ایک ہندو انتہاپسند گروپ کیسے بھارت کی سیاست پر قابض ہوا؟
آر ایس ایس کی بنیاد ڈالی گئی تھی، جو پہلی دہائی سے ہندو بالادستی کا نظریہ اپناتے رہتے تھے، جبکہ 1925 میں ان کی تربیت کیمپوں میں مذہبی منافرت اور عسکری تربیت کا چرچا ہوتا تھا۔
1948 میں مسلموں کے حقوق کو نہ لینے پر انہوں نے گاندھی کو قتل کرایا، اس سے پہلے ہندو اور مسلموں کے درمیان طنز ختم کرکے ووٹ بینک میں بھی ہندو بالادستی کو داخل کیا تھا۔
جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آر ایس ایس اور بھارتی سیاست کے درمیان ایک اچھا تعلق ہے، اس گروپ نے 2014 سے ریاستی طاقت میں ہندو راشٹر بنانے کی پالیسی پر کام کرنا شروع کیا ہے۔
جسے نیویارک ٹائمز نے دہشت گرد تنظیم اور سیاسی سرپرست بی جے پی کا پول کھول دیا ہے، جو بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی راہ پر گامزن ہے، اسے واضح یہ ہوتا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی میں ایک اچھا تعلق ہے، ایسی پالیسی جو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کررہی ہے۔
اس پالیسی کے تحت یہ واضح طور پر بات ہوتی ہے کہ اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جاتا ہے، جیسے کہ باطلبائی مسجد کو شہید کرکے رام مندر بناکر دیا گیا ہے، اس طرح یہ گروپ بھارتی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط بناتا رہتا ہے۔
اس کی کتنے جھٹکے ہیں؟ بھارتی سیاست میں ایسا گروپ ہونے پر بھی یقین نہیں کیا جا سکتا جو تمام ہندوؤں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑائی لڑنا چاہتے ہیں، یہ انسانی معاملات کی طرح ہونا چاہیے۔
اس گروپ نے 2014 سے ریاستی طاقت میں ہندو راشٹر بنانے کی پالیسی پر کام کیا ہے، لیکن یہ بات بھی یقین نہیں کہ اسے ہمیں کسی بھی قسم کی ترجیح دینا چاہیے۔
اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم اور سیاسی سرپرست بی جے پی کا پول کھول دیا گیا ہے، لیکن یہ بات بھی یقین نہیں کہ اسے پورا نتیجہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اس پالیسی کو اچھا قرار دینا اور کسی بھی اقلیت کے خلاف مظالم کے طور پر استعمال کرنا بے معاف ہے۔
آر ایس ایس کی خون آلود تاریخ اور اس کا تعلق بھارت کی سیاست سے محبت نہیں کرتی ہے، یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے جیسے ہی گاندھی کو قتل کیا تھا اسی طرح اس کی راز میں بھی ان کے سیاسی سرپرست بی جے پی کا اہل بنتے چلتے رہتے ہیں، یہ تو واضح ہے کہ بھارتی سیاست میں دہشت گردی کی پالیسیوں پر کام کرنا کو نہیں سچا چاہئیے بلکہ دوسری سیاسی दलوں سے بات چیت کے ذریعے یہ بات واضح ہوجائے۔
اسٹیٹ ٹویٹ پر ایس ایس کی خون آلود تاریخ کے بارے میں، یہ بات تھی پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے بھارت کی سیاست کو ایسی پالیسی سے لگا دیا ہے جس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا کام کرنا شروع کیا ہے، یہ بھی بات واضح ہوتی ہے کہ انھوں نے سوشل مीडیا پلیٹ فارم پر بھی اپنی رازیت کو اس پر لگایا ہے، اور یہ ناکام ہے کیونکہ ایس ایس کو اس بات کا ذمہ دار بنایا جا سکتا ہے کہ وہ بھارت میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے اور اقلیتوں کو تھوکی رکھتی رہی ہے۔
اس وقت تک کہ نہیں ہوا ہے کہ یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ اس گروپ کو بھارتی سیاست میں ان کے رشتے تو ہیں، نہ ہی ان کا یہ گروپ ہندو بالادستی کی پالیسی پر کام کرنا شروع کرنا چاہیے۔
جی بلکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس گروپ نے بھارتی Politics میں اپنی اہمیت برقرار کی ہے، انہوں نے 2014 سے ریاستی طاقت میں ہندو راشٹر بنانے کی پالیسی پر کام کرنا شروع کیا ہے، اور اب یہ دیکھتے ہیں کہ نہ صرف ووٹ بینک میں بلکہ حکومت میں بھی ان کی اہمیت کی گئی ہے۔
آر ایس ایس کی خون آلود تاریخ کی بات کرنے پر مجھے لگتا ہے کہ یہ گروپ بھارت کی سیاست میں ایک اچھا تعلق رکھتا ہے اور اس نے ہندو بالادستی کی پالیسی پر کام کیا ہے، جس سے لوگوں کو گھروں میں تشدد کرنا پڑتا ہے #ایکتیسٹ_اسپشالٹیز
یہ بھی بات واضح ہوتی ہے کہ آر ایس ایس نے گاندھی کو قتل کیا تھا اور اس سے پہلے ووٹ بینک میں بھی ہندو بالادستی کو داخل کیا تھا #ہندو_بالادستی
