ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحتی یا فوجی مداخلت کی مخالفت کردی جائے گی، جو کہ عالمی شांتि اور ایمنسٹی سے متصالح ہے۔ اس بات پر انہوں نے تھوڑا سا توضح بھی دیا کہIran کی صورت حال کو حل کرنے کے لیے باہم معاشرے کی ایک ہی پالیسی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران پر فوجی حملے کرنے کی خواہش کو ختم کرنا چاہئیں، جو کہ خطے میں بیرونی مداخلت سے بھرپور نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایران کی طرف سے بھی کافی اہمStatement دی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم Iran کی قیادت اور عوام کے لیے شکرگزار ہیں، لہٰذا اسرائیلی حکومت کو اپنی جنگیں شروع کرنے کی خواہش کو ختم نہیں کرنا چاہئیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اور اگر ان مذاکرات کو بھی منصفانہ مفادات اور اعتماد کے احترام پر مبنی ہوتے ہیں تو بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے کہا کہ اگر امریکا جنگ میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور صورتحال پیدا ہوسکیگی جو اچھی نہیں ہوگی، لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا دانشمندی اور حقیقت پسندی کے دائرے میں کام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران پر فوجی حملے کرنے کی خواہش کو ختم کرنا چاہئیں، جو کہ خطے میں بیرونی مداخلت سے بھرپور نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایران کی طرف سے بھی کافی اہمStatement دی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم Iran کی قیادت اور عوام کے لیے شکرگزار ہیں، لہٰذا اسرائیلی حکومت کو اپنی جنگیں شروع کرنے کی خواہش کو ختم نہیں کرنا چاہئیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اور اگر ان مذاکرات کو بھی منصفانہ مفادات اور اعتماد کے احترام پر مبنی ہوتے ہیں تو بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے کہا کہ اگر امریکا جنگ میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور صورتحال پیدا ہوسکیگی جو اچھی نہیں ہوگی، لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا دانشمندی اور حقیقت پسندی کے دائرے میں کام کرے گا۔