پاکستان میں سائبر سکیورٹی کا نیا دور، نادرا نے پہلا ’بگ باؤنٹی چیلنج‘ لانچ کر دیا
نacional ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان کا پہلا بگ باؤنٹی چیلنج متعارف کرایا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر سیکیورٹی کی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ نادرا نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا بگ باؤنٹی چیلنج لانچ کیا ہے، یہ مقابلہ پاکستان کے قومی ڈیجیٹل شناختی نظام کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
بگ باؤنٹی چیلنج میں طلبہ اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین مختلف ٹیموں کی صورت میں حصہ لیں گے جہاں وہ تجزیاتی جائزے کریں گے، سائبر سیکیورٹی کی خامیوں کی نشاندہی کریں گے اور مؤثر حل تجویز کریں گے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف شرکاء میں جدت اور جدید تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر عوامی اعتماد کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
علاقائی سطح پر اس چیلنج کا آغاز 27 جنوری کو صوابی، اسلام آباد، لاہور، کراچی اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں ہوگا، شرکاء ممکنہ سیکیورٹی کمزوریوں کو سامنے لانے اور حساس ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ نادرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ نوجوان سائبر سیکیورٹی ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور قومی سلامتی میں حصہ ڈالنے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
بگ باؤنٹی چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی جس کی حتمی تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی، منتظمین کے مطابق اس موقع پر نمایاڑے کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو اعزازات دیے جائیں گے اور سائبر سیکیورٹی کے بہترین طریقہ کار پر مباحثے بھی ہوں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات پاکستان میں محفوظ ڈیجیٹل نظام کے قیام، آئندہ نسل کے سائبر سیکیورٹی ماہرین کی تیاری اور قومی ڈیجیٹل نظام کو ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
نacional ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان کا پہلا بگ باؤنٹی چیلنج متعارف کرایا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر سیکیورٹی کی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ نادرا نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا بگ باؤنٹی چیلنج لانچ کیا ہے، یہ مقابلہ پاکستان کے قومی ڈیجیٹل شناختی نظام کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
بگ باؤنٹی چیلنج میں طلبہ اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین مختلف ٹیموں کی صورت میں حصہ لیں گے جہاں وہ تجزیاتی جائزے کریں گے، سائبر سیکیورٹی کی خامیوں کی نشاندہی کریں گے اور مؤثر حل تجویز کریں گے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف شرکاء میں جدت اور جدید تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر عوامی اعتماد کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
علاقائی سطح پر اس چیلنج کا آغاز 27 جنوری کو صوابی، اسلام آباد، لاہور، کراچی اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں ہوگا، شرکاء ممکنہ سیکیورٹی کمزوریوں کو سامنے لانے اور حساس ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ نادرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ نوجوان سائبر سیکیورٹی ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور قومی سلامتی میں حصہ ڈالنے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
بگ باؤنٹی چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی جس کی حتمی تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی، منتظمین کے مطابق اس موقع پر نمایاڑے کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو اعزازات دیے جائیں گے اور سائبر سیکیورٹی کے بہترین طریقہ کار پر مباحثے بھی ہوں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات پاکستان میں محفوظ ڈیجیٹل نظام کے قیام، آئندہ نسل کے سائبر سیکیورٹی ماہرین کی تیاری اور قومی ڈیجیٹل نظام کو ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