بندرعباس اور اہواز میں کیسفیر تاریکی کا ایک نیا گولہ بستا ہے جس کے نتیجے میں دو شہروں میں دھماکوں کا سیلاب ہوگیا ہے۔
یہ دھماکے ایک عمارت کی تباہی میں شروع ہوئے جس نے شہر کی معلم बلیوارڈ پر ایک نئی لہر فراہم کی ہے۔ اس واقعے کے وقت شہر بھر میں چوتھائی گئی اور شہریوں کے درمیان دھول پڑ گئی، جو کہ معلم سیر کرنے والے لوگوں کو خاص طور پر تباہ کرتا ہے۔
اس دھماکے کی وجہ یہ نہیں معلوم ہو سکتی، جبکہ اس کے بعد شہر بھر میں خوف و ہمेशگی کی لہر پائی گئی۔ شہر میں ہلچل سے فریاد انجانوں سے آ رہی تھی، جس کا مقصد نہیں معلوم تھا اور اس نے اپنی دیکھ بھال کرتے لوگوں کو ایک ایسا حال دیکھنے کی کوشش کی تھی جو انہیں ہلچل سے پانی پینے پر مجبور کر دے گا۔
اس دھماکے میں 5 افراد جلاوطن ہوگئے، جبکہ کئی گاڑیاں اور قریبی دکانیں متاثر ہوئیں۔ شہر کی سرکاری ایجنسی نے بتایا کہ عمارت میں دھماکے سے 8 منزلیں تباہ ہوگئیں، جس کے بعد شہر بھر میں خوف و ہمेशگی کی لہر پائی گئی۔
اس دھماکے میں ساتھ ہی ایک رہائشی عمارت میں گیس دھماکا کیا گیا جس نے شہر اہواز کو بھی تباہ کر دیا۔ اس عمارت میں 4 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کی ایک خواتین کی بچیا جان ہوئی۔
دوسری جانب اہواز شہر میں ایک گیس دھماکا کے نتیجے میں ایک نوجوان کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکتی، جس کے بعد شہر بھر میں خوف و ہمیشگی کی لہر پائی گئی۔
یہ تو ایک بڑا کےسم تھا! ایسی ہی واقعات ہو رہے ہیں، نہ تو یہ روكن پہنا چاہیے اور نہ ہی ٹھیک کرنا چاہیے! ان شہروں میں کیسفیر تاریکی کا ایک نیا گولہ بستا ہے، تو اس کا Meaning تو کیا ہوگا؟ پھر یہ دو شہروں میں دھماکوں کا سیلاب پڑ رہا ہے، اور وہ لوگوں نے یہی دیکھنا چاہیے؟
یہ دھماکے سے ہمراہ یہ بات بھی دیکھنی چاہیے کہ شہروں میں دھول اور تباہی کی صورت حال میں، لوگ ایسے دھندلوں کو ہٹانے پر مجبور ہو گئے ہیں جن کا مقصد صرف انجانوں کو ہلچل سے پانی پینے پر مجبور کرنا ہوتا ہے، اور اس سے یہ بات بھی ٹھہرتی ہے کہ 5 افراد جلاوطن ہو گئے، اور ان سے پہلے کچھ لوگ ہلاک ہوئے، لेकिन یہ بات بھی ہے کہ وہیں ایک خواتین کی بچیا جان ہوئی، جو اس بات کو ٹھہراتا ہے کہ انسان کو ہلچل سے پانی پینے کا موقع ملتا ہے
اس دھماکے کی وجہ کیسفیر تاریکی کو نہیں مل سکتی؟ کس بات سے یہ گولہ بستا گیا؟ اس نے ہلچل میں ایسے لوگ جھانٹے ہوئے پانی پینے پر مجبور کیئے? 5 افراد جلاوطن ہو گئے، لेकن یہ کیسفیر تاریکی کا نتیجہ نہیں؟ کسے دھماکے سے 8 منزلیں تباہ ہوئیں?
