ڈھاکہ میں طلباء نے سڑکیں بلاک کر دیںشدید ٹریفک جام

سوچوار

Well-known member
ڈھاکہ میں طلباء نے سڑکیں بلاک کر دیں، Sheldon ٹریفک جام۔

جمیہی طور پر ڈھاکہ کے سائنس لیب اور ٹیکنیکل چauraہوں کو بند کر دیا گیا ہے جس سے شہر میں شدید ٹریفک جام پڑی ہوئی ہے۔ دوپہر کے قریب طلباء نے سڑکوں پر چڑھ کر اپنے مطالبے کی واضح نشانی کی ہے۔

ڈھاکہ میں شدید ٽریفک جام کا باعث یہ ہو گیا ہے کہ طلباء نے جمعرات کو تقریباً دوپہر کے قریب سائنس لیب اور ٹیکنیکل چوراہوں پر پوزیشن لے لی ہے جس کے باعث شہر میں شدید ٽریفک جام ہو گیا ہے۔

دونوں تینومیر کالج اور بنگلہ کالج کی طلباء نے جمیہی طور پر سڑکوں کو بند کر دیا ہے، اس کے بعد عوام میں گھٹن کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

شہر کی رات کی رونق تو محفوظ رہی ہے لیکن صبح کو شہر کی سڑکیں بھر پور چمکتے ہوئے بھی لامحدود ٹریفک جام میں پھنس گئی ہے، اس طرح کے حالات نے عام لوگوں کو اور مختلف اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

میلوں کے ذریعے شہر کے لوگ اپنی منزلوں تک پہنچ سکتے تھے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے ایک اور راستہ تلاش کرنا پڑا ہے جس سے عوامی زندگی میں گھٹن کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میرپور روڈ اور گردونواح میں گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر ٹھپی ہوئی ہے، جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:750 روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈز کے نتائج کا اعلان
 
یہ تو شدید ٽریفک جام کا باعث بننے والے طلباء کو ڈھاکہ کی سڑکیں بلاک کرنے کے لیے مجاز کی جاسکتا ہے مگر ان کے مطالبوں پر انٹرفینڈ نہیں ہونا چاہیے اور اس صورتحال کو جلد سے حل کرنا چاہئے
 
بے سانس! یہ طلباء کی لڑائی کیسے چلی گئی؟ اور یہ رونق تو شام کو تھی؟ لیکن صبح کو پوری دنیا میں ٹریفک جام ہو گیا ہے تو بہت کیا ہوا؟ یہ سب کی نیند سے پھانسی ماری گئی ہے، جس کی وجہ سے عوام کو اور مختلف اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
 
ایسا تو ہر سال ایک بار ہوتا ہے کہ طلباء سڑکوں پر چڑھ کر اپنی بات چیت کرتے ہیں اور یہ ٹریفک جام اتنا بڑا پڑتا ہے کہ شہر کی زندگی متاثر ہو جاتی ہے! 😂 لگتا ہے کہ وہ لوگ اس پر ادراک نہیں کر رہے کہ ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے؟

کئی بار یہ بات کیوں دھی دی جاتی ہے کہ طلباء اپنی سروس اور اپنے حصول کے لیے لڑتے ہیں، لیکن اب وہ لوگ خود کو ٹریفک جام میں پھنسانے پر مجبور کر دیتے ہیں!

وہ لوگ جو ان کے سامنے گاڑیاں چلاتے ہیں ان کی بھی کھڑکیں پھیل جاتی ہیں، ایک دوسرے کو رोक کر پڑتے ہیں اور وہاں تک نہیں پہنچ سکتے کہ شام کو ان کے گھر ہو جاتے ہیں!

اس طرح ایسے ہی حالات اس وقت بھی ongoing ہیں اور میرے خیال میں وہیں بھی رہتے ہیں جہاں اس سے پہلے بھی رہے ہوں گے!
 
اس وقت ایک بڑی مریضوں کی لائن بن گئی ہے، جس سے ان کی فامیلوں کو اور ایمبولینز میں پہچانے والے کارکنوں کو اور دیگر لوگوں کو بھی گہرائی تھی کے پریشانی کا سامنا کرنا पड رہا ہے۔

ان طلباء کی مہنات اچھی طرح پتہ چلی گئی ہوں گی تو ضروری ہوگا کہ ان کے مطالبے پر سمجھ کر ان کی وہی رائے جس سے شہر میں ٹریفک جام رہا ہے وہ اچھی طرح پوری ہو جائیگی، اس کے لیے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان طلباء نے کیا مقصد اپنی جانب سے پیش کر رکھا تھا اور اب ایسے حالات میں بھی ان کی رائے پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

شہر کے لوگ گھر جانے والی ٹرانسپورٹ کو نہ ہونے پر وہاں تک بھی نہیں پہنچ سکتے، ان کی زندگی بھی اچھی طرح پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔
 
