پاکستان کا پہلا عالمی مقابلہ حسنِ قرآت، 50 لاکھ روپے کا انعام کس نے جیتا؟

جذباتی

Well-known member
پاکستان کا پہلا عالمی مقابلہ حسنِ قرأت کس نے جیتا؟

بھارت، امریکہ اور ملائیشیا سے عالمی سطح پر مذہبی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کرنے والے پینٹیٹی نے دوسرے ہر ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کا مطالبہ کیا جبکہ سعودی عرب نے دنیا بھر میں مذہبی تعلقات کو فروغ دینے کی اپنے معاملے میں بھی دلاتی ہوئی توجہ دی۔

اب تک پاکستان کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ حسنِ قرأت منعقد ہوا اور اس نے دنیا کی مختلف ملکین کو اسلام آباد میں ان کی تقریباً 37 لاکھ سے زائد ممتاز قراء ایکٹ کرنے کا موقع پیش کیا۔

دوسرا یہی رول کھیلتے ہوئے ابھار پاكستان نے عالمی سطح پر اپنی مذہبی روایات کو دنیا کی مختلف ممالک کے سامنے پیش کرکے ایک تاریخی موقع میں شرکت کی اور دنیا بھر سے آئے ممتاز قراء نے انki شرکت کی توجہ اٹھائی اور اس حوالے سے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے اعزاز ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلہ حسنِ قرأت ایک اتحاد و یکجہتے کا سلسلہ ہے اور اس سے پاكستان کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے جس سے ملک کی ایک متحد اور ایک جماعتی تاریخ بنائے جانے میں اس کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم پہلا قدم ہے اور اس سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد مل گئی ہے جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھنے کی طرف بڑھتا ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ ایک ایسے شعبے میں ہوتا ہے جو اسلام کی تعلیمات اور ان کی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جاتا ہے۔ اس لیے ملک کے نوجوانوں کو قرآن سے مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اہم کوشش کرنا چاہیے کیونکہ یہ انھیںIslam کی تعلیمات سے بے پریشانی بنانے میں مدد کرتا ہے، ایسا کہ جو اسلام کے حامی نوجوانیں پائی جاتی ہیں انھوں نے اپنے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچان لیا ہوتا ہے اور اس طرح وہ اپنے ملک کے مذہبی رخ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اس وقت پانی کو ایک طاقت سمجھنا اور انھوں نے اس وقت پانی کے دروازوں کو بھی بند کرکے ہمیشہ سے پانی کو ایک طاقت کے طور پر نظر رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، اسی طرح یہ مقابلہ ایک ایسے مقابلے میں ہوتا ہے جہاں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ ایک ایسے شعبے میں ہوتا ہے جہاں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم پہلا قدم ہے جس سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے، اس لیے نوجوانوں کو Quran سے مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اہم کوشش کرنی چاہیے جس سے وہ اپنے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچان لیا ہو۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ ایک ایسے شعبے میں ہوتا ہے جہاں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم پہلا قدم ہے جس سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے، اس لیے نوجوانوں کو Quran سے مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اہم کوشش کرنی چاہیے جس سے وہ اپنے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچان لیا ہو۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ ایک ایسے شعبے میں ہوتا ہے جہاں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم پہلا قدم ہے جس سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے، اس لیے نوجوانوں کو Quran سے مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اہم کوشش کرنی چاہیے جس سے وہ اپنے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچان لیا ہو۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ ایک ایسے شعبے میں ہوتا ہے جہاں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم پہلا قدم ہے جس سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے، اس لیے نوجوانوں کو Quran سے مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اہم کوشش کرنی چاہیے جس سے وہ اپنے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچان لیا ہو۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ ایک ایسے شعبے میں ہوتا ہے جہاں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں۔
 
اس مقابلے نے دیکھنا ہی تھا کہ پاکستان نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچانا ہے اور ملک کی ایک متحد اور ایک جماعتی تاریخ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پختہ اسلام کے لیے اس مقابلے نے ایک اہم پہلا قدم ہی قائم کیا ہے، جس سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچانا جا رہا ہے اور ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھنے کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔
 
بہنے کی بات یہ ہے کہ حسنِ قرأت کا انعقاد کیا گیا تھا تو اس میں پاکستان کو جیتنے کا موقع ملا تھا! پاکستان نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا اور یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

اسحاق ڈار نے اس مضمون کی تحریروں میں پھیلائے گئے خیالات پر غور کرتے ہوئے، پاکستان کو یہ موقع پیش کرنے میں کامیابی ملی ہوگی تو نوجوانوں کی جانب سے بھی اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچاننا چاہیے۔

اسحاق ڈار کے خیالات میں یہ بات بھی شامل ہوگئی ہے کہ اب نوجوانوں کو Quran سے مضبوط رشتہ بنانے کی اہمیت پر زور دیا جائے اور ان کے لیے مذہبی تعلیمات کو قوی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
 
mere liye yah competition bahut aik aina hai. yeh competition mere desh ke liye ek acha nahi hai, kyonki isse humein dusre deshon ki tulna karne ki zarurat hai aur humein apni tarah ki salah dene ki zarurat hai. main sochta hoon ki yeh competition mere desh ko ek baar phir se darshata hai aur hamare naya samarthan karta hai, lekin isse hamare liye koi faayda nahin hota hai.
 
