ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق پی ٹی اے کو اہم احکام جاری

گلوکار

Well-known member
پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق پریڈیٹیو ٹرسٹی آف پاکستان (پی ٹی اے) کو اہم احکام جاری کردئے ہیں۔ اس نے اس بات پر مبنی قرار دیا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنا ضروری ہے۔

شہر تالاب نے اور انساف گورننس کی جانب سے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں لائیو سیشنز میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی مواد کا معرject ہوا ہے، خاص طور پر وہ مواد جو شہری ثاقب الرحمان نے نازیبا حرکات کے خلاف بیان کیے ہیں۔

ان سیشنز میں فحاشی کوفروغ دیاجارہاہے، جس کی وجہ سے ٹک ٹاکرز بھرتی بھری دیکھنے کو ملتے ہیں اور اس طرح ان کے پیٹے میں پالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وہ لوگ جو اس میڈیا سے اچھا معاشرہ بنانے کے لئے کام کرتے ہیں، ان کو ایسے مواد سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے جو ان کے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

شہری ثاقب الرحمان نے کہا، "وہ لوگ جسمانی طور پر اور بھावनاتی طور پر اپنے معاشرے کی نقصان پہنچائیں، انہیں بے دھنک اور بدعطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"

پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے غیر اخلاقی مواد کو ساتھ ساتھ بلاک کررہی ہے، ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو پوچھتا ہے جو نازیبا حرکات اور فحاشی کر رہے ہیں اور جسمانی طور پر نقصان پہنچائیں۔

عدالت نے اس کے بعد ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دیا، اور یہ بھی قرار دیا کہ pikaa ایکٹ کے تحت کام کرنے والے اداروں کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔
 
ٹرولنگ کی بات یہ ہے جو سوشل میڈیا پر ہوتी ہے، اس کی پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہے، لیکن یہی نہیں بلکہ اس کے بارے میں بات کرنا بھی مشکل ہے، اس لیے اس پر اقدامات لانے کی ضرورت ہے؟

🤔
 
ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق پریڈیٹیو ٹرسٹی آف پاکستان کے لئے اہم احکام جاری کرنے کا فیصلہ بالکل ضروری ہے، کیونکہ یہ لوگ ایسے مواد کو باڑھاتے ہیں جو معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اس طرح ان کے پیٹو میں پالنے کی کوشش کرتی ہیں۔

لوگ جو سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنے پر مبنی ہیں، انہیں یہ بھی پہچانا ہونا چاہیے کہ ٹک ٹاک اور ایسے اداروں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے جو غیر اخلاقی مواد کو ساتھ ساتھ باڑھاتی ہیں۔

شہری ثاقب الرحمان نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے معاشرے کی نقصان پہنچائیں، انہیں بے دھنک اور بدعطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دینا ایک بڑا قدم ہے، لیکن یہ صرف ایک قدم نہیں بلکہ ایک پہلو ہے۔
 
میں سوچتا ہoon کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو سیشنز میں غیر اخلاقی مواد کو روکنا بھی ایک اہم کام ہے، لیکن یہ بات بھی ضرور پتہ چلتी ہے کہ اس وقت کی ٹک ٹاک پر بھی کیا جارہا ہے؟ کئی بار میں سوشل میڈیا پر فحاشی کرنے والے لوگ دیکھنے کو ملاتے ہیں اور ان کی نیندوں پالنے کا بھی کام ہوتا ہے۔
 
اس کچھ کروٹی ہے، ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق پریڈیٹیو ٹرسٹی آف پاکستان کو اہم احکام جاری کردئے گئے ہیں۔ یہ تو بھاروسا کے بعد بھی کسی نے انہی کچھ کیے، سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ فحاشی نہ کریں اور جسمانی طور پر نقصان پہنچائیں وہ بھلا کر جائین۔
 
یہ بھی ہوتا تھا، جو لوگ سوشل میڈیا پر انہی مواد پر چیلنج کرتے ہیں وہی پہلے سے ہی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یہ مواد کس طرح معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی مدد سے بھی یہ معاشرے میں بدتی ہوئی situación کو ٹھہرایا جا سکتا ہے।