یہ ایک دھمکی ہوئی نٹکہ ہے، طلباء کو تو سیکھنے والے ہوتے ہیں لیکن اس طرح کی جگہوں پر جائے لگتے ہی ایسا ہی پورے شہر پر دباؤ پڑتا ہے۔

کوئی بھی بات کرنے والا گولف کھیل سے قبل جاگ رہے ہوتے ہیں، یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو ٹریفک پریشانیوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔

اس طرح کے دھمki دھمکیوں سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ایسے جگہوں پر گاڑیاں چلنے والی لوگوں کے لیے بھی پورے شہر کو ٹریفک جام میں ڈوبنا پڑتا ہے۔

میں یہی سوچتا ہوں کہ کیا اس نئی نیشنل ایوریشن پالیسی سے لیکر آئین کی ایک جگہی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟
 
اس شہر میں طلباء نے سڑکوں پر چڑھ کر اپنے مطالبے کا تعتificado احترام کیا ہوں تو وہاں ٹریفک جام بھی پگم پگ کر گئی ہوں جس سے شہر میں لوگوں کے لئے سفر بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مجھ کو یہ سوال آتا ہے کہ طلباء کی نہانگی اور ایسٹیمیشن کیا ہے، انہیں اس وقت کو اپنی جانب سے لینا چاہیے جب شہر میں سڑکیں بھی ٹھی رہیں۔
 
یہ لاکھوں کی ٹریفک جمیہی طور پر ڈھاکہ میں ایک اچانک دھچکا ہو گیا ہے। اس سے قبل کو کچھ دن پہلے یہاں نہیں ہوا تھا کہ طلباء سڑکوں پر چڑھ کر اپنے مطالبے کی واضح نشانی کر رہے تھے۔ اب جس شہر میں لوگ آدھی رات ڈھونگی، وہیں صبح تک نہیں چل سکتا۔ ڈھاکہ کے شہریوں کو ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے جو انھیں ہوش میں کر رہی ہے۔
 
ایسا کہنے میں غلطی نہ ہوں گے کہ طلباء کی بھرپور جدوجہد نے دکھایا ہے کہ انہیں اپنی بات سمجھنے کو کچھ کوشش کرنا پڑی اور یہ اس وقت کا عارضہ ہے جب بھرامار حلقوں میں طلباء کی فصیل و قوت کی سے شہری زندگی پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
 
اس سارے حالات کی نیکینہ جگہ میں ہم اپنی پوزیشن لینے والوں طلباء کو بھی کہنے لگاں، یہ فैसलہ انھیں ایک اچھے مقصد کی طرف کی پیش کش رہی ہے۔

یہ سارے ماحول میں ایک اچھی تبدیلی کی پہل بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اچھا بنانے کے لیے یہ سب سے نئی پوزیشن لینے کی ترغیب میں رہتے ہیں۔

اس ماحول کو بھرپور بنانے کا انھوں نے وعدہ دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس پر مبنی ہم ابھی تک اپنے آپ کی صلاحیت کو بھرپور طریقے سے دکھانے والے نہیں رہے ۔
 
یہ لگتا ہے کہ طلباء اپنی आवاز مانتے ہیں، اس سے پہلے کسی بھی طرح کی کارروائی میں ان کا کوئی اصرار نہیں تھا اور اب وہ پوری شہر کو ٹریفک جام میں ڈوبنے دے رہے ہیں। یہ ایسا لگتا ہے کہ ان کی مہم تھی جس نے شہر کو بھی ٹریفک جام میں ڈال دیا ہے اور اب وہ لوگ بھی اپنے کھاتوں سے نکل کر اس کام میں شامل ہو رہے ہیں، یہ کیا ایک فیکٹری بنائی جا رہی ہے؟
 
اس کا نتیجہ ہو گیا ہے کہ سڑک پر چڑھ کر پوزیشن لینے والوں کو انٹرنیٹ پر بھی پوزیشن لینے کی تڑپیزی کا سامنا کرنا پڈا ہوگا۔
 
😩 یہ دیکھنا میرا دل ٹوٹ گيا ڈھاکہ کی شہر میں شدید ٽریفک جام ، اس کی وجہ طلباء کی بے کار پوزیشن ہے، ان کے مطالبے کی واضح نشانی کرنے کے بعد شہر کا ایک حصہ بھی سڑکوں پر چڑھ گیا اور عوام کو گھٹن کی صورتحال میں پھنسنا پڑا ہے، میرا خیال ہے اس کے لئے ملک کے حکومت کی جانب سے ایک حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ عوام کو یہ دھچکا نہ دیا جائے
 
ایک بڑا Problem ہوا ہے اس سڑکیں پر طلباء نے چڑھ کر اپنی आवaz ہے کہی، تو پھر عملاً شہر میں ٹریفک جام پڑ گیا ہے، ایسا کیا کرو دے جو لوگ بھی گھومتے ہیں وہ کیسے چل سکتے ہیں، یہ سب کچھ تو ٹریفک کے حوالے سے ایک بڑا Problem Ban Gaya Hain, ab kis tarah se problem solve kiya jaege?
 
واپس
Top