ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کر دیئے | Express News

سیاح

Well-known member
اسلام آباد میں ایف آئی اے نے غیر ملکی جانے والے مسافروں کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کیے ہیں، جس سے انھیں امیگریشن کے طریقہ کار اور معاملات میں واضح رہنمائی مل سکتی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹوئٹ پر اپنے پوسٹ میں کہا ہے کہ ایف آئی اے نے سرکاری دفاتر کے تمام زونل میں فوری طور پر ’پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیسک‘ قائم کیے ہیں، جس سے مسافروں کو معاونت فراہم کرنے اور انھیں بہترین اور موثر طریقے سے امیگریشن کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی مل سکتی ہے۔

اس ڈیسک سے مسافروں کو ذاتی طور پر، ہیلپ لائنز اور ای میل کی مدد سے رجوع کرنے کا اہل ہونا ہو گیا ہے۔ اس نئی ڈیسک کے ذریعے مسافروں کو سہولت کی تفصیلات ہوائی اڈوں، سرحدی مقامات اور ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہو گیں۔
 
اس نئی ڈیسک کے ذریعے مسافروں کو سہولت کی تفصیلات ہوائی اڈوں، سرحدی مقامات اور ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی، لیکن یہ سوچنے کا مطلب ہے کہ اب بھی وہ لوگ جو ناہیں جانتے انھیں اس سے فائدہ نہ ملے گا... اور ایسے لوگ جو وہاں پر پہلے سے ہی رکاوٹوں کا سامنا کر چکے ہیں وہ ابھی بھی اس ڈیسک کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گی...
 
اس کے لیے کوئی چیز نہیں بھی رکھنی پڑتی ہے، ایف آئی اے کی یہ کوشش سے اس وقت تک مسافروں کے لیے سہولت ملا سکتا ہے جب تک ان کے پاس معاونتی کی ذمہ داری ہو، پھر یہ ہمیں ایک بڑا پیغام دیتا ہے کہ ان کا فرائض ان لوگوں پر پڑتا جہاں یہ سہولت ضروری ہو، مگر یہ بات یقیننہ طور پر چلنا بھی نہیں پری۔
 
میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ ٹریvl فیسلی ٹیشن ڈیسک صرف وہ لوگ لئی ہو گا جو اپنے امیگریشن کے معاملات کو آسان بنانا چاہتے ہیں، جو بھی اٹھنا نہیں پائے گا وہ اس کی مدد سے بھاگ جائیں گے
 
افسوس کی بات ہے کہ دنیا بھر میں مسافرین کو ایسا انفرادی طور پر انفرادی مدد حاصل کرنا پڑتا ہے، جب اس سے انھیں پہلی بار اپنے ملازمت یا یقوامی معاملات کے بارے میں جاننے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
 
ایسا بھی چاہیے کے ایف آئی اے نے دوسرے ہی Airways کے لئے بھی یہ ڈیسک قائم کر لیا ہوتا تو پوری دuniya میں مسافروں کو ایسے سہولت فراہم کرنے کا معیار بن جاتے!
 
اس وقت بھی کچھ لوگ اس ملک میں ہمارے لئے وعدہ نہیں کرتے ہیں، ان کی پوری مدد سے محو gratitude رہنے دیتا ہے... ایسے ہی ایف آئی اے نے ایک نئی ڈیسک قائم کی ہے جو غیر ملکی جانے والے مسافروں کے لئے، انھیں واضح رہنمائی دیتی ہے کہ اس میں ان کے لئے سہولت کی کتنے تارے ہوں گے...
 
اس نئی ڈیسک کا بھی بھالو ہو گا کہ کس طرح مسافروں کو امیگریشن کے طریقہ کار کی واضح رہنمائی مل سکتی ہے، اس سے لوگ سوچتے ہوئے پہلے تو نہیں ہوتا کہ وہ کیسے جائڈے چلو یا فوری میگاسٹریشن سے کوئی ریکارڈ نہیں دیکھتا، اس طرح سے لوگ اپنی ایک اچھی پلیٹ فارم پر ڈیپارٹمنٹوں کا مشورہ کرنے میں آسانی ہوئی گئی ہے۔
 
اس نئی ڈیسک کا یہ اہم move دوسرے ممالک جانے والوں کو ملک میں داخلے کی پریشانی سے بچانے میں کامیاب رہتا ہے... مگر یہ بھی بات سچ ہے کہ مسافروں کو ان فیسلٹس کا بھی لाभ ہوگا... ایک بھی نئی بات یہ ہے کہ ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر معلومات ریکارڈ ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو جاسوسی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی کامیابی کو کم نہیں رکھ سکتے...
 
