آج ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں نے بڑھ کر تیز ہوئے، جس کے ساتھ اس وقت تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ بن گیا ہے۔ مظاہروں میں بچوں سمیت کم از कम 42 افراد مر چکے ہیں، جس میں سے 8 بھی ایلام میں پائے گئے ہیں۔ شاہنشاہ ایران کے سابق ملازمتوں والے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ بھی اس معاملے میں سب سے اہم بات ہے، جس کی وجہ سے شاہWindh Bad اور Yeh Akhri Jung Haya! Pehliw Vapas Aaye Ga کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔
دنیا بھر میں اس معاملے پر غور و فکر کرتے ہوئے، امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے اور کہا ہے کہ اگر مظاہروں میں کسی شخص کو قتل کرنا شروع کیا جائے تو انہیں خاموش نہیں رہنی چاہئے۔
ایران میں اس معاملے پر لوگوں کی رائے مختلف ہے، لیکن وہ تمام لوگ ایک بات سے متفق ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے۔
ایران میں مظاہروں کے بعد ایران کی پہلی خواتین سینیٹ کی اجلاس، جس کے دوران انہوں نےIranian parliament کے وزرائے کے خلاف مظاہروں کو برطانیہ اور امریکہ سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کرنا ہوگا، اس معاملے میں وہ تمام دوسرے ممالک کی جانب سے یہ کہا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے، اور ایران کی حکومت پر بھی یہ بات کہی گئی تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے۔
مظاہروں میں جس طرح بچوں کی جان بہل گئی ہے، اسی طرحIranian police نے بھی وہی ساتھ دیکھا ہے۔ ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے۔
انڈسپینڈنٹ نے بتایا کہ مظاہروں میں 10 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر اس مظاہرے کے خلاف مظاہروں بھی ہوئے ہیں۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں آمران خان کی حکومت سے سست لگائی تھی کہ اگر وہ اس معاملے پر سمجھ چکے ہو تو اس کا بھی ایک خاص جاواب دے گئے ہوتے۔
ایران میں پہلوی سندھی نے اپنی آواز کی نہر میں آ کر مظاہروں کا اچانک خاتمہ کیا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس معاملے پر یہ سلسلہ نہیں ہوگا اور مظاہروں کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ਮੈਂ ان مظاہروں ਕے لئے اپنی دھنچکا دیتا ہوں جو ایران میں ہوئے ہیں، جس نے ملک بھر میں لوگوں کی جان گھڑ دی ہے اور ان مظاہروں میں وہی ساتھ دیکھا ہے جو پولیس کا بھی ہوا ہے، مੈن ان لوگوں کی حمایت کرتا ہوں جو ایسے معاملوں میں اپنی واضح رائے پیش کرنا چاہتے ہیں جس پر اس وقت ایران کی حکومت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان لوگوں کی جانب سے یہ سب کچھ کہا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے، اور ایران کی حکومت پر بھی یہ بات کہی گئی تھی کہ آیت الل۹ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے، لیکن ایران میں پہلوی سندھی کی بھی ایسی اچانک دھنچکا دی گئی تھی جو ان مظاہروں کا خاتمہ کر دی تھی، حالانکہ اس معاملے پر مظاہرے بھی جاری ہیں۔
بھول بھول ہوا، ایک بار پھر Iran میں معاشی بحران کے بعد مظاہروں نے تیز ہو کر زبردست بھی ہو کر دیکھا ہے! اور شاہنشاہ ایران کے سابق ملازمتوں والے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ اٹھانے سے اب پہلے بھی ہوا تھا، لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ یہ معاملہ کو حل کر سکے گا یا نہیں!
دنیا بھر میں اس معاملے پر غور و فکر کرتے ہوئے، امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے Iran کو سخت وارننگ دی ہے اور یہ بات کہی ہے کہ اگر مظاہروں میں کسی شخص کو قتل کرنا شروع کیا جائے تو انہیں خاموش نہیں رہنی چاہئے... یوں ہی Iran کی حکومت کو بھی ایسا ہی بتایا جا رہا ہے!
لیکن، ایران میں لوگوں کی رائے مختلف ہے اور وہ تمام لوگ ایک بات سے متفق ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے... یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ Iran کی پہلی خواتین سینیٹ کی اجلاس میں وہ تمام لوگ ایک بات سے متفق ہوئے تھے!
مظاہروں میں جس طرح بچوں کی جان بہل گئی ہے، اسی طرحIranian police نے بھی وہی ساتھ دیکھا ہے... یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے!
اس معاملے پر لوگ ایک بات سے متفق ہیں... مظاہروں کو ایسی سلوک کے ساتھ کنٹرول نہیں کیا جا سکتا جو کہ ہوا!