اس دھماکے میں گیس دھماکا کی بات بھی ہوگئی، جس نے شہر اہواز کو بھی تباہ کر دیا؟ اس کا ساتھ دوسری جانب ایک نوجوان کو ہلاک کر دیا گیا? یہ سب کچھ کیسفیر تاریکی کی واضح بات ہے۔
ਮੈਂ ਸਭ ਤੋਂ آہستrieben ہو رہا ہوں, یہ واقعات دھماکوں کے بے حد دھکے سے ہوئیں, جو شہر میں تباہی کی لہر لانے والے ہیں
میں اس حوالے سے ایک Diagram Draw کروں گا:
```
+---------------+
| دھماکہ |
| عمارت |
+---------------+
|
|
v
+-------------------------------+
| |
| معلم بلیوارڈ پر دھول |
| پڑی، شہریوں کو تباہ |
| کرتا ہے |
+-------------------------------+
```
اس سے سپوریٹس بے حد، شہر میں خوف و ہمیشگی کی لہر پائی گئی ہے, اس سے یہ بات بھی انکار نہیں کر سکتی کہ دھماکے اور دھول کو ایسا تازہ موسم میں دیکھنا بے حد کھینچنے والا ہے
اس کے علاوہ، اس حوالے سے شہر کی سرکاری ایجنسی کو اپنی دیکھ بھال کرنی چاہیے, اور 5 افراد کو جلاوطن ہونے پر یہ بات تازہ موسم میں لانے والے دھماکے کا سابق اور بہت زیادہ خطرناک ہے!
بے سانس یہ واقعہ ہوا ہے جو دونوں شہروں کو دھکیا دھکیا کرتا ہے، لاکھوں لوگوں کی زندگی اچھل گئی ہے ، یہ بتاتا ہے کہ جس عرصے میں ہم اپنی آگے بڑھ رہے ہیں، تباہی اور دھماکوں کے ساتھ ہی نہیں چل پاؤں گے، یہ سب ایک ہی بات ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کس طرح ہمیں اپنی زندگی میں بھرپور تبدیلی لاکھیں گے۔
یہ سب ایک دھماکا سے شروع ہوتا ہے، جیسا کہ قبل مینوں بھی ہوا کرتی تھی، اور اب وہی ہو رہی ہے، شہر میں ہلچل سے فریاد انجانوں سے آ رہی ہے، جس کا مقصد نہیں معلوم تھا اور اس نے اپنی دیکھ بھال کرتے لوگوں کو ایک ایسا حال دیکھنے کی کوشش کی تھی جو انہیں ہلچل سے پانی پینے پر مجبور کر دے گا।
اس دھماکے میں 5 افراد جلاوطن ہوگئے، مگر اس سے ہم کو یاد رہتی ہے کہ 2008 میں بھی ایسا ہی دھماکا ہوا تھا، اور ابھی تک اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکتی۔ شہر اہواز کو ان گیس دھماکوں سے پھنسایا جا رہا ہے، جیسا کہ قبل مینوں بھی اس طرح ہوا کرتی تھی، اور اب وہی ہو رہی ہے۔
ایسا دھماکہ تو اس سے قبل بھی آتا رہا ہے، مگر یہ دھماکہ کیسفیر تاریکی سے آیا تو اس پر اچھا نہیں چلے گا، شہر میں ایسا ہونا بے درانی ہے۔
اس دھماکے کے بعد شہر کی سرکاری ایجنسیوں نے اتنا ہی کیا کہ اس پر چوکور دیکھنے کا کام کیا، اور اب یہ لوگ ہلچل میں رہتے ہیں تو ایسا نہیں رہنا چاہیے۔
جب شہر میں دھول پڑ جائے تو ایسا کیسفیر تاریکی کا کام ہے؟
عصبت اور خوف و ہمेशگی کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ سچ ہے کہ اس دھماکے کا سیلاب شہر کی زندگی کو توڑتا ہوا دیکھ رہا ہے۔
عصبت اور خوف میں لوگ جسمانی لچک کے بغیر نکلنے لگتے ہیں، انھوں نے ایسی صورتحال کو دیکھ کر اپنی زندگی کو توڑ کر دیا ہے۔
اس دھماکے میں جلاوطن افراد بھی شامل تھے، جس سے اس دھماکے کے بعد شہر میں ایسی صورتحال پائی گئی جو ہمیں دوسرے شہروں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے جہاں سے وہ لوگ اپنی آبادیوں پر رکاوٹ کے طور پر ہوتے تھے۔
بندرباس اور اہواز میں دھماکے نہا رہے ہیں، یہ تو یقینات ہیں کہ شہروں کی سڑکوں پر چارٹر جاری نہیں ہے، شہریوں کو بھی انسٹاگرام پر ایک نیا فیلڈ ملا ہے جس میں یہ دھماکے بھی شامل ہیں۔
