پی ٹی اے نے درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی - Daily Qudrat

جذباتی

Well-known member
پی ٹی اے نے اپنے مشاہدت سے کہا ہے کہ بھارت میں ایسے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں کے باعث لوگ ان کی خریداری سے منع ہو گئے ہیں، اس طرح پاکستان میں بھی انھوں نے تاخیر کرنے والی ایک پالیسی کو اپنایا ہے جس کے تحت موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کی کمی کی حمایت کی گئی ہے، جو اس وقت کے حالات سے متعلق ہے جب عام صارفین کو ایک نئے فون کا استعمال کرنے میں بھی difficulty ہو رہی ہے۔

انھوں نے حکومت کو سفارشات ارسال کی ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ موبائل فون اب تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، اور اس لیے انھوں نے ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ عوام کو اپنی ضروریات پر فخر کرتے ہوئے فون خرید سکیں، اور انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر ٹیکس میں کمی کی جائے تو وطن واپسی پر مقیم پاکستانیوں کو اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں مشکل محسوس ہو رہی ہے، اور انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ٹیکس میں کمی سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا اور حکومت کو طویل مدت پر ریونیو میں فائدہ ہو سکتا ہے۔
 
موبائل فون کی بھی یہی صورتحال ہوئی جس کے لیے ہمیں پہلے سے ہی اپنی بڑی پالیسی تیار کر لینا چاہیے، اور اب انھوں نے پھر سے یہی دیکھ لیا ہے کہ عوام کو فون خریدنے میں مشکل ہوئی ہے تو اسی لئے ٹیکس میں کمی کی ہوگی، اس سے لوگ فون خرید کر سکنگ گے اور پھر یہی میرا منظر تھا، لکن میرا خیال ہے کہ ایک نئی پالیسی بنانے کی چیلنج بھی ہوئی گی، اور انھوں نے ٹیکس میڰ کمی کی حمایت کی وہ یہاں تک کہ وطن واپسی پر مقیم پاکستانیوں کو اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں مشکل محسوس ہوا تو انھیں ٹیکس میں کمی کی تاخیر کرنی ہوئی، یہ بھی ایک کامیاب پالیسی نہیں ہوگا، میرا خیال ہے کہ ٹیکس میڰ کمی سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھ گا اور حکومت کو طویل مدت پر ریونیو میں فائدہ ہو گا، اس لیے میں بھی ان کی پالیسی کو دیکھنا ہوگا۔
 
بھارتی معاشرے کی پیداوار کی تاخیر سے انھیں یقینی بنایا جائے کہ پاکستان بھی اپنے لوگوں کی ترقی میں بھی اسی طرح کی تاخیر نہیں کی جا سکتی ہو۔ ٹیکس پالیسی میں کمی سے انھیں یقینی بنانے کا وقت آ گیا ہو کہ عوام کو اپنے فون خریدنا اور استعمال کرنا ان کی ترقی کی ضرورتوں سے لے کر پورا ماحول میں اپنا کردار ادا کر سکے ۔
 
ایسے مچھلی کی کھان پانی کی طرح یہ بات نہیں آئی تھی کہ بھارتی ٹیکسیں کھینچنے سے لوگ اپنے موبائل فون خریدنے سے انکھٹ جاتے ہیں اور اب پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے، لیکن میرے لئے یہ بات خوشی کی ہے کہ حکومت نے اپنی تاخیر کرنے والی پالیسی میں ایک اچھی تبدیلی کی ہے، ٹیکس میں کمی سے لوگ اپنی ضروریات پر فخر کرتے ہوئے موبائل فون خرید سکائیں گے اور وطن واپسی پر مقیم لوگ اپنے استعمال کے لیے فون لانے میں مشکل نہیں محسوس کریں گے، یہ سچا ہی بڑھتے ہوئے مارکیٹ میں مقابلہ اور حکومت کے لئے طویل مدت پر ریونیو میں فائدہ کی بات ہے، نہیں تو یہ ٹیکس پالیسی سچمڈار نہیں رہیگی
 
یہ تو ایک حقیقی بات ہے کہ لوگ مچھلی کی طرح فون کھرائیں پھٹائیں دیتے ہیں، اور اب پھر بھارتیوں نے اپنی پالیسی پر چلایا تو ہمیں تو اتنا بھتija میگ لگ رہا ہے کہ اب تو ان لوگوں کے فون خریدنے سے منع کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے، لیکن یہ پالیسی ہمیں تاکید دیتی ہے کہ ٹیکس میں کمی اور فون کی خریداری سے لوگ فخر کرنے لگتے ہیں، اور یہاں تک کہ وطن واپسی والوں کو بھی اسے استعمال کرنے میں عارضی difficulty محسوس ہوتی ہے، لेकिन ایسا کرنا ہمیں بہت کچھ اور چیلنجز پر موافقت کرنا پڑے گا...
 
