آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پر عملدرآمد، گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار

آکٹوپس

Well-known member
آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط پر عمل در آمد، گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط پوری کرنے کے لیے ایف بی آر کے ذریعہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط کے ذریعہ اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس مقصد کے ساتھ ڈالی گئی ترامیم کا بنیادی مقصد اثاثہ جات شیئرنگ کے نظام کو زیادہ شفاف اور ہم آہنگ بنانا ہے تاکہ احتساب کے عمل میں بہتری لائی جا سکے۔ ان ترامیم کا مقصد کرپشن فری نظام کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

نئی تعریف کے مطابق شامل کی گئی کیٹیگریز میں گریڈ 17 اور اوپر کے وفاقی ملازمین، صوبائی اور خود مختار اداروں کے افسران اور حکومتی ملکیتی کمپنیوں اور کارپوریشنز کے افسران شامل ہیں۔ تمام ملازماں جن پر قومی احتساب آرڈیننس کا اطلاق ہوتا ہے، تاہم مستثنیٰ افراد اس فہرست کا حصہ نہیں ہوں گے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ قواعد کو مزید جامع، واضح اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے تبدیلیاں کی گئی ہیں جو مستقبل میں کرپشن فری نظام کے لیے سنگ میل ثابت ہوگیں۔ یہ اقدام آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا اہم حصہ ہے جس سے شفافیت اور گورننس ریفارمز کے عمل کو تقویت ملے گی۔
 
اس معاملے میں دیکھو، آئی ایم ایف کا انہیں تو غرض نہیں ہوا اور وہ اپنے اثاثوں کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ عظیم بھی لگتا ہے، لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اسی طرح کی شرائط اس کے بعد واضح ہوگیں۔ کئی دفعہ سے انہوں نے یہ کہا کہ وہ اپنے اثاثوں کو ظاہر کرے گا، لیکن اسی طرح کی شرائط کے ساتھ نہیں رہا تھا۔ اب تو انھوں نے یہ اچھی طرح کیا ہے۔ تاہم، ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بھی وہ اپنے اثاثوں کو ظاہر کرنا کبھی نہ کھو دے گا۔ :S
 
اس نئی پالیسی کی باطرفہ کیوں کی گئی؟ اور اس میں آئی ایم ایف کے تمام ارکان کا ایک ساتھ انٹرنیٹ پر ریکارڈ ہونا چاہیے؟ اور یہ کس بنیاد پر تयع کیا گیا ہے کہ گریڈ 17 اور اوپر کے افسران صرف ان اثاثوں کو ظاہر کر سکتے ہیں جنہیں وہ خود پر لگاتے ہیں؟
 
یہ واضح ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی بھرپور جڑیں ظاہر کرنے کی لازمی شرط پہنچائی ہے، اس سے ناقد نہیں ہوگا مگر ان ترامیم کا مقصد کرپشن کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے جس کا کبھی خاتمہ نہیں ہوا۔

اس سے پہلے وہ رکنوں کی فہرست بنائی گئی تھی جو گریڈ 17 اور اوپر کے افسران، معاشیات کے شعبے میں ملازمت کر رہے تھے اور ان کے اثاثے ظاہر کرنے کی لازمی شرط نہیں تھی۔ اب وہ لوگ بھی اس سلسلے میں اچھے اثرات ظاہر کرنے کا انشورنس دیتے ہیں۔
 
یہ واضح ہوگا کہ انٹرنیٹ پر لوگ پوری دنیا میں ساتھ دلاتے ہیں، حالانکہ نہیں ہوتے ان کو پہچانا جاسکتا۔ آئی ایم ایف کی یہ اہم شرط کیا ہوئی تھی کہ گریڈ 17 سے اوپر کے افسران اپنے اثاثوں کو ظاہر کرنا پڑے گا، اب یہ چلتا ہوا ہے کہ انہیں ضرور دکھانا پڑے گا۔

جب تک یہ ریکارڈ نہیں کیے جائیں، لاکھوں کا ایک بہت بڑا وریس سچائی سے چلنا پڑے گا اور ان ترامیم کا مقصد ہی ہوگا کہ کرپشن فری نظام کو تھام دیا جائے۔
 
