پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026؛ ادارہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹل اقدامات کی تفصیل

وہیل

Well-known member
پاکستان کے لیے ایک نئا دور آ رہا ہے جس میں نئی ترقی اور معاشی بھرپورتنہ کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور واضح حکمرانی کی خصوصیات ہو گیں۔ اس سال کی ریفارمز رپورٹ نے فہم دیا ہے کہ پاکستان کو اپنے معاشی اور منصوبہ بندی سلسلے میں تیزی سے ترقی حاصل کرنا ہو گیا ہے جس کی ایک بنیادی قیمتی پہلو یہ ہے کہ اس نے وفاقی اداروں میں اصلاحات کیے 600 سے زائد اقدامات کو اپنایا۔

رپورٹ نے بتایا ہے کہ پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 بھی ایک سالانہ رپورٹ ہو گی جس میں وفاقی اداروں میں کی گئی اصلاحات، ڈیجیٹل اقدامات اور مختلف شعبوں میں پیشرفت کا خلاصہ دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ نے دیکھایا ہے پاکستان میں 135 سے زائد وفاقی اداروں میں 600 اصلاحاتی اقدامات کیے گئے جس کا مقصد دیرپا نظام قائم کرنا تھا۔

ڈیجیٹل معیشت کے لیے پاکستان ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 کے نفاذ سے قومی فریم ورک قائم کیا گیا ہے اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور نیشنل ڈیجیٹل کمیشن قائم کیے گئے ہیں۔ آیکونیونسٹ ہاؤس کا نفاذ سے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب مضبوط ہو گیا ہے۔

رپورٹ نے بتایا ہے اسکول ٹیک پاکستان کے تحت 2,700 انٹرنز کو عملی میدان میں تعینات کیا گیا ہے اور 12,600 پیشہ ورانہ سرٹیفکیشنز جاری کی گئی ہیں۔ نیشنل آئی سی ٹی انٹرن شپ پروگرام کے تحت 1 لاکھ سے زائد گریجویٹس کو صنعت سے جوڑا گیا ہے اور ملک بھر میں 20 ای۔ روزگار مراکز قائم کرکے فری لانسنگ کو فروغ دیا گیا ہے۔

گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کے تحت 7 ہزار سے زائد سرکاری افسران کی تربیت مکمل ہوئی ہے جبکہ ہواوے آئی سی ٹی پروگرام نے ایک لاکھ نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہری پور میں مقومی کرام بُک اسمبلی لائن سے سالانہ 5 لاکھ یونٹس بنانے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے اور گیمنگ اور اینیمیشن کے قومی مرکز کے قیام کے لیے 2.52 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

راست میں ادائیگیوں میں شفافیت اور رفتار میں اضافہ ہوا ہے اور توانائی شعبے میں اصلاحات سے 1.4 کھرب روپے سے زائد کی طویل مدتی بچت ممکن ہوئی ہے جب کہ درآمدات میں کمی سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔

رپورٹ نے بتایا ہے ریکوڈک منصوبے میں چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی سمت عملی پیشرفت ہوئی ہے جب کہ دھماکہ خیز مواد کے لیے ملک گیر ٹریک کا نظام نافذ کیا گیا ہے اور آئل ٹینکروں کو جی پی ایس نگرانی سے منسلک کیا گیا ہے۔

سرکاری خریداری کے نظام میں ای پیڈز لازمی قرار دیے گئے ہیں اور پانچ لاکھ سے زائد معاہدے الیکٹرانک نظام کے تحت مکمل ہوئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل نظام نافذ کیا گیا ہے۔

وزارتِ نجکاری میں شفافیت، ای آفس اور ڈیجیٹل ورک فلو کے ذریعے ادارہ جاتی تیاری کی گئی ہے اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے عمل کی براہِ راست نشریات سے شفافیت کی نئی مثال قائم ہوئی ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں ڈیجیٹل کارپوریٹ رجسٹری متعارف کیا گیا ہے اور آسان کنیکٹ پورٹल کے ذریعے مالیاتی شمولیت اور پینشن اصلاحات کو فروغ دیا گیا ہے۔

کمپیٹیشن کمیشن میں مارکیٹ انٹیلیجنس یونٹ قائم ہوا ہے جو غیر مسابقتی رویوں پر کارروائی سے 2.7 ارب روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور مرجر کلیئرنس کے ذریعے 29.65 ارب روپے کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی ہے۔

