ایران مستحکم ہے، مغربی اور سوشل میڈیا - Latest News | Breaking Ne

الو

Well-known member
ایران مستحکم ہے، مغربی اور سوشل میڈیا

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران میں حالات مستحکم، کنٹرول میں ہیں اور سوشل میڈیا پراجیکٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر مہم جوئی کو دور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے زمینی حقیقت اور اسے صحافیوں، مخالف قوتوں اور ایران کے دشمنوں کے ذریعے تیار کردہ بیانیہ قرار دیتے ہوئے واضح فرق کیا ہے۔

حقیقت اور تخیل کے درمیان بہت گہرا فرق ہے،” انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بین الاقوامی سطح پر گردش کر رہا ہے وہ ملک کے اندر کی اصل صورتحال کی عکاسی نہیں کرتا۔

انہوں نے Economic چیلنجs کی موجودگی کو تسلیم کیا اور اس پر یہ کہا کہ یہ مشقت اندرونی ناکامیاں نہیں بلکہ ایران کے خلاف مسلسل اقتصادی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہیں۔

"ہاں، ہمارے پاس Economic مسائل ہیں؛ کچھ لوگ اس Economic صورتحال کی وجہ سے ناراض ہیں جو بعض ممالک نے پابندیوں کے ذریعے پیدا کی ہے،” انہوں نے مغربی طاقتوں کی طرف سے عائد پابندیوں کی حکومت پر پوری ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا۔

انہوں نے مزید متنبہ کیا کہ ان معاشی دباؤ کو مفاد پرستوں کی جانب سے جان بوجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عدم استحکام پیدا ہو اور سیاسی ایجنڈوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

"عدم اطمینان کے الگ تھلگ اظہار کو بڑھایا جا رہا ہے اور ملک گیر بدامنی کی جھوٹی تصویر پیش کرنے کے لیے ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔"

انہوں نے Onion circulation میں خطرے کی گھنٹی کے دعووں کو مضبوطی سے مسترد کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ ایران صورتحال پر مضبوطی سے قابو میں ہے اور سوشل میڈیا پر جو دعویٰ کیا جا رہا ہے اس کے قریب بھی نہیں ہے۔
 
ایران کے ساتھ ساتھ میرا بین الاقوامی BRAND LOVE 💕🇮🇷 اور ایسے لوگ جو ان کی صحت مند پالیسیوں کو مسترد کر رہے ہیں وہ مجھے بھی نازok ہیں 😡 میرا یہ ماننا ہے کہ ان کے کھیل میں کچھ نئی چیज़وں کی ضرورت ہے اور سوشل میڈیا پر ان کی ایسی محکوم خواہش جس سے وہ اپنی پالیسیوں کو مزید مقبول بنائیں گی 🤔
 
ایران کی صورتحال اس طرح لگ رہی ہے جیسا کہ میں سोच رہا تھا … یہ کہیں نہ کہیں پابندیوں کی وجہ سے ہونے والی معاشی دباؤ اور وہ لوگ جو اسے استعمال کر رہے ہیں … یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ ملک کے اندر کی حقیقت کون سے لوگ اسے دکھاتے ہیں ؟
 
ایران کی صورتحال کو پہچانتے ہوئے انھوں نے ایک لامبی جھاڑی کا نشانہ بنایا ہے اور واضح کیا کہ ملک میں حالات کنٹرول میں ہیں لیکن اس پر میدانی حقیقت بھی ہوگی। یہ ایک خطرناک بات ہے جس کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے اور ابھی تک بھی نہیں کیا گیا ہے۔

تمام یہ سچ ہے کہ ایران کو اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس پر انھوں نے کفیت بھی رکھی ہے اور کہا ہے کہ یہ پابندیاں مغربی طاقتوں کی طرف سے عائد کی گئی ہیں۔

انھوں نے اپنے کلمات کو بہت سنجیدگی سے استعمال کیا ہے اور یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ ملک میں حالات کنٹرول میں ہیں۔

بلیڈ ایکسپریس

👎
 
ہمارے ملک میں حالات مستحکم ہیں یا نہیں یہ سوال اٹھانا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ لوگ جو اس پر توجہ دیتے ہیں ان کے لیے حقیقت اور تخیل کے درمیان ایک گہرا فرق ہوتا ہے، جب کہ بھرنٹ اور جھوٹےStatements کے ساتھ اس صورتحال پر نظر انداز رہتے ہیں۔

