پی ٹی آئی کی زبان بندی: جب ہم ان پر اعتبار کریں، تو ناہیں، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں؟
خواجہ آصف نے انٹرویو میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات میں سنجیدگی ہے، لیکن یہ بھی بات ہے کہ وہ چار پانچ زبانوں میں بولتے ہیں اور اس پر کس پر اعتبار کرنا چاہئے؟
مگر ان کی زبان بندی یہ ہوتی ہے کہ وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں، اور ایسے میں وہ اپنی نیت کا فتوح کرتے ہوئے باہری زبانوں میں مذاکرات کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی آواز پکڑنے کے لیے وہ ایسی زبانوں کو انتخاب کرتے ہیں جو لوگوں کو گالیاں دیتی ہیں، اور یہ ایک بھیڈ کے گھر کی بات ہوتے ہوئے ہارمونی پائے کر رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ تو ان کی نیت سے نکلتا ہے، مگر اس پر کس پر اعتبار کرنا چاہئے؟
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات میں بھی کچھ راز ہوسکتے ہیں، لیکن اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کی زبانوں کو انتخاب کرتے ہوئے باہر سے لوگوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی نیت کا فتوح کرتے ہوئے پاکستان کی آواز پکڑ سکتے ہیں۔
پٹھا لگایا تو ایسے کہیں بھی پٹھا نہیں ہوتا ، پی ٹی آئی کی جانب سے ان کی زبان بندی کی گئی ہے، لیکن اس پر اعتبار کرنا یہ ہوتا ہے کہ وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں، اور اس پر سہی فیکٹس رکھنی چاہئے!
بھائی ان کی بات تو کچھ ساتھ ہے، پی ٹی آئی کو دو نمبر پر رکھنا چاہئے لیکن یہ بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ وہ ان کی زبانوں پر کس برتریت کرتے ہیں؟
ایک بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں اور ان کی نیت کو سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات سچ ہے کہ وہ اپنی زبانوں کو انتخاب کرتے ہوئے لوگوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں اور اس پر اعتبار کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
ایسے میں پی ٹی آئی کو کبھی تو بھرپور مذاکرات سے دور رہتا ہے، اور اس پر اعتبار کرنا مشکل ہوسکتا ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ اپنی زبانوں کو انتخاب کرتے ہوئے پاکستان کی آواز پکڑ سکتے ہیں۔
اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ پی ٹی آئی نے ایسے زبانوں کو اپنایا ہے جو اس وقت پاکستان میں زیادہ مقبول ہیں، کیونکہ وہ لوگوں کے ذریعے غلطفہ کر رہے ہیں اور انھیں اپنی زبانوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے جو اس پر اعتبار کریں، لیکن یہ بھی بات ہے کہ وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں اور اس پر انھیں ایک سے زیادہ اعتبار کرنا چاہئے، نا ہو تو وہ اپنی نیت کا فتوح کر سکتے ہیں
اس کی بات بھی تھی، پی ٹی آئی کو ان پر اعتبار کرنا ضروری نہیں، کہیں ایسی زبانوں میں سے کوئی چنا۔ وہ صرف دوپہر کی بولتی ہیں، ابھی بھی گارمی کے وقت میں لوگ دوسری زبانوں میں بھی بات کرتے ہیں.
