ایسے جواب دے رہا ہے جیسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ، اس پر غور کرتے ہوئے، یہ کہنا بھی سچ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی دھمکیں ایران کو کس حد تک پہنچا رہی ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اگر ایران حملہ کرے تو اس پر بھرپور اور طاقتور جواب دیئے جائیں گے۔ وہ نہ صرف اپنے قومی دفاع کو سرانجام دینے کی صلاحیت کا ثبوت دے رہے ہیں بلکہ ان کی پالیسیوں میں ایک تبدیلی بھی آئی ہے۔
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن کے بعد نیتن یاہو پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اگر ایران حملہ کرے تو اسرائیلی فوج کی جانب سے ایسا جواب دیا جائے جس میں فلسطینی ریاست کا قیام ہو سکے۔ لیکن اب ان کا یہ بیان مختلف ہے۔
غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے پر وہ تو ایک بھی بات نہیں چٹکی جاسکتے تھے جو ان کے پاس موجود تھی۔ تاہم اب انھوں نے ایسی بات کہی ہے کی وہ غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے پر تو یقینی طور پر متعاطف نہیں ہیں بلکہ اس بات کو بھی نہیں مانتے کہ ایسا وقت آئے جب فلسطین کی ریاست قائم ہوگی۔
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن کے بعد نیتن یاہو پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اگر ایران حملہ کرے تو اسرائیلی فوج کی جانب سے ایسا جواب دیا جائے جس میں فلسطینی ریاست کا قیام ہو سکے۔ لیکن اب ان کا یہ بیان مختلف ہے۔
غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے پر وہ تو ایک بھی بات نہیں چٹکی جاسکتے تھے جو ان کے پاس موجود تھی۔ تاہم اب انھوں نے ایسی بات کہی ہے کی وہ غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے پر تو یقینی طور پر متعاطف نہیں ہیں بلکہ اس بات کو بھی نہیں مانتے کہ ایسا وقت آئے جب فلسطین کی ریاست قائم ہوگی۔
نیتن یاہو نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ وہ غزہ میں ترک اور قطری فوجیوں کو داخل ہونے سے انکار کرتے ہیں اور ان کی پالیسی یہ ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر بھی اپنی پالیسی لگا دیں گے۔
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن سے بھی زیادہ ترازو نیتن یاہو کی دھمکیوں پر غور کرتے ہوئے، میں سوچتا ہوں کہ وہ اُس وقت کی طرح کچھ بھی نہیں کہتے گئے جس کو انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اب انہوں نے ایسی بات کہی ہے جو میٹر کو کم سے کم کھینچ دیتی ہے اور یہ بھی بات ہے جس پر وہ اپنی پوری طاقت لگائیں گی۔
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن کے بعد نیتن یاہو کی بھی بات اب تک توہم عام ہو چکی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران کو اس کی دھمکیوں کا جواب کیسے دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل میں ان کے پہلے پاسپورٹس نے ان کی دھمکیوں کا ایک اچھا مثال دیا تھا اور اب بھی وہ یہ بات کہتے رہے ہیں کہ اگر ایران حملہ کرے تو اس پر جواب دیئے جائیں گے۔
لیکن یہ بات توہم ہوگئی ہے اور نیتن یاہو کی دھمکیاں ایران کے لئے ایک اعلان ہیں کہ وہ اس سے مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کی پالیسیوں میں بدلाव آیا ہے۔
نیتن یاہو نے ایران سے دھمکیاں ہر جگہ کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ اگر ایران حملہ کرے تو اس پر بھرپور جواب دیئیے جائیں گے...لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ وہی پالیسی ہے جس کے لیے اسرائیل کے لئے دوسرے ملکوں کی مدد کی جا رہی ہے؟ میں تھوڑا سا یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو دوسرے ملکوں کی مدد سے اسرائیل کا دفاع کرتے ہیں... @saeed_ahmed
اس نیتن یاہو کی بات سے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ انہیں اپنی سابقہ پالیسیوں سے دور کرنا چاہتے ہیں . previous وہ فیلسطینی ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور اب وہ اس بات پر متعاطف نہیں ہیں وہ سچ مچ واضح کر رہے ہیں کہ وہ غزہ میں ترک اور قطری فوجیوں کو داخل ہونے سے انکار کر رہے ہیں.
