ایران کی جانب سے جنگ شروع نہیں کرنے کی وعدہ دیتی ہے، لیکن اگر اس پر مسلط کیا جائے تو ملک اپنی مکمل طاقت کے ساتھ بھرے پھول میں لگے گا۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک کو ایسی صورتحال سے باقی رہنا چاہیے جس کا اختتام دشمنوں کی جانب ہی نہیں ہوگا۔
اس وقت ایران جنگ کی تیاری کے حوالے سے ’جنگ کی حالت‘ میں ہے، اور اس ملک کو لازمی طور پر دفاعی تیاری کرنی چاہیے۔ ایرانی نائب صدر نے گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ اور حالیہ علاقائی تناؤ کے حوالے سے بات کی ہے، جس میں امریکی فوجی تعیناتیاں بھی شامل ہیں۔
اس وقت ملک ’مذاکرات کے لیے تیار ہو گئا‘ ہے، لیکن اس بار امریکا کی جانب سے واضح اور قابل اعتماد ضمانت مانگی گئی ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔
پچھلے مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران پر حملہ کیا تھا، لہٰذا اس بار ملک کو یقین دہانی چاہیے کہ مذاکرات حقیقی ہیں نہ کہ کسی بڑے منصوبے کا بہانہ۔
ایران کی حکومت جنگ اور دھمکیوں سے بات چیت اور سفارتکاری کے لیے تیار ہیں، لیکن اس وقت انہیں ملک کو ایسی صورتحال سے باقی رہنا چاہیے جس کا اختتام دشمنوں کی جانب نہیں ہوگا۔
اس وقت ایران جنگ کی تیاری کے حوالے سے ’جنگ کی حالت‘ میں ہے، اور اس ملک کو لازمی طور پر دفاعی تیاری کرنی چاہیے۔ ایرانی نائب صدر نے گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ اور حالیہ علاقائی تناؤ کے حوالے سے بات کی ہے، جس میں امریکی فوجی تعیناتیاں بھی شامل ہیں۔
اس وقت ملک ’مذاکرات کے لیے تیار ہو گئا‘ ہے، لیکن اس بار امریکا کی جانب سے واضح اور قابل اعتماد ضمانت مانگی گئی ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔
پچھلے مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران پر حملہ کیا تھا، لہٰذا اس بار ملک کو یقین دہانی چاہیے کہ مذاکرات حقیقی ہیں نہ کہ کسی بڑے منصوبے کا بہانہ۔
ایران کی حکومت جنگ اور دھمکیوں سے بات چیت اور سفارتکاری کے لیے تیار ہیں، لیکن اس وقت انہیں ملک کو ایسی صورتحال سے باقی رہنا چاہیے جس کا اختتام دشمنوں کی جانب نہیں ہوگا۔