جی تو پی ٹی آئی کو لگتا ہے کہ وہ تینوں زبانوں میں بولتے ہیں، لیکن یہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں؟ مگر وہ جس زبانیں کا استعمال کر رہے ہیں وہ لوگوں کو گالیں دیتی ہیں، اور اس میں تو نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کی یہ بات بہت پریشانی دیتی ہے کہ وہ چار پانچ زبانوں میں بولتے ہیں اور ایسے میں انہیں لگتا ہے کہ وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں
جی پتا ہوتا ہے کہ ان کی زبان بندی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی زبانوں کو انتخاب کرتے ہیں جو لوگوں کو گالیاں دیتی ہیں اور اس طرح وہ اپنی نیت کا فتوح کر سکتے ہیں
میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو باہری زبانوں میں مذاکرات کرتے رہنے کی جگہ بہت ہے، لیکن انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنی نیت سے پاکستان کی آواز پکڑ سکتے ہیں نہ کہ ایک بھیڈ کے گھر کی بات کرتے رہتے ہوئے ہارمونی پائے کر رہا ہوں
عوام کو انٹرنیٹ پر ہونے والے اس ماحول میں بیٹھنا اور اپنے خیال کا اظہار کرنا بہت اچھا ہوتا ہے... کیا پوری دنیا کے علاوہ پاکستان کے لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ پی ٹی آئی کی زبانوں میں سے کس کو اعتبار کرنا چاہئے؟
ایسے میں یہ نہیں آئے گا کہ پی ٹی آئی کو صرف ایک زبان میں بولنا پڑے گا؟ اس کی زبان بندی ایسی ہوگی جس پر لوگ اعتبار کریں، لیکن یہ بھی بات ہے کہ وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں اور اس پر کیا اعتبار کرنا چاہئے؟
اس کا بہت غلط فہم ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے مذاکرات میں سنجیدگی ہے اور وہ اپنی نیت سے پاکستان کی آواز پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں। وہ ساتھ دوپہر بھی بولتے ہیں، اور اس پر کس پر اعتبار کرنا چاہئے؟ ان کو ایسی زبانوں کا انتخاب کرنا چاہئے جو لوگوں کو گالیاں نہ دیتیں، تاکہ وہ اپنی نیت سے پاکستان کی آواز پکڑ سکے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے اپنی زبانوں کو ایسی چुनا ہے جس سے لوگ گالیاں دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی زبان بندی، ایک ایسا Thema جس پر لوگ تیزہ تیزہ کر رہے ہیں، لیکن کبھی یہ سوال نہیں پوچھا گیا کہ ان کے بولی کی زبان میں سے کون سی اور چار پانچ زبانوں کو انتخاب کرنا چاہئے؟ اس پر تیزہ تیزہ ہونا ایسا نہیں ہے، مگر جب وہ دوپہر بھی بولتے رہتے ہیں تو یہ سوال اپنی آواز میں آتا ہے۔
پی ٹی آئی کی زبان بندی سے متعلق باتوں پر کام کرنا تو ضروری ہے، لیکن یہ بھی जरوری ہے کہ اس کے بعد وہ ایک ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے ان کی نیت سب پر پھیل جائے اور وہ باہر بھی آئے لوگ کو گالیاں نہ دیتے رہیں
PIٹی بولی ہی پتھر پتھر! ایسے میں وہ لوگ پکڑ کر وہاں تک آئے ہوئے رہتے ہیں، جو کی پٹی بولی نہیں بلکہ اس کے گھر والوں کی بات سنتی ہیں! ایسا ہوا تو وہ اپنی نیت کو اچھے سے سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس میں کچھ ناکام رہتے ہیں...
WOW یہ بھی بات جانتا ہوں کہ پی ٹی آئی نے اپنی زبان بندی کر لی ہے، اور اس پر لوگ اعتبار کریں تو ان کا مطلب کیا ہوتا ہے کہ وہ دوپہر بھی بولتے ہیں? یہ بات بہت جڑی ہے!
مگر یہ بات تو یہی ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی کی ان میں سے کس پر اعتبار کرنا چاہئے؟ وہ تین زبانوں میں بولتے ہیں جو پاکستان کے لوگ بولتے ہیں اور اس پر اعتبار کرنا چاہئے، لیکن ان کی نیت سے یہ تو نکلتا ہے کہ وہ اپنی نیت کا فتوح کرتے ہوئے باہر سے لوگوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں। اس کی طرح وہ دو زبانوں میں بولتے ہیں جو کچھ نوجوانوں اور تنگ آئے لوگوں کو دیتی ہیں اور اس پر اعتبار کرنا چاہئے؟ یہ تو پوریہے اس وقت کی معاشی اور سیاسی صورتحال سے بھی متعلق ہوتے ہوئے ہیں۔
یہ کوئی بات نہیں، پی ٹی آئی جو چار پانچ زبانوں میں بولتی ہے وہی اس کی آزمایت کا حامل ہے, اگر ان پر اعتبار کرنا چاہئے تو اسے ایک ساتھ نہیں بولنا چاہئے، لاکھوں لوگ بھرپور زبان میں بولتے ہیں اور آپ کس پر اعتبار کریں؟