کسی بھی معاشرے میں جسمانی اور بھावनاتی طور پر نقصان پہنچائی جانے والی باتوں کے لیے صاف و صاف انعام دیا جاتا ہے، اس طرح کی مواد کو سونپنا مشکل ہوتا ہے۔
 
زہرہ زہرہ! یہ بہت سچ ہے کہ شہری ثاقب الرحمان نے کیا تھا اس میڈیا سے نقصان پہنچایا ہے، اب تو کس کو نہیں سمجھے گے؟ وہ لوگ جو فحاشی کر رہے ہیں ان کی بھावनاتوں کو ایک دفعہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن وہیں یہ بات تو چال ہے کہ یہ معاشرہ کس سے بنایا جا رہا ہے؟
 
یہی نہیں، یہی نہیں... یہ بات صاف آئی ہے کہ شہری ثاقب الرحمان کو ان پر الزام لگا کر وہ اس میڈیا سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے؟ نہیں، یہ تو کھل کر نکلتا ہے کہ وہ لوگ جو نازیبا حرکات کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں پہلی سٹن بھی دی جاتی ہے اور اس لیے وہاں پر ٹک ٹاک سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے...

لگتا ہے کہ یہ معاشرے میں ایسا ہونا چاہیے کہ جہاں لوگ اپنے خیالات کو آزاد طور پر اٹھائے، نہیں تو یہ سوشل میڈیا کا مقصد چھوڑ دیتا ہے... لیکن وہ لوگ جو اس میڈیا سے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں، انہیں پہلے سے ہی ٹک ٹاک پر نظر آنا چاہیے...

میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی اے کو یہ اعلان ہونا چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کر رہا ہے... نہیں، یہ تو اس کی فخر ہونا چاہیے...
 
یہ ساری بات تو چلچل آ رہی ہے کہ اس میڈیا پر کسی بھی بات کا جسٹس کرتنے کے لئے ہمہ استعمال ایکٹ اور ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میڈیا پر فحاشی سے بھرپور مواد نشر کرنا ہوتا ہے اور یہ تو سوشل میڈیا لوگ انھیں دیکھتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسا کردار ادا کر رہے ہیں کہ وہ معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور انھیں بھی ہم سے محنت کرنا پڑتی ہے کہ انھیں روکنا چاہئے۔
 
ایسے معاملات میں جسمانی نقصان پہنچانے والے لوگ کیسے پہچانتے ہیں، یہ بات سے نا متعلق ہے کہ وہ اس معاملے میں کون سے ادارے سرپریشت کر رہے ہیں۔ ایسے اداروں کو بھی ایسے مواد پر نظر رکھنا چاہئے جو معاشرے کی تباہی کرتے ہیں 🤔
 
I don’t usually comment but… یہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنا ایک اچھا IDEA hai 😊. پریڈیٹیو ٹرسٹی آف پاکستان پر یہ احکام اچھی Tarah kiya ja raha hai, لेकिन ان سیشنز میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی مواد کا معرject ہوا ہے تو اس کو حل کرنا بھی zaruri hai. 🤔
 
ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق پریڈیٹیو ٹرسٹی آف پاکستان (پی ٹی اے) کو اہم احکام جاری کردئے گئے ہیں اور یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنا ضروری ہے۔

اسکولوں میں آدھے سال پھسٹ رہتے ہیں اور اس سے معاشرے کا نقصان ہوتا جاتا ہے، ان لوگوں کو جو سوشل میڈیا پر بھی ایسا مواد دیکھنا پڑتا ہے جس سے اس کی معیشت اور معاشرے کا نقصان ہوتا ہے انہیں یہ سمجھنے میں مشکل ہوتا ہے کہ ایسا کیسے کرنا ہے؟

پاکستان کی معیشت اور معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے اس کی ضرورت ہے۔
 
بھی دیکھو اور سوچو کہ سوشل میڈیا پر گریٹ پبلشنگ کی پابندی کیسے کرنا چاہئے؟ شہریوں کو انٹرنیٹ پر غلطیوں کو روکنے کے لئے بھی ضرورت ہے جس سے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے۔
 
