ایف بی آر کی اسمگلنگ کے خلاف مہم تیز، کروڑوں مالیت کی غیرقانونی اشیا ضبط | Express News

مٹھائی پسند

Well-known member
ایف بی آر کی اسمگلنگ کے خلاف تیز ترین مہم

کالہٹی سے لے کر کراچی تک سب سے پہلے اس میں شامل ہونے والا ایک ادارہ کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ، گڈانی نے اسمگلنگ کی مہم تیز کرتی ہوئی ساحلی پٹی اور آر سی ڈی ہائی وے پر بھی چک رکھا ہے۔ اس طرح ایف بی آر کے ماتحت اس کے تحت کئی مہموں کی جاری ہوئیں جس نتیجے میں منشیات، ممنوعہ اشیا، اسمگل شدہ زرعی پیداوار اور غیر قانونی ایرانی تیل و ڈیزل کھنچ لیا گیا۔

انہوں نے چیک پوسٹ کھرکھیرا پر ایک کنٹینر سے 188 کلو گرام چرس برآمد کر کے ایف آئی آر درج کیا، اور مزید کارروائی جاری ہے۔

اس وقت بھی ایسا ہی ہو رہا ہے جب خرخیرہ چیک پوسٹ پر ایک مسافر بس پکڑی گئی جس میں 7 کروڑ روپے مالیت کا متفرق اسمگل شدہ سامان تھا، اسی طرح انٹیلی جنس کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا جس میں تقریباً 76 ٹن اسمگل شدہ انار لے جانے والے ریفریجریٹڈ کنٹینرز ضبط کیے گئے۔

ایک بار پھر سے پکڑے گئے اناروں کا ریونیو قومی خزانے میں جمع کرایا گیا اور مہاراشٹر میں 14 ہزار لیٹر اسمگل شدہ ایرانی تیل لے جانے والی مسافر بسوں کو روکا گیا، ایک گودام پر چھاپہ مار کر 10 ہزار 650 لیٹر اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل قبضے میں لے لیا گیا۔

اس طرح دو کروڑ 40 لاکھ کی ایک اور ضبط کی گئی جس میں فلیڈ انفورسمنٹ یونٹ خضدار نے اسمگل شدہ پوست کے بیج لے جانے والا ایک ہینو ٹرک پکڑا ہے۔
 
میرے خیال میں یہ بہت کھیلا میں چل رہا ہے، ایسے میں جو لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں وہ ایسی بڑی مہم کے لئے ہیں اور ان لوگوں کو ہر وقت ایسے کام پر دبا رکھا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی چیلنج کو نہیں کر سکیں... اور اس میں وہ سب لوگ جب انہیں پکڑا گیا تو ان کی زندگی کھل کر پھوٹ پڑی... 😔
 
یہ لوگ کیا چل رہے ہیں!! ایسے سہولت تھوڑی بھی نہیں ہونے دیتی! ایسا تو یقیناً پکڑے گئے لوگ اس کی کھانپن میں رہتے ہیں، آج بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ انٹیلی جنس اور چیک پوسٹ پر پھر سے پکڑے گئے اساروں کی کیا ضرورت ہے!! مزید یہ سب کچھ ایسا نہیں ہوتا کہ ماحولیات پر بھی ان کی برائی دیکھی جائے! 😤
 
ایسے تو ہی ہوتا رہتا ہے کہ چیک کرتے کھرکھری میں بھی ایسے کارروائیوں کی پڑتی ہیں جو ناقص لگتے ہیں … اس چھاپے سے پہلے کی جاسوسی کر کے ہی یہ سمجھنا ممکن نہیں تھا کہ اناروں کا ایسا بڑا ریفریگریٹڈ کنٹینر چھپاتا تھا … کیا یہ ایک جاسوس کا ڈرامہ تھا؟
 
بھارت میں یہ کام ایسا ہی جاری ہو رہا ہے جیسا کہ ہم نے توڑ دیا تھا۔ اسمگلنگ کی مہم تیز ہوئی اور اب یہ ساحلی پٹی اور آر سی ڈی ہائی وے پر بھی چیک رکھی جاسکتی ہے کہا نہیں۔

لیکن ایسا جاننے کے بعد کچھ باتوں کو آگے لے کر دیکھنا ہی ہو گا کہ یہ کارروائی کی وہ ہدایت نہیں جو تیزی سے جاری ہوئی، پہلی بار ایسی بھرپور مہم جس میں اسٹاپنگ نہ کیا گیا اور سچائی برقرار کی گئی وہ رہی جو سب کو دیکھائی دیتا ہے۔
 
ایسے سارے اسمگلنگ کی مہموں ہوئیں اور ابھی بھی اس کا نتیجہ مل رہا ہے۔ ٹیکسٹائل، مصنوعات اور کچھ دن پہلے سے ایف بی آر کی جانب سے انڈیا کا سب سے بڑا اسمگلنگ مہم چلا رہی ہے، اور ابھی تک اس میں شامل ہونے والے ایسے اداروں نے اس کی تیز دلیلی دی ہے۔ اگر یہ مہم اس سے پہلے چلا رہی تو لگتا کہ اس میں شامل ہونے والا ایک اور ادارہ بھی اس میں شامل ہو گا تاکہ مہموں کی تعداد مزید اضافہ کر سکی۔
 
