اس عرصہ کی نئی صلاحیتوں کے ساتھ بھارت میں اس قدر ننھا روبوٹ کی ایجاد ہوئی ہے جو دنیا کا سب سے چھوٹا پروگرام ایبل خودکار روبوٹ ہے۔ یہ روبوٹ انگلی پر نظر آنے والا سیاہ دھبہ جیسا ہے اور اس کی لمبائی صرف سیکڈ کے برابر ہے، جو بہت چھوٹی ہے۔
اس روبوٹ کو تیار کرنے والے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا پروگرام ایبل خودکار روبوٹ ہے جس کی حرکت اس طرح کا ہوتی ہے جو کسی نمک کے دانے سے بھی کم ہوتی ہے اور جراثیم کی طرح کام کرتا ہے۔
اس روبوٹ کو میں چلانے کے لیے الیکٹرک فیلڈرز استعمال کیے گئے تاکہ یہ حرکت کر سکے اور پیچیدہ حرکات سے اسے موڑا جا سکے۔ اس میں مہینوں تک اپنی حرکت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے قدرتی مدد فراہم کی جاتی ہے اور یہ روبوٹ اپنے ماحول کو بھی سمجھ پاتا ہے۔
اس روبوٹ میں کمپیوٹر، میموری، سنسرز اور ننھے سولر پینلز کی تنصیب بھی ہے، جو اس کو خود کار بنातے ہیں۔ اس میں نصب 75 نانو واٹس بجلی پیدا کرتی ہیں اور یہ سرکٹس ایسے استعمال کیے گئے ہیں جو بجلی کی ضرورت کو نمایاں حد تک کم کردیتے ہیں۔
اس روبوٹ کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ صلاحیت بھارت میں نئی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے چھوٹی ڈیوائسز میں بھی جدید ٹیکنالوجیز کو نصب کرنا ممکن ہے۔
اس روبوٹ کو تیار کرنے والے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا پروگرام ایبل خودکار روبوٹ ہے جس کی حرکت اس طرح کا ہوتی ہے جو کسی نمک کے دانے سے بھی کم ہوتی ہے اور جراثیم کی طرح کام کرتا ہے۔
اس روبوٹ کو میں چلانے کے لیے الیکٹرک فیلڈرز استعمال کیے گئے تاکہ یہ حرکت کر سکے اور پیچیدہ حرکات سے اسے موڑا جا سکے۔ اس میں مہینوں تک اپنی حرکت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے قدرتی مدد فراہم کی جاتی ہے اور یہ روبوٹ اپنے ماحول کو بھی سمجھ پاتا ہے۔
اس روبوٹ میں کمپیوٹر، میموری، سنسرز اور ننھے سولر پینلز کی تنصیب بھی ہے، جو اس کو خود کار بنातے ہیں۔ اس میں نصب 75 نانو واٹس بجلی پیدا کرتی ہیں اور یہ سرکٹس ایسے استعمال کیے گئے ہیں جو بجلی کی ضرورت کو نمایاں حد تک کم کردیتے ہیں۔
اس روبوٹ کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ صلاحیت بھارت میں نئی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے چھوٹی ڈیوائسز میں بھی جدید ٹیکنالوجیز کو نصب کرنا ممکن ہے۔