یہ سوال ہمیں اور ان لوگوں کو پہلے دیکھنا چاہتا ہے جس کی زندگی و معیشت میں پابندیاں لگائی گئی ہیں، کیا وہ لوگ اس معاشی صورتحال سے ناز کوں رہے ہیں یا انہیں پابندیوں کی وجہ سے بھوک اور گریہ ہوئی ہے؟

میری رائے میں یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہئی جہاں سے پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان لوگوں کی زندگی کے بارے میں سماجی ایجنڈوں اور سیاسی طاقتوں کی طرف سے جان بوجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں عدم اطمینان کو بڑھایا جا سکے اور اس سے سیاسی ایجنڈوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
 
سوشل میڈیا پر واضح ہو رہا ہے کہ اساتذہ ایران کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اور یہ بات واضع طور پر سامنے آ رہی ہے کہ اساتذہ انٹرنیٹ پر کوئی بھی جالدی فیکٹس رپورت نہیں دیتے، اور اس لیے ایران میں صورتحال معطلی نہیں ہو سکی ، اگرچہ یہ بات واضع طور پر سامنے آتی ہے کہ مائیکرو بلاگز اور ٹوئٹرز پر کھل کر بات کی جاسکتی ہے۔
 
یہ بات تو واضع ہے کہ اہم واقعات کے بارے میں لوگ گھبرا کر ان پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں. میرے خیال میں، اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے پابندیوں کو دور نہیں کرنا، بلکہ انہیں منظم طریقے سے ہدایت کرنا ضروری ہوگا۔

اسلامی جمہوریت میں اچھے اور برے نتیجے دونوں وجود رکھتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر مہم جوئی کا یہ مشن تو بھی ان معاشی دباؤ کو دور کرنے میں مدد نہیں کرسکتا.

ایک بار پھر، ہمیں اٹھنا ہوگا!
 
یہ تو لگتا ہے کہ ایران میں معاشی مسائل ہیں، لیکن یہ دیکھنا بھی اچھا ہے کہ وہ لوٹ پائے جارہے ہیں جنہوں نے پابندیاں لگی کر دی ہیں، یہ تو مغربی طاقتوں کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کا ثبوت ہے کہ وہ ملک پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اور اچھا بھی ہے کہ وہ لوگ جو اس صورتحال کو اپنی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ان کے منزلیں سونے کی اچھی ہو گی۔
 
برطانیہ اور امریکا پر ایران کے معاشی دباؤ کی حکومت کی یہ پابندیوں کا ایک بار پھر تصدیق ہوئی ، اور اس سے قبل وہ بھی نہیں تھیں۔

ایران میں معاشی دباؤ کی حکومت کی یہ پابندیوں کا تعین برطانیہ اور امریکا کی جانب سے کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ایران کو عالمی معیشت سے واپس ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

مغربی طاقتوں کی جانب سے Iran میں اس معاشی دباؤ کی حکومت کی یہ پابندیوں کا کیا مقصد تھا، یہ ان کی ماخذات پر منحصر ہے۔

لارڈ آف ٹریٹی کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کو ارونڈ 7.4 فیصد economic growth rate، 10 اور 12 فیصد growth rate کے درمیان قرار دیا گیا ہے ، یہ معاشی دباؤ کی حکومت کا ایک نئا ریکارڈ ہے۔
 
ایران کی صورتحال کو دیکھتے تو تھوڑی متاثر ہوں 🤔، ان حالات میں کچھ لوگ آرمز اور چیلنجز کے ذریعے اپنی نظر لیتے ہیں لیکن ہمیشہ وہاں سے بھی واقعتوں کو غلط طریقوں سے پیش کرنا نافذ کیا جاتا ہے۔

ایران کی معاشی صورتحال کے بارے میں لگتا ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس کو انصاف سے سمجھنا ضروری ہے، Economic challenges کی موجودگی کو تسلیم کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھIran کے خلاف مسلسل اقتصادی جنگ کے نتیجے میں بھی یہ مسئلہ پائے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایسی مہم جوئی کی جانے کا یہ اعلان تو دیکھنا منفعوول ہے، اس بات کو واضع کرتے ہوئے کہ حالات اس طور پر نہیں ہیں جیسا کہ لوگ انکار کر رہے ہیں۔

