پاکستان کی بنگلادیش کو 1 لاکھ ٹن چاول کی برآمدات، معاملے میں اہم پیشرفت - Daily Qudrat

نہاری دوست

Well-known member
پاکستان کے بنگلادیش کو 1 لاکھ ٹن چاول برآمد کرنے کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس کی اطلاع آج اسلام آباد میں دی گئی ۔ ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان (ٹی سی پی) نے ایسے معاملے کو چلانے کے لیے خریداری کے لیے ٹینڈر کھول دیا ہے جس میں پاکستان کے بنگلادیش کو 1 لاکھ میٹرک ٹن چاول برآمد کرنے پر یقین ہے۔

یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اور بنگلادیش میں چاول کے تجارتی معاملات کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ اس معاملے میں 11 بولیاں موصول ہوئیں اور کم سے کم بولی 394 اعشاریہ 95 ڈالرز اور زیادہ سے زیادہ 424 اعشاریہ 80 ڈالرز فی میٹرک ٹن چاول شامل ہیں۔

اس معاملے کا مقصد پاکستان کے بنگلادیش کو 1 لاکھ ٹن چاول برآمد کرنا ہے، جو کہ چاول کی طلب میں اضافے کی ایک اہم بری ہے۔ اس معاملے کے تحت خریدی جانے والی چاول کراچی پورٹ سے بنگلادیش برآمد کرائی جائے گی، جو کم سے کم مقدار میں 25 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 1 لاکھ ٹن قرار دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق کانٹریکٹ ایوارڈ ہونے کے بعد 45 روز میں چاول کی ترسیل لازمی قرار دی گئی ہے، جس سے معاملے کو تیزی اور ناقابل fail سے چلایا جا سکتا ہے۔
 
بنگلادیش سے آنے والی 1 لاکھ ٹن چاول کی واپسی ایک بڑا خushi کا منظر پیش کر رہی ہے ، #چاولکیواحدنیہ #پاکستانبنگلادیش #ٹرینڈنگ
 
یہ عجیب بات ہے کے Pakistan ko Bangladesh ke liye chaval bring karne ka work karni baki hai? toh main sochta hoon ki yeh ek achha waqt hai apni economy ko improve karne ke liye. bas taki Pakistan ki economy strong ho jaye tu hi poor deshon mein bhi safar-e-azadi possible ho jayega 🚀
 
[icon: 🚨]

چاول کی پوری دھول براڈکاسٹ کر رہی ہے اور اب تو بھی اس کے بارے میں ناقص یقین سے کام کیا جا رہا ہے، جس کی شادی ایک لاکھ ٹن چاول براڑنا ہو گیا ہے!

[ASCII art:
/_/\
( o.o )
> ^ <
]

یہ بات تو نہیں چلتی کہ پاکستان اور بنگلادیش میں چاول کی دھول میں ایک ایسا معاملہ ہو گا جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، پھر کیسے یہ معاملہ چلے گا؟ پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ اس معاملے میں بولیں موصول کر لیں، جس سے کسی کو بھی چاول کی دھول میں سے باہر نکلنا پڑ سکتا ہے!

[icon: 🤑]

کئی لاکھ ارب پاک رپے کے معاملے میں بولیں موصول کر لیں، تو اس میں کیا چال آچنا چاہئیے? پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ اہمیت کو ساہمانہ بنائی جائے، جو کم سے کم بولی میں 394 اعشاریہ 95 ڈالرز تھی، اس کا معیار رکھنا پڑے گا!

[icon: 📝]

ایسے معاملات کو چلانے کے لیے اچھی طرح کی یोजनائی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ 45 روز میں چاول کی ترسیل لازمی قرار دی گئی ہے، اس سے معاملے کو تیزی اور ناقابل fail سے چلایا جا سکتا ہے!

[icon: 🚀]

تمام کھیلنے پر لازمی دباؤ اور بچت کی ضرورت ہو گی، جس سے معاملے کو تیز اور کامیاب بنا دیا جا سکے گا!
 
