ایک نیا یوکیسٹی سquisہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤस میں "ٹرمپ گولڈ کارڈ” ویزا پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جو انھوں نے بدھ کو کاروباری رہنماؤں کی موجودگی میں شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غیر ملکی شہری تقریباً ایک ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اب امریکہ کا مستقل رہائشی بننے اور بعد ازاں امریکی شہریت حاصل کرنے کا موقع پا سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے انھوں نے یہ منصوبہ گرین کارڈ سے ملتا جلتا ہے لیکن اس کی فوائد گرین کارڈ سے کہیں زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پروگرام اعلیٰ مالیت کے سرمایہ کاروں اور باصلاحیت کاروباری افراد کو امریکہ کی جانب راغب کرے گا، جس سے امریکی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی اور کاروباری اداروں کے لیے ہنر کو برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ گولڈ کارڈ کا آپشن موجود ہے، جس کے تحت وہ کسی ملازم کو امریکہ لانے کے لیے $2 ملین کی سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبے سے امریکی خزانے میں اربوں ڈالر جمع ہوں گے اور عالمی ٹیلنٹ کو امریکہ کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کو امریکی سرمایہ کاری پر مبنی امیگریشن پالیسی کی تشکیل نو میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یہ منصوبہ کمپنیوں اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے فائدہ مند ہے، جس سے ان کے لیے امریکہ میں باصلاحیت ملازمین کو برقرار رکھنا آسان ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤस میں گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیا ٹرمپ گولڈ کارڈ پروگرام اس صورتحال کو بدل دے گا اور امریکی کمپنیوں کو ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنے اور انہیں برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
امریکی صدر نے انھوں نے یہ منصوبہ گرین کارڈ سے ملتا جلتا ہے لیکن اس کی فوائد گرین کارڈ سے کہیں زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پروگرام اعلیٰ مالیت کے سرمایہ کاروں اور باصلاحیت کاروباری افراد کو امریکہ کی جانب راغب کرے گا، جس سے امریکی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی اور کاروباری اداروں کے لیے ہنر کو برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ گولڈ کارڈ کا آپشن موجود ہے، جس کے تحت وہ کسی ملازم کو امریکہ لانے کے لیے $2 ملین کی سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبے سے امریکی خزانے میں اربوں ڈالر جمع ہوں گے اور عالمی ٹیلنٹ کو امریکہ کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کو امریکی سرمایہ کاری پر مبنی امیگریشن پالیسی کی تشکیل نو میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یہ منصوبہ کمپنیوں اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے فائدہ مند ہے، جس سے ان کے لیے امریکہ میں باصلاحیت ملازمین کو برقرار رکھنا آسان ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤस میں گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیا ٹرمپ گولڈ کارڈ پروگرام اس صورتحال کو بدل دے گا اور امریکی کمپنیوں کو ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنے اور انہیں برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