عیر خان جاناب ایک دھمakiyan baat hai, Iran mein kya hua hai woh koi nahi jaanta, lekin yeh to sach hai ki police aur government sab kuchh galat kar rahi hai!
aaj ke din Iran mein 42 log mar chuke hain? woh bhi bachche! toh government ko yeh kya karna chahti hai? kuchh nahi, naa toh woh hi karta. aur رضا پہلوی ki wapas aane ki baat? yeh to kya galat nahi hai, logon ko yeh chaahte hain!
USA ke president Donald Trump ne Iran ko warn diya hai, lekin woh bhi kuchh nahi karta. wo toh ek dushman hai, naya dushman hai. Iranian government ki baat koi to sunta hai? khud par kharaab hai yeh.
یہاں تک کہ ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں نے بڑھ کر تیز ہوئے، وہاں تک کہ مظاہروں میں بچوں سمیت کم از کم 42 افراد مر چکے ہیں، یہ ایک غم زدہدہ واقعہ ہے اور اس پر کبھی نہیں سوچنا چاہئے، مظاہروں میں ایران کی پہلی خواتین سینیٹ کی اجلاس بھی ہوئی جس کے بعد وہ تمام دوسرے ممالک نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے، مظاہروں کی یہ صورت حال اس وقت تک بھی سست نہیں ہوئی ہے جب تک کہ ایران کی حکومت نہیں کرتی اور لوگ نہیں سوچتے اور نہیں کرتے ۔
یہ بہت گھینٹا معاملہ ہے، Iran میں بچوں سمیت زبانیں آرامی نہ رہیں! یہ 42 افراد کی جان لگا چکی ہیں، اگر ملک میں کسی حد تک معاشی بحران کا حل نہیں ملta ہے تو کسی حد تک بھاگتے پھریں۔
ان آمران خان کی حکومت کے بارے میں صدر ٹرمپ نے سست لگائی ہوئی، لیکن وہ کیسے؟ Iran کا معاشی بحران کب حل ہو گا، اس پر کسی کو بھی غور کرنا چاہئے!
عیرہ انصاف کی بات ہے، ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں کو دیکھتے ہی یہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ لوگ کیسے سوتے ہیں؟ معاشی بحران کے خلاف مظاہروں میں بچوں کی جان بھری ہوئی ہے، اس کی پہلی بار دیکھی جا رہی ہے۔ اس وقت تک ایران میں سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ بن گیا ہے۔
اس معاملے پر غور و فکر کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے، اس پر سب سے زیادہ متفق ہوئے ہیں۔
اس معاملے میں ایران کی حکومت کے خلاف بھی مظاہروں ہوئیں، اور وہ لوگ جو ایران کی حکومت کو ممتاز رکھتے ہیں ان پر بھی مظاہروں ہوئیں۔ اس معاملے میڰی ملک بھر میں کسے بھی قسم کی تشدد یا زلزمہ نہیں ہوا، اور یہ سب وہ لوگ دیکھتے ہیں جو ایران کو ممتاز رکھنے پر متاثر ہیں۔
ای ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں نے بڑھ کر تیز ہوئے، جس کے ساتھ اس وقت تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ بن گیا ہے... اور یہ سوچتے ہی سوچتے ہوں کہ اس معاملے پر پھر سے بات نہیں کی جا سکتی؟ ان مظاہروں میں 42 افراد مر چکے ہیں، اور یہ سوچتے ہی سوچتے ہوں کہ پھر سے اس معاملے کو حل نہیں کیا جا سکتا? وہ تمام لوگ جو ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوئے ہیں، ان کی یہ رائے تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے... اور اب وہاں تک بھی نہیں تھا؟ اور اب یہ سوچتے ہی سوچتہ ہوں کہ ایران میں اس معاملے پر لوگوں کی رائے مختلف ہے... لیکن وہ تمام لوگ ایک بات سے متفق ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے!
ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں نے تیز ہو کر بھرے ہوئے جسے سب سے زیادہ اموات کی تاریخ میں ریکارڈ بنایا ہے، یہ تو کہیں نہ کہیں دیکھنے میں آتا ہے، اس معاملے پر غور و فکر کرنے والوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممتاز رکھنا ضروری نہیں ہے، لیکن یہ بات ایسے سے لگ رہی ہے جیسے ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں کا ایک نئا دور شروع ہو گیا ہو ، ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر مظاہروں کے خلاف مظاہروں ہوئے ہیں، اور انٹرنیٹ سروس بھی بند ہو گئی ہے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں کا ایک نئا دور شروع ہو گیا ہو.
ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں نے تیز ہو کر آئے ہیں، جس کی وجہ سے پچھلے برسوں میں سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ بن گیا ہے। مظاہروں میں بچوں سمیت کم از کم 42 افراد مر چکے ہیں، جس میں سے 8 بھی ایلام میں پائے گئے ہیں। یہ معاملہ ان کو تیز کر رہا ہے اور ایران کی حکومت پر بالکل یقینی نہیں کہ وہ اسے کنٹرول کر سکتی ہے .
انہوں نے امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ سے بھی ایک شدید تھکاوट دی ہے کہ اگر مظاہروں میں کسی شخص کو قتل کرنا شروع کیا جائے تو انہیں خاموش نہیں رہنی چاہئے!