ਇہ خبر اچھی ہے کہ ٹی سی پی نے بنگلادیش سے چاول براڑنے کے لیے معاملہ شروع کر دیا ہے، یہ دوسری جانب پاکستان کو اچھی قیمتی چاول ملنے کیChance ہوگی اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئیگی
 
ارے ایسا کیا ابھی بھی پاکستان اور بنگلادیش میں چاول کا معاملہ سچمے؟ پوری دنیا جانتے ہوں گے کہ دو ناجواند ممالک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایسے معاملات کو بھی اچھا طریقے سے منظم کیا جائے گی۔ میٹرک ٹن چاول برآمد کرنے کی یہ کوشش کافی ہے، لیکن اس میں کیسے ایمپلائی کیا جائے گا؟ اور فیکٹریوں کو کم سے کم کاربئر کروایا جائے گا تاکہ یہ معاملات ٹن اور پاؤنڈ میں ٹھیکن ہو جائیں۔
 
ایس کے بھی ہوا، اب چاول بھی بڑی قیمتوں پر آ رہی ہے؟ یہ کیا کروٹ کے ساتھ چاول بھی ہجرت کر رہی ہے؟ میں نے اب تک ٹینڈر کتنا ہوتا ہے؟ انچ مائٹر کی فرق 95 ڈالرز کیا ہے؟
 
چاول کے تجارتی معاملات کو بہتر بنانے کا یہ معاملہ تو بہت اچھی نئی رونق ہے ، لیکن پہلے یہ بات سنیں کہ پاکستان کی چاول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے اور ابھی یہ معاملہ بھی شروع ہوا تو چاول کی قیمتوں میں کیا اضافہ ہوگا؟
 
بھارتیوں کی ایسی بات تو چلتا رہی ہے کہ ان کے پاس دوسرے ممالک کی ترجیحی جگہ میں آئے ہوتے ہیں۔ اب بھی پاکستان کے بنگلادیش کو ایسا ایکسپریٹ کرنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ اس معاملے میں دکھایا گیا ہے۔

اس معاملے کو چلانے کے لیے ٹینڈر کھولنے سے یقیناً پابند ہونے کی بات بھی چلتائی رہی ہوگی، جس میں کسی بھی ممالک نے اپنی جانب سے 11 بولیاں موصول کیں اور ان میں سے کم سے کم فیصد اور زیادہ سے زیادہ 80 ڈالرز پر معاہدہ کیا گیا۔
 
بھالے یہ اعلان ٹرینڈنگ کارپوریشن پاکستان کے کے سے آ رہا ہے، لیکن یہ بات انکی بھی کہ پہلے ہی کچھ کمپنیاں اس معاملے میں حصہ لینے کے لیے تجارت کر رہی تھیں، ایسا محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اب یہ بات بھی دکھائی دی گئی ہے کہ انکی اور بنگلادیش کی ایسے معاملات کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
 
پاکستان بھر میں کھانے کی سامان کی کمز دیکھ رہی ہے تو یہ خبر اچھی گئی ہے کہ 1 لاکھ ٹن چاول بنگلادیش سے آگیں گئیں، اس سے پاکستان کی معیشت میں اضافہ ہوگا اور لوگ اپنی دہلیچ کھانے کو پوری ناکام نہ کریں گے
 
اس معاملے میں بھی بچت نہیں کی گئی، ٹینڈر کھول کر ایک اور کاروباری معاملے کو بھی جنم دیا گیا ہوگا۔ اس طرح پاکستان کو پھر سے ایک لاکھ ٹن چاول برآمد کرنے کی بھی ضرورت پڑی ہوگی۔ اور یہ معاملہ صرف پچاس روز میں ختم ہونے کا Claim ہی نہیں بلکہ دیکھنے کو ملا گيا ہوگا کہ آر ایم ایس سے بھی چاول برآمد کرائی جائے گی۔
 