میری رائے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آئی ایم ایف کی نئی تعریف میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو انکا اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہوگا، یہ واضح طور پر دکھاتا ہے کہ حکومت بہت اہمیت دیتے ہیں کہ کوئی بھی افسر اپنے اثاثے کی transparency maintain karega, لہذا اگر وہ اپنا معاملہTransparent nahi karta ہے تو وہ محکوم ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی اہم بات ہے کہ ان ترامیم کا مقصد کرپشن فری نظام ko banane ka hai, اس سے نتیجہ bhi aayega ki ڈپارٹمنٹ میں transparenti aur accountability badhegi, اور ڈپارٹمنٹ میں transparenti hi nahi toh corruption bhi kam ho jati hai. 📝
 
یہ بھی ایک عجیب حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف اپنے اعلیٰ افسران کی اثاثہ جات ظاہر کرنا شروع کر رہا ہے، یہ واضح طور پر ڈالے گئے ترامیم کے مقصد سے ملتا جلتا ہے کہ ان اثاثوں کو عام masses کے سامنے لاتے ہوئے احتساب کے عمل میں بہتری لائی جا سکے، لیکن یہ سوال ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ اقدام ہر وقت کوڈ میگا کرنا سے ہو رہا ہے یا ان اثاثوں کی ظاہریت سے معاشی زور بھی حاصل ہوتا ہے، یہ دیکھنی بھلائی کے لیے بہت ہی اہم ہوگا
 
جی وہاں آئی ایم ایف کی یہ اہم شرط تو لازمی ہوگئی ہے لیکن اس پر میرا کھل کر Opinion نہیں ہو گا کہ کیا اس سے انفرادی افسران کو اپنے حوالے جانا پڑے گا؟ یہ بات کبھی تو ایک سیاسی گیم بھی ہوئی تھی اور اب کے تو یہ شروعات ہوئی ہے۔ میرا یہ doubt ہے کہ قواعد کو ایسے میں سمجھایا جائے گا کہ وہ صرف ایک ایسے نظام کی تعلیم دیتے ہیں جس سے انفرادی افسران اپنی فیکٹری یا ملازمت کے حوالے لوٹ سکیں اور انھوں نے بھی نا کرپشن لگائی ہو۔
 
ایس لگتا ہے کہ پی ایچ آر کی یہ جانبوں پر کامیاب ہونے کا امکانت ہے، لہذا اس منصوبے کو دیکھنا محتاج ہیں۔ آئی ایم ایف کی ایسی پالیسی کے ساتھ توجہ دینا اچھا ہوگا جس میں ان ATHASATs کا ظاہر ہونا لازمی ہو۔ اس طرح نئی تعریف کی وجہ سے بڑی تعداد میں افسران کو اپنے اثاثات ظاہر کرنے پر مجبور ہونے کا امکان ہے، لیکن یہ ہمیں بھی ان کے اس سلسلے میں تعاون اور محنت کی طرف اشارہ دیتا ہے۔
 
ایسا تو چیٹھو کے لیے کچھ کام ہوا ہے، یہ ترامیم سے پچاس گریڈ کے اعلیٰ افسران کو اپنے اثاثوں کی صورت کو ظاہر کرنا پڑے گا، نئی تعریف میں ان تمام ملازمین کو شامل کیا گیا ہے جو قومی احتساب آرڈیننس پر لگتی ہے تو یہ کام ہو سکتا ہے اور کھونے والی پیٹی کی بات کرو دے
 
ایسے میں، آئی ایم ایف کی نئی شرط پر عمل درآمد ہونے کے ساتھ میری یقین ہے کہ گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ اس سے نہیں یقین کیا جا سکتا، لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ فیصلہ ان کی اقدار کو بھی ظاہر کرے گا۔ مجھے پتّا ہوا ہے کہ یہ تبدیلیات آئی ایم ایف کی نئی ترامیم کا حصہ ہیں، جو وضاحت اور شان ہونے والی حکومت کی نوٹیفکیشن سے ملتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ نئی اقدار پوری کرنے کے لیے ایف بی آر کی جانب سے اسNotification کی ضرورت تھی، چاہے وہ اپنی اقدارات کو ظاہر کرنا چاہتی ہو یا نہیں، میری یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی اقدار کسی حد تک پھیل گئی ہوگی۔
 
واپس
Top