یہ معاملہ ایران میں لوگوں کی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے اور اس پر تمام ممالک کی جانب سے غور و فکر کرنا ضروری ہے .
اس داعنے میں تو بھارت و امریکہ نے اپنی پکڑ دی ہے، لیکن آج ایران کا معاشی بحران کس طرح حل ہوگا؟ یہ سوال اب تک کچھ نہیں جواب دے رہا ہے، مظاہروں میں ساتھ ساتھ معاشی مسائل بھی آئے ہوئے ہیں۔ پہلوی جیسے نेतاؤں کو واپسی کا مطالبہ کیا جائے گا تو اس کی وجہ سے مظاہروں میں مزید تیز ہونے کی امکانیت ہے۔
ایسے مظاہروں میں بچوں کی جان بہلنا تو بھرپور دکھ کا شکار ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ وہی رائے جاتے ہیں جو ان کے دل میں بتلتی ہے۔ لاکھوں لوگ مار پیٹ بھر کر گھروں سے باہر نکلے تھے اور اپنے حق پر آؤٹ برینت رہے تھے، مگر ان کی جبان بہل گئی تو ہم سب کو ہی چلتا ہے کہ اس معاملے میں کیا ناکام نہیں ہوتے؟ :/
عجائب اس معاملے پر مجھے بھی گہرہ تیز لگتا ہے! یہ دیکھنا بھی عجیب ہے کہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے آمران خان کی حکومت سے اس معاملے پر جو जवاب دیتا ہے وہ ہیں جس کے لیے بھرپور مظاہروں میں لاکھوں لوگ نکلتے ہیں اور بچوں کی جان بہل جاتی ہے! اس کی واضح بات یہ ہے کہ جو ملک میں مظاہروں پر تھاپتے ہیں ان سے کچھ بھی نتیجہ نہیں چلتا، بلکہ جب لوگ ایسے معاملات میں اٹھتے ہیں تو ان کی جان بھی لے لی جاتی ہے!
اس معاملے پر غور کرنے سے پھر بھی نہیں ہوا کہ ایک اور معاشی بحران ایران میں پیدا ہوگا تو کیا اس میں بھی ابھرنا دیکھنا پڑے گا?
اس سے قبل بھی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نہیں ہوئی تو کیا اب وہی کیاجائے گا؟ مظاہروں میں بچوں کی جان بہلنا یہی نہیں بلکہ ایران کی حکومت کو اپنے اقدامات پر غور کرنا چاہئے!
ایران میں معاشی بحران کے دوران لوگوں نے اپنی آزادی کے حقدار محسوس کرنا شروع کر دیا ہے اور مظاہروں سے لگتا ہے اس پھر کی آواز وہی رہے گی . ان لوگوں کے ساتھ ساتھ شاہنشاہ ایران کے سابق ملازمتوں والے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ بھی ایک اہم بات ہے جس پر لوگوں نے اپنی توجہ دی ہے .
اس معاملے میں یہ بات بھی تھی کہ ایران کی حکومت نے اس وقت تک کیسے آگے बढی، جب تک کہ لوگوں نے اپنی آواز ڈالی اور مظاہرے شروع کر دیے? کیا وہ اس معاملے پر کوئی پیداوار نہیں کرتے تھے، یا ان کی ایسی پیداوار تھی جس سے لوگ بڑا تحریک ہوا کر آتے?
ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں نے تیز ہوگئے اور اب تک ایران میں سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ بن گیا ہے کی وضاحت کتنی چہٹی ہوسکتی ہے? ملک بھر میں لوگ ہی نہیں تھے، بلکہ ایران سے تعلق رکھنے والے بھی تھے اور ان پر بھی گھریلو پولیس نے پھڑا… اس کی وضاحت ہمیں تو مل جائگی
یہ معاملہ ایران میں بھی ایک کٹر سوز دھونے کی بات ہے، مظاہروں میں بچوں کی جان بہل گئی ہے اور وہ تمام افراد جو اس معاملے میں ملوث ہوئے ہیں اور ان کے خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے… یہ اس بات پر ایک یاد دلاتا ہے کہ مظاہروں میں نہایت شدید دھار کا بھی استعمال کیا جاتا ہے اور لوگوں کی جانوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے… میرے خیال میں ایران کی حکومت کو اس معاملے پر توجہ دی جانی چاہئے اور لوگوں کے حقوق کا احترام کیے جानے چاہئے…
یہ دکھ کا وقت ہے ایران پر، بچوں کی جان بہنے کی غم گھر گئی ہے اور ملک بھر میں پھیل رہے مظاہروں سے ہم کے دل تنگ آ رہے ہیں۔ مظاہروں میں وارننگ اور قتل عام کی بھی وجہ شہرت پائی، یہ بھی دکھ کا وقت ہے کہ ہم سب اپنی صوتیں سے ناشٹا پوچھیں کہ اس معاملے پر کیا اقدامات کیا جائے گا؟