لیکن یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی میں ایک اچھا تعلق نہیں ہے، اس گروپ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی پالیسی پر کام کیا ہے #کشمیر_کی_خصوصی_حیثیت
مگر مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی دونوں نے اپنی پالیسیوں پر کام کرنا شروع کیا ہے #نئا_سیا
اس گروپ کی خون آلود تاریخ کو سمجھتے ہوئے مجھے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم انہیں روکنے والے ہیں #ہم_روکنے_والی
आर ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان تعلقات اس بات سے زیادہ چرچا نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے دھارماکی سندھ پر ووٹ کیے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ گروپ ہندو بالادستی کا نظریہ اپناتے رہتے تھے تو کیے ہی نہیں؟
میں اس بات پر پوری طرح متعقید ہوں کہ آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم کا نام دیا گیا ہے، اس گروپ کی بنیاد میں مذہبی منافرت اور عسکری تربیت تھی اور اس نے مسلموں کے حقوق کو نہ لینے پر گاندھی کو قتل کرایا ہے، اب یہ کہا جاتا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی میں تعلقات ہیں تو یہ سارے باتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی پالیسی کی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔
ایسا کہنا تھا اس گروپ نے ایسے لوگوں کو بھی ساتھ لینا شروع کیا ہے جو اس گروپ کے مطابق رہتے ہیں، لیکن یہ بات اچھی طرح واضح ہے کہ ان لوگوں کو بھی آگ لگائی جائے گی۔ میرا خیال ہے اس گروپ کی پالیسیوں سے نکلنا تھا، لیکن اب یہ تو واضح ہوتا ہے کہ انہیں بھی آگ لگائی جائے گی۔
اس آر ایس ایس کی خون آلود تاریخ سے کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس گروپ نے بھارت کی سیاست میں ایک اچھی بुरائی دونوں ہی سے کام کیا ہے، پہلی دہائی سے ہندو بالادستی کا نظریہ اپناتے رہتے ہیں تو کیا اس میں کوئی غلطی نہیں ہوسکتی؟
بھارت کی سیاست میں ایسے گروپوں کی موجودگی سے انکی پالیسیاں دوسرے گروپوں پر زیادہ ترجیح دی جاتی ہیں، اس کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوتی ہے اور اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اس لیے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارتی سیاست میں ایسے گروپوں کی موجودگی نہیں چاہئے، کیونکہ انکی پالیسیاں دوسرے گروپوں کو کھینچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
میں نہیں دیکھا تھا کہ آر ایس ایس کو اس طرح سے آپریشنل لیڈرز اور سرپرستوں کی بھی لائن اپ کیا ہوا ہو گا. یہ بات صاف تو ہے کہ آر ایس ایس کی سیاسی پالیسیوں میں بھارتی سیاست کے حوالے سے ہمیشہ ہی ایک اچھا تعلق رہا ہے, لیکن یہ بات نہیں پتائی کہ کیسے ان پالیسیوں میں بھارتی عوام کو جانب سے لاکھوں لوگوں کی جان کھونے والا معاملہ شامل ہوا۔ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے تعلق کو آئیے تو یہ سچائی نہیں کی گئی.
ار ایس ایس کی Blood History bharat ki politics par Kabz ho gayi hai ? unki foundation 1925 mein hai jo pehle se Hindu baladasti ka theory apnate rahte the, jaisa ki us samay Muslim logo ke rights ko lenne me nahi diya gia aur Gandhi ko maar kar diye gia. ab to wo group 2014 se Bharat ki politics mein kuch changes laane ki policy par kaam karta hai.
Yeh pata lagta hai ki yeh group aur BJP ke beech ek achha connection hai, jissey Bharat ko Hindu Rashtra banne ki raah par ghum raha hai. Lekin Yeh bhi samjhta hai ki yeh paryavaran mein kuch problem hai, jaise ki baadshaho ka matlab agar to Kashmir ki special status khatam ho jaaye toh?
Lekin yeh bhi sochta hai ki yeh group Bharat ki politics me apna influence banata raha hai, jo galat hai. Kya iske badle yeh group Bharat mein Hindu aur Muslim ke beech samajhdar nahi hona chahiye?
اس نئے پالیسی کے تحت جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے گروپوں کو سرہکھا جاتا ہے جو ہندو بالادستی پر چالتے رہتے ہیں، وہ سب بھارتی سیاست میں دھال رہے ہیں۔
اس نئے پالیسی کا مقصد بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی پوری کوشش ہے، لیکن یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس طرح سے یہ نتیجہ نا کہیں ہوتا، جبکہ اقلیتوں کو بھی اچھی ترتیب میں رکھنا پڑے گا۔