پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا اور ان دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے معاہدے پر رضامند ہونا ہوگا یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جس کو طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکی کے مترادف سمجھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے، جس میں ایران اور امریکا کے تعلقات کی گہری تاریخ شامل ہے، جو جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور مذہبی و ثقافتی اشتراک پر مبنی ہیں۔
پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک متوازن اور خود مختار کردار ادا کرنا ہوگا، اس لیے کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔
پاکستان کی سفارتی کوشش ایک مثبت اور ذمے دارانہ قدم ہے جو اس بات کی نشانی کر رہی ہے کہ پاکستان خود کو علاقائی اور عالمی امن سے الگ تھلگ نہیں سمجھتا بلکہ ایک فعال اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی تلافی چاہتا ہے۔
پاکستان کو اپنی تاریخ سے سیکھنا چاہیے کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی وہ رہنمائتیں نہیں لائیں گئیں جن سے اس نے فائدہ اٹھایا ہے، بلکہ ایٹمی غیر استعمال کے لیے اپنے حق کی ایک بڑی قوم بن گیا ہے۔
پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی مشاورت بڑھانی چاہیے، جس میں چین، روس، ترکی اور خلیجی ممالک کی مدد مل سکتی ہے۔
اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی خدوخال کو سمجھنے سے پاکستان نے انٹرنیشنل مرچنٹ بینچ مینجمنٹ آرگنائزیشنز میں بھی اپنا حصہ ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی آورتی اور معیشت میں بھی بڑھتا ہوا ترقی ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے معاہدے پر رضامند ہونا ہوگا یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جس کو طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکی کے مترادف سمجھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے، جس میں ایران اور امریکا کے تعلقات کی گہری تاریخ شامل ہے، جو جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور مذہبی و ثقافتی اشتراک پر مبنی ہیں۔
پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک متوازن اور خود مختار کردار ادا کرنا ہوگا، اس لیے کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔
پاکستان کی سفارتی کوشش ایک مثبت اور ذمے دارانہ قدم ہے جو اس بات کی نشانی کر رہی ہے کہ پاکستان خود کو علاقائی اور عالمی امن سے الگ تھلگ نہیں سمجھتا بلکہ ایک فعال اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی تلافی چاہتا ہے۔
پاکستان کو اپنی تاریخ سے سیکھنا چاہیے کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی وہ رہنمائتیں نہیں لائیں گئیں جن سے اس نے فائدہ اٹھایا ہے، بلکہ ایٹمی غیر استعمال کے لیے اپنے حق کی ایک بڑی قوم بن گیا ہے۔
پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی مشاورت بڑھانی چاہیے، جس میں چین، روس، ترکی اور خلیجی ممالک کی مدد مل سکتی ہے۔
اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی خدوخال کو سمجھنے سے پاکستان نے انٹرنیشنل مرچنٹ بینچ مینجمنٹ آرگنائزیشنز میں بھی اپنا حصہ ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی آورتی اور معیشت میں بھی بڑھتا ہوا ترقی ہوئی ہے۔