یہ تو ایک جھگڑا ہے کہ پاکستان کے موبائل فونز پر ٹیکس کتنا عالمی ہو رہا ہے؟ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ایس یو آئی) کی جانب سے یہ بات کہی گئی ہے کہ بھارت میں لوگ ایسے فون پر خریداری کرنے سے منع ہوئے ہیں اور اب پاکستان کا اس کے بعد جو پالیسی بنائی گئی ہو وہ کیا ہو گی؟ یہ بات کوئی نہ کوئی جان سکتا ہے لیکن یہ بات تو پوری ہو چکی ہے کہ ٹیکس کی پالیسی میں تبدیلی کرنے سے عوام کو فخر ہو گی اور ان کے استعمال پر فون خریدنے میں مشکل محسوس ہوا کرے گا، مگر اس سے یہ سوال بھی پڑتا ہے کہ ٹیکس میں کمی سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھتا ہو گا یا حکومت کو نا فائدہ ہو گا? 🤔
 
ایسے نہیں کیا جا سکta۔ ٹیکسوں کی کمائی سے فون خریدنے والوں کو بھی منع نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ ان کی پالیسی میں تبدیلی کرنے کی سفارشات بھی بہت اچھی ہیں۔ فون ایک بہت ضروری چیز ہو گئی ہے۔ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے یہ ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ اگر ٹیکس میں کمی کیا جاتا ہے تو وطن واپسی پر مقیم لوگوں کو بھی اپنے استعمال کے لیے فون لانے میں difficulty محسوس نہیں ہو گی۔ اس طرح مارکیٹ میں مقابلہ بڑھتا جائے گا اور حکومت کو طویل مدت پر ریونیو میڹنے کا فائدہ بھی ملے گا
 
یہ کچھ بات چیت نہیں ہے! پاکستان کی ٹیکس پالیسی کو اس وقت تک ترجیح دی جانی چاہئے جب تک ملک میں فون کا استعمال نہیں ہوتا۔ اب لوگ ایسے ٹیکسوں سے منع ہوئے ہیں جو انھیں اپنی ضروریات کے لیے فون خریدنے سے روک رہے ہیں، یہ تو ایک نئے دور کی شروعات کر رہا ہے!

ایسے میڈیا اور ادارے جیسے پی ٹی اے جو بھارت کے حوالے سے یہ بات بتاتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ اس میڈیا نے اپنی پالیسی کو کیسے تیار کیا۔

دیکھو، اگر ٹیکس میں کمی ہوتا ہے تو وطن واپسی پر مقیم پاکستانیوں کو بھی اپنے استعمال کے لیے فون خریدنے کی اہلیت مل جائے گی۔ اور یہی نہیں، مارکیٹ میں مقابلہ بڑھتا ہے تو ٹیکس داری میں بھی کمی آتی ہے۔

یہ پالیسی ایک بدلAVA کے طور پر کام کر سکتी ہے، اس سے حکومت کو فائدہ ہو سکتا ہے اور ملک میں فون استعمال کی شرح بھی बढتی ہے۔
 
ایسا تو کچھ حقیقت ہے کہ ٹیکسوں کی بوجھ کی وجہ سے لوگ موبائل فونز خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، اور یہ ٹیکس پالیسی بھی ایک بات ہے جو عوام کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے کیونکہ موبائل فون اب تعلیم، کاروبار اور روزگار کا ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔ لیکن اگر ٹیکس میں کمی نہیں کی گئی تو کیا عوام کو اپنی ضروریات پر فخر کرتے ہوئے فون خریدنے کا موقع ملا سگا? یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ٹیکس میں کمی سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھتا ہے اور सरकار کو طویل مدت پر ریونیو میں فائدہ ہوتا ہے، لیکن ایک بات کو یقیناً نہیں کہی جاسکتی کہ ٹیکس میں کمی سے ہی مملکت کی Prosperity ہو سکتی ہے؟
 
بھارت کی نائتی پالیسی کی طرف سے ٹیکس کے مسئلے کا یہ جواب بہت ناکافی لگتا ہے، لوگوں کو ایک نئی فون خریدنے پر روکنے کی پوری پالیسی کی وہی مدد اور توجہ نہیں دے رہی؟ پاکستان میں بھی انھوں نے کیا نقصان خیز تجزیہ کیا ہے? یہ بتایا گئے کہ ٹیکس میں کمی سے مارکیٹ میں مقابلہ ہوگا اور حکومت کو فائدہ پہنچائے گا؟ میرے پاس اس بات کا کوئی-proof نہیں، کھانے کی کیچھ دو پہلی فون خریدنے کی کوشش کر رہے ہو، ٹیکس میں کمی سے انھوں نے اپنی بھرپور فخر اٹھا لی۔
 
یہ واضح ہے کہ بھارت کی یہ پالیسی پاکستان کو ایسے ٹیکس میں لانے پر مجبور کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے جس سے عوام کو اپنے فون خریدنے سے منع کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ بھی یقینی بناتے ہیں کہ اگر ٹیکس میں کمی ہوگی تو لوگ اپنے فون خرید کرکے فخر اور سچائی محسوس کریں گے، اس لیے یہ پالیسی کو اپنانے سے پہلے بھی ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب لوگ نئے فون خریدتے ہیں تو انہیں ایک ایسا فون ملتا ہے جو اس سے بھرپور ترقی کو پیش کرے اور ان کی زندگی کو تیز pace کے ساتھ جینے کی اجازت دی۔
 
ایسے ٹیکس کا یہ رول آئیے تو اس سے عوام کو اپنے فون خریدنے کی تنگاتنگ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور مارکیٹ میں کچھ ترقویت ہوئے گئی گے… اس نئی پالیسی پر کھل کر کچھ لوگ تھکے ہیں… ٹیکس میں کمی سے وطن واپسی والوں کو اپنے فون خریدنے کی شانس مل جائیگی اور مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا…
 
واپس
Top