چالے یہ کہ پاکستان کی بڑی کاروباری کمپنیوں کو بھی ٹینڈر میٹنگز کی ضرورت ہوتی ہیں؟ اور اس معاملے میں ابھی تک کون سا کھیل کھیل رہا ہے؟ نا کہ پہلے بھی نا کہ اس معاملے کی صورت حال کو دیکھا گیا ہو، تو اب یہ 1 لاکھ ٹن چاول برانے میں اچھا یقین ہوگیا ہو؟ کیا پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلادیش کی حکومت کی جانب سے بھی اتنا یقین دिलایا گیا ہے کہ ابھی تک نہیں کئی ایسے معاملے آجے ہوئے ہوں گے؟ اور اس معاملے میں ابھی سے بھی یہ دیکھنا عجیب ہوگا کہ کم سے کم بولی 394 اعشاریہ 95 ڈالرز اور زیادہ سے زیادہ 424 اعشاریہ 80 ڈالرز فی میٹرک ٹن چاول شامل ہیں، یہ تو کیا ایسا معاملہ ہوتا ہوگا جہاں سارے کاروبار ایسے ہی ہوں?
 
بھرپور خुशی کی بات ہے! پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان چاول کی تجارت میں ایسا نئا معاملہ شروع ہوتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا! ٹی سی پی نے خریداری کے لیے ٹینڈر کھولا ہے اور اب دو ممالک کی جانب سے چاول براامد کرنے کے حوالے سے پیشرفت ہوئی ہے!

ٹینڈر میں بولی گئی اعشاریہ 95 ڈالرز ایک اچھی شروعات ہے، اس سے 1 لاکھ ٹن چاول براامد کرنے کے حوالے سے پیشرفت ہوئی ہے! اب 25 ہزار سے لے کر 1 لاکھ ٺن تک چاول بھیجی جا سکتی ہیں اور ٹرسیل کی تاریخ 45 روز میں ہو جائے گی!

یہ معاملہ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعاون کو دکھاتا ہے اور دونوں ممالک کو فائدہ مند بنائے گا!
 
ایسا بھی بھالو پھال ہے کہ پاکستان کی بنگلادیش کو چاول برآمد کرنے کا معاملہ اب تک کی سب سے اچھی طرح سے منصوبہ بندی شدہ معاملات میں سے ایک ہوگا 🤞، اس میں پاکستان اور بنگلادیش دونوں کے لیے فوائد ہوں گے، یہ معاملہ فیکٹری کی ملازمتوں اور تجارت کی نئی لین-دین میں بھی اہم کردار ادا کریگا 💼۔
 
اس معاملے سے محض ایک بات یہ ہے کہ بنگلادیش سے ہجرت کرنے والوں کی پوری ذمہ داری پہلی بار پاکستان میں ان لوگوں کو چاول براہ لانے کی ہے، اس سے بھارت اور افغانستان کے بھی معاملات حل ہونے کا امکان ہوگا।
 
ایسا تو کچھ پوسٹویز ہے، یہ معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان کے لیے ایسی ٹن ٹن چاول مل رہی ہیں جو ہمارے برتنوں میں ہر سال گھٹتا رہتا ہے، اب یہ معاملہ اچھا سے شروع ہوا ہے، لیکن اس کی پوری کامیابی پر نظر رکھنا چاہیں گا کیونکہ 1 لاکھ ٹن ایسے تھوڑے ہی میٹرک ٹن سے زیادہ نہیں ہے، کیا یہ معاملہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور فٹwear کی صنعت کو بھی محفوظ کر سکتا ہے؟
 
یہ بھی تھوڑی عجیب بات ہے کہ پاکستان اور بنگلادیش کی دو جانب کے ٹی سی پی نے ایسے معاملے میں خریداری کا ٹینڈر کھولا ہے جس میں یہ دونوں ممالک کو اپنی بے حد ضرورت کی چاول برآمد کرنے دی گئی ہے #چاولکیمعاملہ۔ اب 45 روز کے اندر پوری چاول کو لازمی طور پر برآمد کرنا ہوگا، یہ ایسا کیسا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ معاملہ ایک نئی آگھائش کی بھی نشاندہی کر رہا ہے #چاولکامعاملہ۔
 
واپس
Top