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن کے بعد نیتن یاہو پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اگر ایران حملہ کرے تو اسرائیلی فوج کی جانب سے ایسا جواب دیا جائے جس میں فلسطینی ریاست کا قیام ہو سکے۔ لیکن اب ان کا یہ بیان مختلف ہے .
میں سوچتا ہوں کہ نیتن یاہو کو ان کی سابقہ پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیے اور انہیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ فیلسطینی ریاست قائم کرنے کے لئے زیادہ ہم آہنگی محسوس کر رہے ہیں
نیتن یاہو کو ایساFeels کرتا ہے جیسے انہوں نے اپنیPolitics کی کوئی تبدیلی کر لی ہے . وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ ان کے بیان میں ایسی تبدیلی آئی ہے جو اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ فلسطین کی ریاست قائم ہو سکتی ہے. تاہم، یہ بات بھی چلتی ہے کہ وہ غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے پر تو یقینی طور پر متعاطف نہیں ہیں بلکہ اس بات کو بھی نہیں مانتے کہ ایسا وقت آئے جب فلسطین کی ریاست قائم ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ غزہ میں ترک اور قطری فوجیوں کو داخل ہونے سے انکار کرتی ہیں... toh ye kya baat hai
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن نے اسرائیلی وزیراعظم کو ایسا تعلق دیا ہے جو اب نیتن یاہو کی ساتھ نہیں ہوتے اور اگر انہیںIran کے حملہ پر غور کیا جائے تو وہ کہتے ہیں "اس وقت ایسا جواب دیا جائے جس میں فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہو سکے" اور غزہ کی پٹی پر بھی وہ اپنی پالیسی لگایں گے؟ یہ بات سچ ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کو ایسا تعلق دیا ہے جو اب ان کی ساتھ نہیں رہتا اور وہ انہیں غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے پر تو نہیں چٹکایں گا بلکہ اس بات کو بھی نہیں مانتے کہ ایسا وقت آئے جب فلسطین کی ریاست قائم ہوگی
عمان کے بعد غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنا ایک بڑا خطرہ ہوگا اور اسرائیل کے لیے یہ بات بھی مشکل ہے کہ وہ اس سے مقابلہ کیسے کریں گے?
اس्लوموفین اور وائس-کپٹن کے بعد نیتن یاہو کی سیاست مختلف ہوگی اور اگر وہ انہیں اپنی Politics میں شامل کرتے ہیں تو اسرائیلی politics میں ایک بڑا بدلاؤ آئے گا۔
اسلاموفین اور وائس-کپٹن دونوں نے یہ بات بیان کی تھی کہ اگر ایران حملہ کرے تو اسرائیلی فوج کو ایسا جواب دیا جائے جس میں فلسطینی ریاست کا قیام ہو سکے۔ لیکن نیتن یاہو اب انہیں اپنی Politics میں شامل کر رہے ہیں اور اس پر غور کرتے ہوئے یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ اگر ایران حملہ کرے تو اس پر بھرپور اور طاقتور جواب دیئے جائیں گے۔
اے، مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل کی ایسی پالیسی بننے کی اور فوری طور پر فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
سچ میں اس پر کوئی جالڈی نہیں، اور یہ بات بھی سچ ہے کہ نیتن یاہو کے وارننگز ان کی پالیسیز کو تبدیل کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایسا جواب نہیں دینگے جس میں فلسطینی ریاست کی قیام ہو سکے، بلکہ وہ ایک نیا راہ دिखانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کو safer lane لگے گا۔ اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ غزہ میں ترک اور قطری فوجیوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں، اس کی وجہ ان کی پالیسیوں سے زیادہ اپنی قومی safety کے لیے۔
اس کچھ میری سمجھ میں آ رہا ہے ، یہ بات کو نیتن یاہو نے ایسے وقت جب ان کی دھمکیاں Iran پر پڑ رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایران حملہ کرے تو اسرائیلی فوج سے بھرپور جواب دیا جائے گا ، لیکن یہ بات کو وہ نہیں مانتے کہ غزہ میں فلسطین کی ریاست قائم ہو سکتی ہے۔ اور اب انھوں نے غزہ کی پٹی پر بھی اپنی پالیسی لگا دینے کا بیان کیا ہے ، جس سے بات یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اور Turkey اور Qatar کے ساتھ ساتھ بھی ایک نئی گروپ بنے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب کس حد تک ان کی پالیسیوں میں تبدیلی آئی ہے؟