ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت

ساز نواز

Well-known member
ایران کی ایک اہم ترین تبدیلی آج ہوئی جس سے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کا بھی استعمال کرنا مقبول ہو جائے گا۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ایک قرارداد پر دستخط کیے جن میں ٹریفک قوانین کو واضح کرنے کا مقصد شامل تھا۔

اس قرارداد کے تحت خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے موٹر سائیکل کے حوالے سے برسوں سے جاری قانونی ابہام کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس فیصلے سے خواتین کو ٹریفک میں بھی اپنی شراکت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس قرارداد کے تحت ٹریفک پولیس کو خواتین.request گزاروں کو عملی تربیت فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے تاکہ وہ ایسے موٹر سائیکل چالنے میں اچھی طرح آگے بڑھ سکیں جو安全 اور متعین رہے۔

ایران کی نئی یہ تبدیلی اس بات پر مشتمل ہے کہ خواتین بھی ٹریفک میں شریک ہو سکتی ہیں اور ان کو موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
 
ایران کی نئی یہ تبدیلی ایک بڑا کامیاب اقدامہ ہو گیا، میں اس سے بھی خوش ہوں گا کہ اب خواتین بھی موٹر سائیکل چلانے کی اجازت ملا گئی ہے۔ اس تبدیلی سے ٹریفک میں خواتین کا کردار زیادہ نمایاں ہو گا اور وہ اپنی زندگی کو بھی ٹریفک کے لیے مزید تیار کریں گی۔ #خواتینٹریفکمیںشریکہونگے #موٹرسائیکلچालन #ایرانکینئیبدیلی
 
ایران کی نئی یہ تبدیلی، مجھے دھنی دلتی ہے! 😊
ٹریفک میں خواتین کا شامل ہونا ایک بڑا قدم ہے اور Iran کے نائب صدر کی جانب سے اس پر دستخط دینا، ایک اعزاز ہے!
اس تبدیلی سے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کے لئے لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے وہ ٹریفک میں اپنی شراکت کا مظاہرہ کر سکتی ہیں اور سڑکوں پر ایسی محبت کی حقدار ہو سکتی ہیں جو خواتین کو ملنے والی ہوگی!

ٹریفک پولیس کے لئے بھی یہ ایک اہم قدم ہے، اس طرح وہ خواتین کو موٹر سائیکل چalanے کی پوری تربیت دی سکتی ہیں تاکہ انہوں نے محفوظ اور متعین ڈریویٹ بنایا کرو!

ایران کی یہ تبدیلی، ایک بڑی چالाकی ہے جو Iran کو ایک ایسا ملک بناتے ہوئے دیکھائی دیتی ہے جہاں خواتین اور مردوں دونوں کے لئے سڑکوں پر ایک समान ماحول موجود ہو! 🚴
 
ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چالنے کا استعمال کرنا اب بھی ایک نئی بات نہیں ہے، اس کی پہچان واضح تھی، لیکن اب تو یہ بات سلیقہ سے اٹھتی ہے کہ ایران کے نائب صدر نے ایک قرارداد پر دستخط کیے، جو خواتین کو موٹر سائیکل چalanے کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، یہ تو ایک بڑی بات ہے! 😊

لیکن یہ بات انسانی طور پر تو اچھی ہے کہ خواتین کو بھی ٹریفک میں اپنی شراکت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن پھر یہ سوال آتا ہے کہ ایران کی پورتی پوری شہریاں اس سے کیسے ناقابل تلافی میگھریں؟ 🤔

انہی ساتھ ساتھ، اگر ٹریفک پولیس کو خواتین کے لئے عملی تربیت فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے تو یہ بھی ایک اچھا بات ہوگی! نئی پلیٹس کی ضرورت محسوس ہونے کے بعد اس کو چلانا بھی ایک اچھا بات ہے، لیکن یہ سارے کام سافٹ لیں سافٹ کرنا ہوگی! 💡

بلیہ، ایران میں خواتین کے لئے نئی پالیسی کو اپنایا جانا ایک بڑا کامیابی ہے، اس سے Iran کی آئندہ دیر مومن ٹرانسپورٹ سسٹم میں بھی تبدیلیاں آئیں گی! 🚴‍♀️
 
ایسا تو لگتا ہے کہ ایران میں خواتین بھی اچھی طرح ٹریفک میں شریک ہوسکیں گی، موٹر سائیکل چلانے کی کوئی نہ کوئی شرط رہ جائیگی لیکن یہ بات واضع ہے کہ خواتین بھی آگے بڑھ سکتی ہیں... 🚴‍♀️ اور یہ بھی ان کی صحت کے لئے بہت اچھا ہے کہ وہ ٹریفک میں شریک ہوسکیں، ایسا تو ٹریفک پولیس کے لئے بھی کام آئے گا... اور یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ایران کے نائب صدر نے خود ایسی قرارداد پر دستخط کیے...
 
ایران کی نئی یہ تبدیلی تو دوسری جانب بھی اچھی ہو گی، لیکن سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں کہ کئی لوگ تھوڑے چھوٹے سائیکل بھی چالنے والی خواتین کو نہیں مانتے، یہی وہ بات ہے جو ہوا گئی ہے، اور اب تک بھی کئی شہریوں کی اِن کے بارے میں کہانیاں ہیں۔
 
ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس حاصل کرنا اب مقبول ہونے لگ رہا ہے 🚴‍♀️، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے جس سے خواتین کو ٹریفک میں شریک ہونے کی پوری آزادی ملے گی۔ کچھ دیر پہلے تو ایران میں اس پر بات کرنا بھی مشکل تھا، لیکن اب یہ تبدیلی ایران کی نئی سہولتوں میں شامل ہے۔

نوبتی صدر محمد رضا عارف کی قرارداد سے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے موٹر سائیکل کے حوالے سے سالوں سے جاری قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے۔

یہ تبدیلی اس بات پر مشتمل ہے کہ خواتین بھی ٹریفک میں شریک ہو سکتی ہیں اور ان کو موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اور یہ ایک بڑی بات ہے جس پر خواتین کے لیےHope 🌟۔
 
تجربہ کار اور بھیڑوں سے نا خوفناک اور متعین موٹر سائیکل چالنے کے لئے ایران کی یہ تبدیلی بالکل اچھی ہے… آج تک اس ملک میں خواتین کو م motar s ikael chalna lagaana mushkil thi kya? ab to wo bhi easy ho gayi hai… polise ke saath training karne ka bhi option diya gaya hai, jo bhi achha hota hai…
 
واپس
Top