اس مقابلے نے ایک واضح بات یہ بتائی ہے کہ پختہ اسلام کی پالیسیوں کو دنیا بھر سے قبول کرنے اور اس کی مہارت کو سامنے رکھنے میں ملک کو قوت دی جارہی ہے۔ یہ مقابلہ ایک ایسا منشور بنتا ہے جو دنیا بھر سے ملک کے مذہبی روایات اور ان کی مہارت کو پہچانا جارہا ہے۔
 
یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے Pakistan کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی زندگی کے منظر نامے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے تو پہلے وہ اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑتا ہے، اسی طرح Pakistan کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے کے لئے اس حالے سے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا ہے۔
 
اسٹیج میں ایک ایسا مقابلہ ہوا جس نے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا ہے، یہ مقابلہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم قدم تھا جس سے ملک نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا ہے، ابھی یہ مقابلہ کامیاب رہا ہے اور ملک کی مذہبی روایات کو دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھایا ہے.
 
انٹرنیشنل قریات مقابلے سے پاکستان کا بھی کچھ نکلتا ہے، لیکن ابھار پاكستان کی اس مہم کو انٹرنیشنل سطح پر بڑھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے اور وہ اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا جارہا ہے جو ایک اچھی بات ہو گی لیکن یہ بات یہ ہی کہ ان میں سب کچھ صاف اور منصفانہ طور پر ہونا چاہیے، کوئی بھی ادارہ یا Organisation اپنے آپ کو ایک شاندار اور منصفانہ مقام پر لے کر آنا چاہے تو یہی ہے۔
 
اسٹریٹجک یہ رہا ہے، پاکستان نے حسنِ قرأت مقابلہ جیتنے کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچانا ہے جو ایک بڑا کامیاب کوشش ہے۔ اس مقابلے نے پاکستان کو اپنے مذہبی رخ کو دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھانے کی دوسری کوشش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

اسحاق ڈار کی نظروں میں یہ competing competition ایک اتحاد و یکجہتے کا سلسلہ ہے اور اس سے پاكستان کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میڹنے میں مدد ملی گئی ہے۔

اسٹریٹجک یہ رہا ہے، اس مقابلے نے پاکستان کو اپنی مذہبی روایات کے ساتھ تعاون کرنے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں।

اسٹریٹجک یہ رہا ہے، پانچ وار سالوں سے اسحاق ڈار نےIslam کی تعلیمات اور ان کی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا چکا ہے اور اب پاکستان نے اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچانا ہے، جو ایک بڑا کامیاب کوشش ہے۔

اسٹریٹجک یہ رہا ہے، اس مقابلے نے پانچ وار سالوں سے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچانا جس سے ملک کا مذہبی رخ دنیا میں ایک اہم مقام پر چڑھتے ہیں، یہ ایک بڑا کامیاب کوشش ہے۔
 
ابھار پاکستان نے دنیا بھر سے آئے ممتاز قراء کو اپنے ملک کی تقریباً 37 لاکھ سے زیادہ ممتاز قراء ایکٹ کرنے کا موقع دیا تھا اور اس حوالے سے وہ پاكستان کے لیے اعزاز ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلہ حسنِ قرأت ایک اتحاد و یکجہتے کا سلسلہ ہے اور اس سے پاكستان کی مذہبی روایات کو دنیا بھر میں پہچاننے میں مدد ملی گئی ہے جس سے ملک کی ایک متحد اور ایک جماعتی تاریخ بنائے جانے میں اس کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 
اسٹیکھو یہ کہ اسحاق ڈار نے پوری بات صرف ایسا ہی کہا جیسا کہ وہ اپنی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچانا چاہتے ہیں اور ملک کی مذہبی روایات کو دنیا میں ایک اہم مقام پر لانے کے لئے اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اس حقیقت سے یہ بات بھی صاف ہوتی ہے کہ پختہ اسلام کے لیے ایک اہم پہلا قدم اس مقابلے میں حاصل ہوا ہو گا، حالانکہ یہ بات ہے کہ اس شعبے میں پانی کو ایک طاقت سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہے، لیکن اس حقیقت کو یقینی بنانے کے لئے یہ مقابلہ ایک اہم اقدامہ ہو گا۔

اس بات سے بھی ہمیں انورہے پتہ چلنا ہو گا کہ نوجوانوں کو Quran سے مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اہم کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ یہ انھیں اسلام کی تعلیمات سے بے پریشانی بنانے میں مدد دیتا ہے، اور اس طرح وہ اپنے ملک کے مذہبی رخ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، نہایت ایسا کہ ایسا کہ جو اسلام کے حامی نوجوان اترے تھے انھوں نے اپنے ملک کی مذہبی روایات کو دنیا بھر سے پہچان لیا ہوتا ہے۔
 
واپس
Top