پاکستان اور برطانیہ میں مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ نہیں، دفتر خارجہ

خلاباز

Well-known member
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدے کے بعد نہیں، صرف ایک بات چیت کا طریقہ ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کی حوالگی کو ایک معاہدے کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اس کو صرف ایک بات چیت کا طریقہ سمجھتے ہیں جس میں ضرورت پڑنے पर دونوں ممالک انفرادی کیسز پر بات چیت کر سکتے ہیں۔

حوالگی کی درخواستوں پر کارروائی معمول کے مطابق جاری رہتی ہے، لہٰذا کوئی پابندی نہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اس سلسلے میں بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا ہے۔

سینکڑوں کشمیری بھارت کی جیلوں میں غیرقانونی طور پر قید ہیں اور ان کے معاملات پر پاکستان کا ایک خاص دکھائی دیتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ کشمیریوں کی تعداد میں 2,800 کی رپورٹ ہے جس میں سے کچھ قید ہیں اور کچھ جبری طور پر واپس جانے والے ہیں۔

افغانستان سے متعلق سوال پر، ترجمان نے بتایا کہ یہ پوری صورتحال ان کی رپورٹ میں شامل ہے اور وہ اس معاملے کے بارے میں ایک مثبت اشارہ ہیں۔ پاکستان نے بھارت سے پاکستانی شہریت ختم کرنے والوں کو واپس لینے کی مشروطیت آمادية ظاہر کی ہے۔

غزہ میں فورس بھیجنا ایک فیصلہ یہ ہے جو ہر ملک خود کرتا ہے اور پاکستان نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
 
یہ تو پھر یہ دوڑ کتے ہیں! ایک طرف بھارت اس بات کو منع کر رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی حوالگی کو معاہدے کی طرح نہیں دیکھتا، اور دیوسرے طرف وہاں ایک بات چیت کا طریقہ ہے جس میں کشمیریوں کی حوالگی کو صرف ایک بات چیت کے طور پر دیکھنا پڑتا ہے! اور ان لوگوں کی تعداد میں 2800 لاکھ ہیں جو وہاں قید ہیں... یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر کبھی کسی نے خیال نہیں کیا!

انھوں نے کہا کہ یہ سارے معاملات ان کی رپورٹ میں شامل ہیں، اور وہ ایک مثبت اشارہ ہیں... لیکن یہ کیسے؟ یہ ان لوگوں کی پناہ ہوگئی ہے جو اس معاملے سے بچنے کے لئے واپس جانا چاہتے ہیں، اور وہ اسے ایک مثبت اشارہ سمجھتے ہیں?!

اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا... اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ غزہ میں فورس بھیجنا ایک فیصلہ ہے جو ہر ملک خود کرتا ہے... لیکن وہاں ہیں جب یہ سوال پڑتا ہے کہ اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تو اس پر کوئی بات چیت نہیں کرنی چاہیے! 🤔
 
مگر یہ بات چیت جاری رہے تو پاکستان کو ہمیں بھارتیوں کے ساتھ باقی بات کرسکتی ہی... اور یہ معاہدہ واضح طور پر نہیں ہوتا کہ ہم کیسے جائیں گے... پھر بھی پاکستان نے ایسا کیا ہے، بھارت کے ساتھ بات چیت کرنا اور اس سے معاف ہونا... میرا خیال یہ ہے کہ پہلے ہمیں دوسروں کی حوالگی پر بات چیت کرنی چاہیے نہ کہ ایک معاہدے کے طور پر... اور اس طرح کے معاہدوں سے ہمیں کچھ نہ ملتا...
 
بہت خوش ہو گیا 🤩 ایسا دیکھنا بھی اچھا ہے کہ دونوں ممالک ایک بات چیت کی پوزیشن پر آئے ہیں اور یہ معاملات میں ایک ایسا طریقہ اختیار کر رہے ہیں جس سے کس کو بھی غصہ نہیں ہوگا 😊 انہیں ایسی بات چیت کے طریقے سے اچھا لگ رہے ہیں جو ملک کے لئے بھی اچھا ہوسکے گا 🤝
 
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات چیت دیکھنے میں بھی ایک معاملہ کے طور پر نظر آ رہا ہے، لہٰذا یہ واضح ہو گا اور کوئی نہ کوئی وقت بعد اس پر انتباہ دیا جائے گا، ایسا کرنے کے بجائے یہ بات چیت دیکھنا مشکل ہو رہا ہے کہ کس طرح یہ معاملات حل ہو سکتے ہیں؟
 
ایسے کہتے ہیں کہ یہ بات چیت کی پوری بات ہے، اور پوری صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف ایک بات چیت کا ساتھ ہیں، اور پوری کوشش یہ ہے کہ دونوں ممالک کو انفرادی طور پر بات کرنے کی اجازت دی جا سکے۔
 
