آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف

ستارہ

Well-known member
آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف

غرض ، پی پی پی منصوبوں سے حکومت پر 472 ارب روپے تک پہنچنا بھی ایک یقینی بات نہیں۔ جس سے وفاقی حکومت کی 90.6 ارب روپے کا مالی دباؤ اور پنجاب کی 26.5 ارب روپے کی ذمہ داری ہے۔ سندھ میں یہ تعداد سب سے زیادہ رہی، جس کی مجموعی رقم 335.6 ارب روپے ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی پی پی پی منصوبوں سے 90.6 ارب روپے کا مالی دباؤ ہے، جبکہ پنجاب کی پی پی پی منصوبوں کی ذمہ داریاں 26.5 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔

ان اعداد و شمار کے مطابق، پی پی پی منصوبوں سے حکومت پر اور اس کی صوبائی سطحوں پر لگن بھی بڑا مالی دباؤ ہے جو پوری دہائی تک اپنی جگہ رکھتا ہے۔

دولت کے مطابق ، پی پی پی منصوبوں میں کم از کم آمدن کی گارنٹی ، شرح سود شامل ہے، ڈالر ریٹ اور لاگت میں اضافہ بھی بڑے خطرات میں شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مالی دباؤ کی جانچنے کے لیے نئی نظام متعارف کیا گیا ہے، جس کے ذریعہ اس سے بچنا ہوگا۔
 
472 ارب روپے کی تعداد کو کبھی نافذ نہیں ہوا چکا ، اور اب یہNumber پورا ہونے کا وعدہ بھی پورا ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک نئے مانیٹنگ فریم ورک کو متعارف کروایا گيا ہے لیکن ابھی بھی یہ پتہ چلا ہے کہ اس سے بچنا ہوگا یا نافذ ہونے دوں۔
 
جی تو یہ ایک اچھا سچا کہا جا رہا ہے ، پی پی پی منصوبوں میں کی گئی وعدے کو اب پورا کیا گیا ہے ، لیکن اس کے پیچھے بھی اچھا سچا معاملہ ہے ، ان منصوبوں سے حکومت پر بھاری مالی دباؤ اور ذمہ داریاں ہیں جو ان کے لیے ایک مشکل وقت ہوگی۔

جب میں چھوٹی سنہری پھول کی پہلی باروں سے لڑتا تھا تو اس کا خیال تھا کہ پی ایس ایف پر ایسی سچائی نہیں ہوسکتی ، لیکن اب یہ جانتے ہوئے اچھا سچا کہا جا رہا ہے ، حالانکہ ان منصوبوں کو چلانے کی ناقابل تلافی مہنگی لگ رہی ہے۔
 
مایوس کن بات یہ ہے کہ 472 ارب روپے تک پہنچنا ایک یقینی بات نہیں ، جس سے وفاقی حکومت کی مالی دباؤ اور پنجاب کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس سے وفاقی حکومت کے مینٹر سیکریٹری کو بھی اپنی جگہ پر نہیں رہنے کی اور پنجاب میں پھیلتی ہوئی مالی دباؤوں کا سامنا کرنا پڑega 🤦‍♂️

اس سے قبل بھی، پی پی پی منصوبوں سے ٹیکس ایکسپریشن اور لاگٹ میں اضافہ کے نتیجے میں لوگوں کو ڈیرا واری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ اس مانیٹنگ فریم ورک کے ذریعے اس سے بچنا ہوگا، لیکن یہ انحصار ایک سست سست نظام پر ہی ہو گا اور اس میں بھی ٹیکس ایکسپریشن کے نتیجے میں واضح مظاہرات دیکھی جائیں گی 🤑
 
اس وقت حکومت کو اپنی مالی پالیسیوں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے. یہ بھی بات تھی کہ پی پی پی منصوبوں میں اور اس سے متعلق تمام معاملات کی صحیح جांچ کرکے، پوری ملک کے لیے ایسی وفاقی حکومت کو بنانا چاہئیے جو کسی بھی صورتحال میں اپنی مالی صلاحیتوں کے مطابق سے کام کر سکے.
اس کے علاوہ، ڈالر ریٹ اور لاگت میں اضافے سے بھی جس خطرات کی بات کی جا رہی ہے وہ بھی اس نئے نظام کے ذریعے حل کی گئی ہوگی. حالانکہ، میں یہ بات تو یقینی طور پر بتا سکتا ہوں کہ پوری دہائی تک اس کے خلاف مزید اقدامات لگنے کی ضرورت ہوگی.
 