یہ بات کوئی بھول نہیں سکتی کہ اسمگلنگ کی دھول ہمیشہ کھنچنی مشکل ہوتی ہے، لیکن آج کل کے پڑھانے والوں کی مدد سے یہ کام آسان ہونے لگا ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی کہنا چاہئے جو اس کارروائی میں شامل نہیں ہوتے وہ بھی اپنی آواز اٹھانے لگتے ہیں۔

ایسے کچھ لوگ ایف بی آر کے ریکارڈوں کو دیکھتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ یہ تو اس کام سے پہلے ہی ٹرکٹورز اور بسوں کا ایسا ہی بھانڈارہ تھا، اس لیے انہیں مفت وصول کرنا چاہئیے، نہ کہ انہیں پھر سے ٹیکس ادا کرنا ہو۔

اس میں شامل ہونے والے تمام ادارے کو انہیں یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ایسے مظالم نہ ہوں، جب ان کو پھر سے ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے تو وہ اس میں بھی چنچلہ کی آواز نکال لیتے ہیں۔
 
یہ تو بھارتی شعبے میں انٹیلی جنس کی جہالت ہی نہیں تھی بلکہ اس کا ایک اور نمونہ پھینسیا گیا ہے۔ چراس کی مقدار 188 کلو گرام سے بھی زائد ان کی جانچ کرکے اس میں کیا جودے؟ اب وہ سب اناروں کا ریونیو نہیں لینے دیتے تو یہ کس کو فायदہ ہو گا؟ 🤷‍♂️
 
"زندگی میں بھی ایسی ہیں باتوں جہاں آپ پر زور نہیں پڑتا مگر وہ اچھائی ہی کرتے ہیں"

اس وقت پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب آپ کو دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے ملک کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں مگر وہ اس پر بھی ناکام رہتے ہیں
 
Wow 😂🚨 اس جھٹلے کام پر قیادت کر رہے لوگ کو بھی چھاپی مارنے کی اہمیت ہے، یہاں تک کہ ایسے مواقع پر جب بھی کسی نے اپنی زندگی سے کچھ نہ ہار کر انصاف کے لیے کام کیا تو اس کی جان سے مہراب کیا گیا اور اسی طرح سے اس نے سڑکوں پر بھی چیک پوسٹ رکھنے کے لیے ایک کنٹینر کو اپنی جان گواہ بنایا ہوگا، ایسے لوگوں کی جانب توجہ ہونے کی ضرورت ہے
 
Wow 😮 اس کھرکھیرے چیک پوسٹ پر کی گئی کارروائی سے سمجھ ملا کہ اسمगलنگ کی مہم میں بھی تیزابشریتی ہٹنا ضروری ہے ۔
 
یہ بات بھی چلتی ہے کہ اس مہم کو بھی وہی لوگ خفیہ طور پر سرپہ کشی دے رہے ہوں گے جنہیں پکڑنے کی بات ہر تیسری سے چارویں گنااچھ کرتی ہے، انہوں نے تو اس میں بھی ایک نئی گیند فیلڈ بنائی ہوئی ہے جو کہ ابھی ابھی لاکھوں روپے کی مالیت کا سامان چلاتے ہوئے پکڑنے کا دھندا بن رہا ہے۔
 
علاویہ میں اسٹاپنگ اینڈ سیچرنگ کی مہم بڑی بھرپور تھی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں روپے کی اموال اور دوسروں کو نقصان پہنچایا جس کے لیے شکر یو ہے ان تمام لوگوں کو جو اس مہم میں شامل ہوئے! 🙏👍
 
ایسا مضمون چل رہا ہے جس میں اسفلت برآمد کر کے وہ لوگ پکڑے گئے ہیں جو بھارت میں تیز پھرنے والی نئی ایپل کی پیروانگی شروع کر رہے ہیں۔ چھپے اور اسمگل شدہ ایرانی تیل، غیر قانونی زرعی پیداوار، انار وغیرہ سب سے پہلے سے ہی مہموں کا حصہ بنتے رہے ہیں اور ابھی تو اس میں نئی نئی جگہوں کو شامل کرنا شروع ہوا ہے۔ ایسے چیلنجز کو حل کیسے کیا جائے؟
 
اس تیز ترین مہموں کا یہ دورہ جس نے سمندر سے لے کر سبھی چیلنج کو کھنچ لیا ہے، ایک بڑا شکر گزارا جا رہا ہے اے بی آر کے کارروائیوں کی۔ انہوں نے سمندر کے کنارے سے لے کر ریلیوں پر بھی چیک پوسٹ رکھنے کی کوشش کی ہے اور اس طرح ایک بڑی مہم کا آغاز ہوا ہے جو جسمانی نااخلاقیات سے لے کر تاجروں کو ہونے والے دھوکے تک سب کچھ کو چھوڑ کر۔ ان کی کارروائیوں سے سمجھ میلتی ہے کہ اس میں کسی بھی ایسا نہیں رہتا جس کا انہوں نے فہرست بنایا ہو۔
 
واپس
Top