان تجارتی گزرگاہوں کی بحالی، دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ کمیٹی قائم

مچھر

Well-known member
پاکستان اور افغانستان کے تاجر رہنماؤں نے زوم میٹنگ کے ذریعے دوطرفہ تجارت کی بحالی پر ایک اہم قدم قدم کر دیا ہے۔ ایسے میٹنگ کے بعد ابھر رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ کمیٹی قائم کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد تجارتی گزرگاہوں کی بحالی اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا ہے۔

تجار رہنماؤں نے مشترکہ کمیٹی کی تشکیل کے لیے ایک ایسے اجلاس میں شرکت کی جس میں دو ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کا یقین ظاہر ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے چھ نمائندے تاجروں نے شرکت کی، جبکہ اس کمیٹی میں آٹھ دوسرے ممالک کے بھی نمائنڈے شامل ہوں گے۔

اس اجلاس کو اگست نے منعقد کیا جس کی قیادت پاکستان کی جانب سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کی، جبکہ افغانستان کی جانب سے افغان چیمبر آف کامرس کے سرپرست سید کریم ہاشمی نے اپنی قیادت کی۔

اجلاس میں ایک اہم فیصلہ ہوا کہ مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس 6 جنوری کو طورخم سرحد پر منعقد ہوگا، جہاں تجارتی گزرگاہیں کھولنے اور تجارت کی بحالی کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں پاکستان نے اپنی جانب سے سید جواد حسین کاظمی کو کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا ہے، جس کے مطابق مشترکہ کمیٹی کی میٹنگز مختلف شہروں میں منعقد کی جائیں گی اور یہ فورم دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کرے گا۔

تاجر رہنماؤں نے مشترکہ کمیٹی کی تشکیل پر اپنی وعدوں ظاہر کی ہیں اور کہا ہے کہ کمیٹی کی کوششوں سے تجارتی رکاوٹیں کم ہوگیں اور سرحدی گزرگاہوں پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھیں گی۔
 
اس وقت اس بات پر کچھ لوگ سوچ رہے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کی دوطرفہ تجارت تو چل پائی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس میں سہولت کس قدر آئے گی؟ یہ بھی سوچنا اچھا ہوگا کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی توازن پائے گا یا پھر یہ ایسا ہی رہ جائے گا جیسا قبل سے تھا۔
 
اس وقت کھیل کا کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا جس میں اچھائی کی بات کرنی پڑے! پھر بھی، افغانستان کے تاجروں کو پاکستان کے ساتھ تجارت میں قدم رکھنا چاہئے... اس طرح ہی سچائیوں کی جان کی جاسکتی ہیں!
 
تمام تجارتی اقدامات سے پہلے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ سڑکوں کی صورت حال کو باصلاحیت ہونے والی کمیٹیوں اور مشنری اجلاسوں میں شامل کیا جا۔ سرحدی تجارتی گزرگاہوں پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھنا ایک اچھی بات ہے لیکن یہ بات بھی یقینی بنائی جائے کہ اس معاملے میں شائقین اور عوام کی جانب سے بھی رکاوٹ نہیں ہو، چاہے وہ شہری گزرگاہوں پر رکاوٹ کے بارے میں ہو یا سرحدی تجارت کے دوران کسی کو یہ جانب سے کس طرح تشدد کا سامنا کرنا پڑے وہ بھی یہ بات اس کو کم رکاوٹ کے طور پر دیکھا جائے گا
 
🤝 یہ ایک اچھا سیکھ اٹھایا گیا نہیں، کرتوں دوطرفہ تجارت کی بحالی پر ایسا کوئی قدم ہی نہیں تھا، ابھر رہی ہے اس میں بھی کم کارکردگی، مشترکہ کمیٹی قائم کرنے سے پہلے کیا ہونا چاہیے؟

چھ نمائندوں کی شرکت نے بھی یقینی بنایا ہے کہ یہ کام ایک ایسے پلیٹ فارم پر کر دیا گیا ہے جس پر تمام ممالک کی موجودگی ہو سکی، لیکن اگست اور کی قیادت میں کوئی اچھی تاکید نہیں کی گئی ہے، یہ ساتھیوں کا کام ہے، انہیں یہ بھی بتایا ہونا چاہیے کہ ایسا کیسے ناکام ہوتا ہے

ایک اہم فیصلہ 6 جنوری کو منعقد ہونے والے اجلاس سے یہ بات چلتے ہیں کہ تجارتی گزرگاہوں کی بحالی کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟، ایسے میں پہلے اٹھنا بھی ضروری ہے نہ کہ صرف اجلاس

شائد یہ مشترکہ کمیٹی اس بات کا باعث بن جائے کہ پاکستان نے اپنی جانب سے سید جواد حسین کاظمی کو کمیٹی کا سربراہ نامزد کر دیا ہے، لیکن وہ بھی یہ بھولتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک میں اس طرح کی کارکردگی سے کب ہار چکا ہے، یہ نا پچانتا ہے کہ ایسے میٹنگ کیسے successful ہوسکیں گے
 
اس تجارت کو فروغ دینے کی بات تو بالکل چاہیے ، ایسے میٹنگ کے بعد ابھر رہی ہے کہ دوطرفہ تجارت کو بڑھانا ہوگا اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے ، یہ تو نافذی ہونے والی بات ہے۔
 
واپس
Top