ابھی ان لوگوں کے لیے جو ٹک ٹاک پر غور غوار کرتے ہیں اور ایسے مواد سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں، آج ان کے لئے ایک نئا عمل شروع ہوا ہے۔ یہ ایک بات ہے کہ سوشل میڈیا پر غور غوار کرنا اچھا ہے، لیکن ایسی situations میں جب لوگ اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں تو وہاں سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس لیے، ابھی تک کے یہ واقعہ ہمیں اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں ایسے مواد سے نمٹنا چاہئے جو معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس لیے ہمیں اپنے معاشرے کی بھلائی کے لئے کام کرنا چاہئے۔
 
پریڈیٹیو ٹرسٹی آف پاکستان کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ پوری دنیا میں غیر اخلاقی مواد کے خلاف لڑ رہا ہے ، لیکن یہ تو لڑرہے ہی نہیں ۔ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارتی کو فعال کرنا ضروری ہے جیسے کہ پریڈیٹی وولنٹیری آفیس کی ایک کمرشل اینڈ ٹیکنالوجی ایجنسی نے جاری کردی ہے۔

تalon کا سوشل میڈیا انسٹاگرام پر ہمیشہ بھرپور پوسٹ کر رہا ہے ، لیکن یہ بھی یہی بھائی چارے کے حوالے سے ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو نازیبا حرکات کے خلاف بات کر رہے ہیں، ان کی بات کو روکنے کی کوشش کیا جارہا ہے۔

شہری ثاقب الرحمان کا کہنا تھا "وہ لوگ جو سوشل میڈیا سے اچھی باتیں کر رہے ہیں ان کی بات کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں" لیکن یہ تو صاف تھا کہ وہ لوگ جو گالیت کیں وہی کوئی بات کرنے میں مصروف ہیں۔

اس کے لئے انساف گورننس کی جانب سے ایک درخواست دی جارہی ہے تاکہ وہ لوگ جو ٹالاب میں فحاشی کرتے رہتے ہیں، ان پر دھینک اور بدعطی سے نمٹ سکیں۔
 
اس کی بات یے تھی، جس میں سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنا ضروری ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے کہ لوگ ایسے مواد سے نمٹنا کے لئے موثر طریقوں تلاش کریں گے اور وہیڈ کو کم کیا جائے گا جو انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ بھی اچھا سے لگتا ہے کہ شہری ثاقب الرحمان کی بات سمجھنی چاہئیں، وہ لوگ جو معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں انہیں ایسا نہ لگنا چاہئیں کہ وہ اپنی گنجائش پر بھارتی ہو جائیں، اور اس طرح سے انہیں کیسے نمٹایا جاسکے اور معاشرے کو اچھا رکھایا جاسکے۔
 
ایسا بات کے ساتھ تو ہے کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کا معاملہ سوشل میڈیا کی نئی پالیسیوں کا ایک اہم حصہ بنتا ہے!

لیکن، میں سोचتا ہوا کہ اگر شہری ثاقب الرحمان جیسے لوگ اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں، تو انھیں پھر ایسے مواد سے نمٹنا مشکل نہیں ہونا چاہیے جس کے باعث وہ اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں!

جب کہ ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم جاری ہوا ہے، تو یہ بھی بات کے ساتھ ہے کہ پی ٹی اے نے ایسے لوگوں کو پوچھنا شروع کر دیا ہے جو نازیبا حرکات اور فحاشی کر رہے ہیں، جس سے معاشرے کے نقصان میں کمی ہوسکتی ہے!
 
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر غیر اخلاقی مواد کا ساتھ نہیں لیتا کہیں بھی ہو، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جو معاشرہ کو نقصان پہنچاتا ہے 🤬۔ ٹک ٹاک پر زیادہ تر مواد غیر اخلاقی ہوتے دیکھتے ہیں، جس سے یہ بھی Problem ہوتا ہے کہ لوگ تالاب میں نہ ہونے پر انہیں پہچانتے ہیں 🙄۔ پی ٹی اے کو یہ کام کرنا چاہیے کہ وہ معاشرے کی صحت کو بھی منظر عام پر لایے، اس لیے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو متحرک کر رہے ہیں 📱.
 
واپس
Top