اس لیے، Iran کی صورتحال کو دیکھتے تو سمجھنا ضروری ہے کہ اس میں واضع اور غیر واضع دونوں عناصر موجود ہیں، اور وہاں تک کہ اس صورتحال کو بھی سمجھنے سے پہلے کسی بات پر ایک جانب رکھنا نافذ ہونے والا کیا ہو گیا ہے؟
 
ایران کی صورتحال کو مستحکم کہنا پتھر اور ستون کی طرح اچھی گalti hai. ان معاشی دباؤ پر زور دیتے ہوئے ایران کاLeader، ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کو بھی محض معاملات کو کنٹرول میں رکھنے اور سوشل میڈیا پر مہم جوئی کی بات کرنے کا استعمال کرنا ہی کافی نہیں ہوگا.

ایران کے معاشی مسائل ایسے ہیں جو ملک کو خود کا سامنا کرنا پڑ رہے ہیں، اور اس پر صاف صاف سرے سے بات چیت کرنا ضروری ہے نہ کہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے مزید تنگ اٹھنا پڑے.

ایران کی صورتحال پر زور دیتے ہوئے، "کچھ لوگ اس Economic صورتحال کی وجہ سے ناراض ہیں جو بعض ممالک نے پابندیوں کے ذریعے پیدا کی ہے" ، یہ بات ہمیں دلچسپی دیتی ہے.
 
بھائی، یہ رائے پوسٹ کرنے والا کس سے بھاگتا ہے؟ ایران کی معاشی صورتحال اس طرح ہے کہ ایک دوسرے معاملوں میں بھی ہے، یہ چیلنج آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ پوسٹ کرنے والا کہتا ہے کہ ان معاشی دباؤ کو مفاد پرستوں نے استعمال کیا ہے، مگر انہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ اس کی گھریلو سطح پر واضع طور پر ظاہر ہو گیا؟
 
بھائیو، ایران کی صورتحال اس کے اندر سے ہی سبق دیتی ہے۔ ملک کے اندر ہی واقعات ہوتے ہیں، لیکن اب یہ پھیلنے لگے ہیں کہ ملک کی صورتحال کچھ خراب ہے۔ اس پر واضح طور پر زور دیا جاتا ہے کہ ملک کو اپنی صورتحال سے منسلک کرنا چاہیے نہ کہ دوسروں کی نظر میں نہیڰانے کی کوشش کریں۔

اس پابندیوں پر ایران کو اپنی عارضی صورتحال سے بچنا چاہئے اور دوسروں کی نظر میں یہاں تو نہیں لیکن اس کے بعد ان معاشی دباؤ کو اس ملک میں وہی رکھ سکتا ہے جس کے ساتھ وہ مواجه ہو رہا ہے اور اس صورتحال کو پہلے سے بھی بدلتا ہے۔
 
یہ پوری حقیقت جھوٹی ہے ایران میں حالات مستحکم ہیں اور وہاں کے لوگ خوش تھے کیونکہ اس صورتحال کو سوشل میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے اور یہ بھی کہہتے ہیں کہ ایران سوشل میڈیا پر مہم جوئی کو دور کر رہا ہے۔

اس وقت ایران کے لوگ ان معاشی دباؤ کی وجہ سے ناراض ہیں جو مغربی ممالک نے پابندیوں کے ذریعے لگی ہیں اور اس پر حقیقی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ بھی نا سچ کہ ان معاشی دباؤ کو مفاد پرستوں نے استعمال کر رکھا ہے تاکہ ملک کی صورتحال بدل دے۔
 
بھائی تمھیں پتہ چلا کہ آمر ایک اور تازہ خبر آئی ہے کہ Iran مستحکم ہے، مغربی اور سوشل میڈیا par. لگتا ہے کہ وہ لوگ جو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران میں حالات کنٹرول میں ہیں، وہ واضع طور پر ملک کی حقیقت سے الگ ہیں. مجھے یہ بات بہت متعلق دیتی ہے کہ Economic چیلنجsIran میں موجود ہیں، لیکن وہ لوگ جو اس پر زور دیتے ہیں کہ یہ ملک کی ناکامیوں کی وجہ سے ہیں، وہ بھی حقیقت سے الگ ہیں. مجھے لگتا ہے کہ اس معاشی دباؤ کو دور کرنے کے لیے ایران کو اپنی پابندیوں پر اچھی طرح زور دینا چاہیے.
 
واپس
Top