اس منصوبے کے مالی دباؤ کی جانچنے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایسا اچھا خیال تھا، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب بھی حکومت پر 472 ارب روپے تک پہنچنا ایک واضح بات نہیں ہے ۔
 
یہ دیکھ رہا ہے کہ ہم نے انہیں منصوبوں کی بنیاد پر بنایا ہے لیکن اب اچھی طرح سمجھنے کے بعد، یہ انہیں پورا کرنا ہوگا? پی پی پی منصوبے کو سدھار کرنے والے نئے نظام میں شامل ہونے کے بعد بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ کیوں ایسا ہونا پڑا؟ ان منصوبوں سےGovernment پر 472 ارب روپے تک پہنچنا بھی ایک مستحکم بات نہیں ہے، سندھ میں یہ سب سے زیادہ رہا! میری خواہش ہے کہ ان منصوبوں کو چھپانے کی کوشش نہیں کی جا سکے اور ایسی صورت حال سے بچایا جائے جو پوری دہائی تک رہتی ہے۔ 🤑
 
تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ منصوبے کی دولت کو ایک بات چیت پر پھیلا کر لیا گیا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مقصد اس میں پیسہ جمع کرنا تھا، لیکن اب یہ جانچتے ہیں کہ ان منصوبوں کی سے کیا فائدہ ہوا اور وہ یہاں تک پہنچ گیا کہ پوری دولت سے بھری گئی ۔

میری ذہنی توجہ ایک بات پر مرکوز کی جاتی ہے، یہ کہ حکومت نے ان منصوبوں میں کیا حقیقی فائدہ اٹھایا؟ کیا وہ اس دولت کو صیbilت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں یا صرف اپنے سیاسی معاملات کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟

میری بات یہ ہے کہ ان منصوبوں سے بچنا ہی نہیں، بلکہ اس بات کو بھی جاننا چاہئے کہ حکومت اور وفاقی سرکاری ادارے کی یہ منصوبے اتنی بڑی گنجائش پر پہنچ گئے ہیں کہ اب اس سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔
 
ایک دوسرے کے برعکس ہیں یہ منصوبے جو وعدہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایک بڑا مالی خطرہ بن گئے ہیں، ان پر بھی منصوبہ متعارف کرایا گیا جو ان منصوبوں کی جسمانی چالاوں کو دیکھتا ہے لیکن یہ جاننا کہ ایک منصوبہ کس قدر مالی خطرہ میں پھنسجاتا ہے اس پر کچھ بھی سایہ نہیں ہے، اس لئے یہ منصوبہ بننا ایک بڑا خطرہ ہے جو پوری دہائی تک ایسا ہوگا
 
ایسا میں انتہائی دہشت گردی ہے. یہ کہا جاتا ہے کہ پی پی پی منصوبے سے بھرپور مالی اقدامیت کی گارنٹی دی گئی تھی، لیکن اس پر چلنے والے میں بھی پتہ نہیں لگتا کہ وہ ان اعداد کو کس طرح پورا کرے گا؟ 90.6 ارب روپے تک پہنچنا بھی ایک وعدہ ہے، لیکن یہ کیا نہیں کہ اس پر چلنے والے کو اپنی جگہ رکھنے کی دباؤ کی کوشش کرنی پڑے گی؟ اور پنجاب کی 26.5 ارب روپے کی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان منصوبوں سے باہر بھی چلنا پائے گی۔ 🤑
 
اس پی پی پی منصوبوں کی سٹرٹجیز سے آ کر ابھی اسی طرح کی مالی دباؤ کا سامنا کرنے کو پڑ رہا ہے اور 472 ارب روپے تک جاواب نہیں دیا جا سکتا 🤑. یہ تو ایک بڑا مالی دباؤ ہے لیکن اس سے قبل بھی اس پر سچائی کا رخ کرنا ضروری تھا. ابھی بھی وفاقی حکومت کو اسی طرح کی مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان منصوبوں میں شامل نہیں تھیں 🤔.
 
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں میں انحصار کرتے ہوئے، لگتا ہے کہ میری ایمیٹی بھی توڑ ڈالتی ہے... 😴

نئے منصوبوڂ سے ملا پے گا۔ اس میں 472 ارب روپے تک پہنچنا ایک یقینی بات نہیں... 🤑

میں تو ان کے مالی خطرات جاننے کا امکان دیتا ہوں، لیکن بھرپور مالی دباؤ کیسے دور ہوگا؟... 🤔

کیا یہ منصوبۂ ملا پے گا یا نہیں؟... اس سے منسلک لینا مشکل ہوگا! 😅
 
عقلانی طور پر دیکھیں تو یہ مانیٹنگ فریم ورک اچھا ہوگا ، لیکن یہ بات کوئی نہیں کہیجے کہ یہ وعدے کی پوری کوشش کرسکتا ہے؟ مینے بھی سोचا کہ اچھی طرح سے منصوبوں کی منصوبہ بندی کرکے یہ معاملات کو کمزور کیا جا سکتا ہے ، لیکن یہ سب کچھ ایسا نہیں ہوگا جو آپ دیکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کو اپنی منصوبوں سے لگن پہنچانے کی ضرورت ہے، یہ ایک بدترین چیلنج ہے جو انھیں کبھی سونے دیتا ہے
 
منصوبوں سے ملا پینا ایک جھگڑا ہی رہا ہے ، اس لیے ایسے منصوبوں کا مالی دباؤ جاننا مشکل ہے ۔ اٹھارہ سو پانچ سال قبل کی وعدوں کی طرح آج بھی کوئی یقینی بات نہیں ہے ، اس لیے جس سے حکومت پر پہنچنے والا 472 ارب روپے کے مالی دباؤ میں ایک کمی ہو گئی تو اس کے لئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
 
واپس
Top