میں سچمنے کا ایک واضح خیال ہے کہ یہ بات چیت اور معاہدے کی شروعات ہی نہیں ہو سکتی بلکہ ان دونوں کی ملاپ میں ایک ایسا منصوبہ بننا پڑega جس پر سب کا اتفاق ہو 🤝

اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ کشمیری بھارت کی جیلوں میں غیرقانونی طور پر قید ہیں اور یہ ان کی زندگی کو توڑ رہا ہے۔ اس سے نکلنے کے لیے کسی معاہدے یا بات چیت سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا 🤷‍♂️

مجبور ہوں گے کہ پاکستان اور برطانیہ اس معاملے پر ایک مشترکہ منصوبہ بنانے کی کوشش کریں جس میں کشمیریوں کی آزادی اور برطانیہ میں ان کا رہائش حوالگی شامل ہو 🚨
 
یہ بات تو چیلے، بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کی ضرورت نہیں، صرف ایک بات چیت ہے جس میں کوئی حد تک ساتھ دے۔ مگر یہ بات بھی چیلے کہ ہر ایک اس بات پر متفق نہیں، یہ معاہدہ ہر وقت مستead رہتا ہے یا اس میں کسی کی بھی تبدیلی آتی ہے۔ اور انفرادی کیسز پر بات چیت کرنا بھی ایک گھلنی بات ہے، اس سے پہلے کوئی بات نہیں دیکھی جاتی، تو کیوں اس معاہدے کے تحت انفرادی کیسز پر بات چیت کرنا چاہیے؟
 
بہت بہت سچ ہے یہ بات چیت کا طریقہ ہے، لگتا ہے انہوں نے اورہی تو گاڑھا چلایا ہوا ہے، اگر انہوں نے صرف ایک معاہدہ کیا تو یہ بات چیت کس لیے کی جائے؟ کاش وہ کسی ایسی بات پر بات چیت کرنے والے ہوتے جس سے کوئی فائدہ ہو، مگر نہیں تو صرف دھمکاوٹ تھا اور اب بھی یہی ہوا رہے گا۔
 
یہ رہا یہ معاملہ تو بہت اچھا ہے، پاکستان کی ایسی پوزیشن سے بھارت کو اس بات پر مجبور کرنا ہوگا کہ وہ کشمیریوں کو واپس لینے کے لیے معیار بنائے اور ان کی تعداد میں پچاس فیصد اضافہ کریں، یہ تو دیکھنا ہی چاہئے کہ کشمیریوں کو جب واپس لایا جائے گا تو انھیں فرار کی نہیں لگنی اور ان کی زندگی میں بھی کسی کو بھوکلا نہ ہون۔
 
ایساFeels good kuch sahi karta hai, terjaman office ka ye statement bahut acha hai 🤩. woh bilkul sahi keh raha hai ki har maamle par ek baat chetna ki zaroorat hoti hai, to koi bhi maamle naa to ek baat chetna hi ya na to ek maamla ka solution dikhata hai.

Lekin yeh toh lagta hai ki kuch logon ko pakistani aur Bharatiya officials ke beech ki gulf ko bahut bada mudda banaya karta hai. phir bhi, Pakistan ne to apni baat chetna ki zaroorat ke hisaab se rakhi hai.

Aur agar humein Afghanisthan aur Gaza jese maamle par dhyan dena padta hai toh ismein ek sahi baat hai ki koi bhi desh apne hi nirdeshon ko follow karta hai, aur wo nirdesh uski matbidaari ke hisaab se likhe gaye hote hain 🤝.

toh, terjaman office ka statement bilkul sahi hai, aur humein iske peechhe koi galatfahmi na karna chahiye.
 
برطانیہ اور پاکستان کے درمیان یہ بات چیت ایک بہت اچھا سائنس ہے، مجرموں کی حوالگی کو صرف ایک معاہدے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اسے ایک بات چیت کا طریقہ سمجھنا چاہئے جس میں ضرورت پڑنے पर دونوں ممالک انفرادی کیسز پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ وہاں یہ بات بہت اچھی ہے کہ کارروائیں معاشرے کی معمولی حالات میں جاری رہتی ہیں اور کوئی پابندی نہیں ہے۔
 
یہ معاملات ایسے ہیں جس میں دوسرے ملک کی طرف بھاگیہے دلیلی کو چیلنج نہیں سمجھتے، اور اس کے بعد جسے وہ بہتر کہنے لگتے ہیں وہ ایسی بات ہوتی ہے جو ان کی رائے سے نہیں ملتی ہیں. کشمیریوں کا معاملہ ایسا ہی ہے جس میں کسی نہ کسی شکل میں بھارتی حکومت کی جانب سے یہ دाव کیا جاتا رہا ہے کہ وہ انہیں ایک معاملہ کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس سے پاکستان کو بھی ان کی جانب سے یہ دعویٰ کرنا پڑتا ہے کہ وہ انہیں انفرادی طور پر دیکھتے ہیں. 🤔
 
واپس
Top