یہ بہت ن Ice khaas hai! 🤗 فوری طور پر پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیسک قائم کرنے کا یہ کھیلا ایسے مسافروں کو سہولت دے رہا ہے جو غیر ملکی جانے والے ہیں۔ ان کی مدد اس نئی ڈیسک سے ہوگی اور ان کے لئے ایسے توصیلات موجود ہوں گے جو انھیں امیگریشن کے طریقہ کار میں مدد کرنے میں اس کا کام ہوگا۔
 
ایسا کیا واضح طور پر نہیں ہوا کہ اس ڈیسک کو کون سے ٹھیک لگ رہا ہے؟ ایف آئی اے کی طرف سے ایسے منصوبوں کو لائن سے لیے جانے سے پہلے کیا ہے کہ وہ سرکاری دفاتر میں کتنے دیر تک فری مینٹنگ فراہم کریں گے؟ اور اس ڈیسک کا مقصد صرف امیگریشن کے طریقہ کار ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ڈراپ آئیڈنٹی کی فوری مدد سے ملن گے، یوں ڈیزائن کو ایسا کر کے دیر اور بھاری معاملات پر زور دیا گیا ہے جو مسافروں کو مزید نا Comfortable بنادہ.
 
ایسا کیا کرے گا یہ ڈیسک؟ پہلی بار یہ بھرپور ہوا تو خیر، اس کی ضرورت تھی۔ ابھی تک وہ جانے والے غیر ملکی مسافروں کے لئے کوئی کوئی سہولت نہیں تھی۔ ایک ہی ایف آئی اے میں سب کو چلانا مشکل ہوتا، تو یہ ڈیسک فوری طور پر قائم کرنا بھی بہتر تھا۔ ابھی وہ سٹاف بھی ٹریننگ لین گے اور اس ڈیسک کے ذریعے واضح رہنمائی فراہم کرنے کا کام شروع کریں گے۔
 
میں کہتا ہوں کہ ان پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیسکوں میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا... اور باقی واضھ رہنمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی, ان سب کے بعد تو یہ پورا معاملہ ایف آئی اے کی سرکاری بیکار فیکلٹی سے وابستہ رہ جائے گا... 😐
 
میں تھوڑا سا سوچتا ہوا کہ یہ بات واضح ہو گی کی ایف آئی اے نے تو محض ایک ڈیسک قائم کر دی ہے، لیکن پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیزک اس طرح سے کام کرسکتا ہے کہ وہ تمام سرکاری دفاتر میں موجود ہو جائے؟
 
اس کا فیصلہ تو بہت اچھا ہے کہ غیر ملکی جانے والے مسافروں کو خصوصی ڈیسک قائم کی جائے، اس سے وہ اپنے امیگریشن کے طریقہ کار کی پوری رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور انھوں نے بھی فائدہ اٹھا لیا ہوگا۔ اب وہ اپنی ضرورتوں کے مطابق سہولت کے لئے مدد لینے میں آسانی ہو گی، یہ بہت اچھی نئی پالیسی ہے۔
 
اس نئی ڈیسک کا منصوبہ بھی کوئی نئی چھاپ ہی نہیں، یہ کہیں بھی ایف آئی اے کی جانب سے ناواقف مسافروں کی مدد کا کام ہو رہا ہے? انہیں جو بہترین طریقے سے امیگریشن کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی مل سکتی ہے وہ نئی ڈیسک پر انھوں نے جو فوری طور پر قائم کیے ہیں اسے صرف ایک چھپا ہوا کھلایا ہے؟ یہ کہیں بھی انھوں نے کسی ماسک کے تحت کام کر رہے ہیں? 🤔
 
اس گھریلو معاملے میں حکومت کو بڑا سہارا ہوا ہے، غیر ملکی جانے والے مسافروں کے لئے یہ خصوصی ڈیسک ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ اب انھیں واضح رہنمائی مل سکتی ہے اور انھیں ذاتی طور پر مدد مل سکتی ہے، یہ سمجھنا بہت اچھا ہے
 
ناواقف غیر ملکی مسافروں کے لئے یہ ڈیسک بہت مفید ہوگا، انھیں واضح رہنمائی ملا گئی ہے کہ وہ کیسے اپنے امیگریشن کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ ڈیسک انھیں معاونت فراہم کرنے میں مددگار ہوگا، وہ اپنی سوچ کی بات کرتے وقت انھیں بہت ساری معلومات مل جائیں گی۔
 
ایسا کیا نئے چہرے کی ضرورت تھی؟ ہمارے پاس ایک نیا دکھتا ہوا اور واضع رہنمائی سے مسافروں کو سمجھ مہ کرنے کی فراہمی کی گئی ہے۔ ابھی کچھ دن سے ایسا نہیں تھا کہ وہ انٹرنیٹ پر بھی آؤٹ لگتے تھے اور ان کی پوسٹ لگانے میں لگیں۔ اب ہمیں ایسا محفوظ مقام مل گیا ہے جہاں وہ اپنی سوچ کو کرسکتے ہیں اور رہنمائی پاتے ہیں۔
 
یہ تو واضح ہے کہ نہیں لیکن یہاں یہی بات کوڈ میں چھپائی جا رہی ہے... ایف آئی اے نے جو فوری طور پر ’پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیسک‘ قائم کیا ہے وہ اس لئے کہیں کہ وہ امریکی اور برطانوی ایجنٹوں کو بھی یہاں لا رہے ہیں... یہ تو ایک نئی مظاہرہ ہے کہ وہ یہاں اپنی اگلی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے فراہم کر رہے ہیں... لکین میں انھیں ایسا نہیں لگای گا...
 
واپس
Top