میں یہ سोच رہا تھا کہ شہر کے دروازوں پر فٹاپ کا ٹکڑا رکھنا جیسا کہ دھماکوں سے پہلے بندرباس میں ہوتا تھا یہ نئی عہد کی چیلنج ہو گیا ہے، لگتا ہے کہ شہر کی سرکاری ایجنسی کو یہ بھی ضروری ہو گيا ہوگا کہ انسٹاگرام پر سوشل میڈیا مینجمنٹس کو بھی تعلیم دی جائے،
دوسری جانب شہروں کی سڑکوں پر چارٹر لگانے والوں سے ناکام رہنا۔ ہمیں یہ ضروری ہے کہ اپنی بچتیں اور معاشرے کی دیکھ بھال کو دھندلے نہ کرے اور ایسے واقعات سے بھی تعلیم لے لیں جیسا کہ ہمارے سامنے اب یہ دھماکے واقع ہو رہے ہیں۔
بندر عباس اور اہواز میں دھماکے کی یہ سیر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہمارے ملک کی سلامتی کے حوالے سے بہت کچھ کیا جاتا رہا ہے। لوگ ایسے دھماکے میں ہلاکتوں کے بعد تو رات کو باہر نہیں نکالتے، لیکن شام کو بھی یہ دھماکے ہوتے ہیں اور اس میں ہلاکتوں کی تعداد بھی وہی ہوتی ہے جو رات کے ہالچ سے نکلنے والے لوگ رات کو باہر جاتے ہیں۔
اس لیے یہ بات صرف دھماکے کی بات ہو سکتا ہے، لیکن اس سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ ہم کیسے رہتے ہیں جب شام کو بھی ہلچل اور دھماکے ہو رہے ہیں؟
اس دھماکے سے قبل یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ شہروں میں ہونے والے ان واقعات کی سب سے اہم چیز کیا ہے؟ ہر جگہ ایک نئی لہر پیدا ہوتی ہے، لیکن یہ سوال پوچھنا مشکل ہے کہ اس لیے کہ یہ دھماکے ہوتے ہی شہریوں کی جان و مال کو لوٹا دیتے ہیں۔
اس گولہ بست کی وجہ سے اس شہر کے نوجوان جھک کر پڑتے ہیں، انھوں نے اپنی زندگی تباہ کر دی ہے اور اس لیے وہ اس واقعے سے پچتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعات ان لوگوں کو تباہ کررہے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی بنانے کی توفیق حاصل کی ہے، جبکہ انھیں اس وقت کے لیے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ یہ واقعات ان کے لیے کیا ہیں۔
بندنہ اور اہواز میں دھماکوں کا یہ واقعہ ٹریڈیشن پر مجبور کرتا ہے کہ شہروں میں تاریکی کی وجہ سے ہونے والے دھماکوں کو توڑنا مشکل ہو گیا ہے؟ لگتا ہے یہ دھماکے اس لیے ہوئے کہ شہروں کی سرفہرست عمارات میں ایسے دھماکوں کو جڑنا مشکل ہو گیا ہے؟ لگتا ہے یہ دھماکے اس لیے ہوئے کہ ان عمارتوں میں نئی سیر کرنے کی پالیسی جاری ہے؟ پھر کیا اس صورت حال میں کچھ ناں ناکام ہوتا ہے، جو کہ شہروں کو اس طرح ایک گولہ بستا دیتا ہے؟
اس دھماکے سے پہلے اور اس کے بعد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے کیا یہ واضح ہو رہا ہے کہ شہریں ان سارے حالات میں کیسفیر تاریکے پر جاسے گئے؟ اور ان دھماکوں کی وجہ کیا یہ نہیں معلوم ہوسکتی؟ اس واقعے سے پہلے شہر میں کسی بھی قسم کی سچائی یا تیندوی نہیں تھی، لیکن اب یہ لوگ ایسے حالات میں کیسے رہتے ہیں جو انہیں خطرناک لگ رہے ہیں؟
اس دھماکے کا خیال کر رہا ہو تو اس سے پہلے بھی یہ ہو چکا ہوگا، لاکھوں لوگوں کو دھول میں گریٹ رائے کی پہچان کر دیتا ہے اور ان کے ساتھ انفرادی معاملات پر توجہ نہیں دی جاتی، ابھی ایک دھماکا ہو گیا تو شہر بھر میں خوف و ہمیشگی کی لہر پائی گئی، یہ کیسفیر تاریکی نہیں ہے بلکہ ایسا کیریسپیکیشن جو ہوتا رہتا ہے جس سے ہمیں اپنی زندگی کو ہلچل میں دھونے کی پڑتی ہے