غربت خاتمے کے لیے ایک لاکھ 65 ہزار خاندانوں کو پیداواری اثاثے فراہم کیے گئے ہیں اور دو لاکھ 4 ہزار 760 خاندANOں کو بلاسود قرضے دیے گئے ہیں جب کہ دو لاکھ 26 ہزار 991 افراد کو روزگار و معاشی تربیت دی گئی ہے۔

ایس ایم ایز کے شعبے میں 59 ہزار سے زائد کاروباروں کو مالی اور فنی معاونت فراہم کی گئی ہے اور خواتین کے لیے کاروباری پالیسی کے تحت 3 لاکھ خواتین کی معاشی شمولیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے لیے ایک نئی پالیسی کے طور پر کاربن مارکیٹ پالیسی اور پاکستان گرین ٹیکسانومی کا اجرا کیا گیا ہے جس سے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا اور سائنسی نظام مضبوط کیے گئے ہیں۔
 
پاکستان کو ایک نئے دور میں قدم دہ کر رہا ہے جو پرانے معاشی اور سیاسی جھوٹوں سے بچنے کے لیے ہے، پھر بھی اس کی پوری ترقی ہمیں دیکھنے کو ملے گی، وفاقی اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات کرنے کا یہ عمل پاکستان کے لیے ایک بڑا کامیاب قدم ہے ، اور اسی طرح انٹرنز کی تعداد کو 2،700 تک پہنچایا گیا ہے جو اس وقت کے معاشی ترقی میں ایک بھارپور کردار ادا کر رہی ہے
 
اس رپورٹ میں ایک نئی ترقی کی بات ہے جو پاکستان کو دیر پہ لوٹنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ یہ رپورٹ ایک نئے دور کے لئے تیار ہوئی ہے جہاں پاکستان اپنی معاشی بھرپورتنہ اور سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ واضح حکمرانی کی خصوصیات کو فروغ دے رہا ہے۔
 
ابھی تک نے دیکھا تھا کہ ریفارمز رپورٹ میں کیا گیا تھا اور اب پوری رپورٹ پڑھ رہا ہوں۔ ایک بات کو لینے والی بھی نہیں کی کہ اس سال کی ترقی کی باتیں اور معاشی ترقی کے نتائج انسान کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟
 
اس سال کی ریفارمز رپورٹ میں پاکستان کو ایک نئا دور دکھایا گیا ہے جس میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ واضح حکمرانی کی خصوصیات ہیں.

پاکستان کے لیے یہ رپورٹ ایک سالانہ رپورٹ ہو گی جس میں وفاقی اداروں میں اصلاحات، دھارنی لینے والی کارروائیوں اور مختلف شعبوں میں پیشرفت کی تفصیل دی گئی ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کے لیے پاکستان نے ایک نئا کدمہ بنایا ہے جس سے قومی فریم ورک قائم ہوا ہے اور آئی ٹی بھی نئیں ہے، آیکونیونسٹ ہاؤس کے نفاذ سے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب مضبوط ہوا ہے۔

اسکول ٹیک پاکستان نے 2,700 انٹرنز کو عملی میدان میں تعینات کیا ہے اور 12,600 پیشہ ورانہ سرٹیفکیشنز جاری کی گئی ہیں، نیشنل آئی سی ٹی انٹرن شپ پروگرام کے تحت 1 لاکھ سے زائد گریجویٹس کو صنعت سے جوڑا گیا ہے اور ملک بھر میں روزگار مراکز قائم کی گئی ہیں، اور ایس ایم ایز کے شعبے نے 59 ہزار سے زائد کاروباروں کو مالی اور فنی معاونت فراہم کی گئی ہے۔
 
مگر ان تمام پوسٹر و رپورٹس کو دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ آج کی معیشتی مہارت میں ایک نئی ترقی ہوئی ہے، لیکن اس سے قبل بھی پاکستان کو اپنی پالیسی اور منصوبوں سے کیا تھا؟
 
پاکستان کے لیے یہ رپورٹ بھارپور ہے، 600 سے زیادہ معاشی اقدامات کیے گئے ہیں جس سے معاشی ترقی کو دیرپا نظام بنایا جا رہا ہے ۔ گھر اور بینک کی ادائیگیوں میں شفافیت آ چکی ہے، ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک نئی کوریج قائم ہوئی ہے، اور نوجوانوں کو مختلف صلاحات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، کاربن مارکیٹ پالیسی اور پاکستان گرین ٹیکسانومی کا اجرا بھی ایک اہم قدم ہے جس سے موسمیاتی خطرات کو دیکھنے میں آسانی ہوگی، اس نئے دور میں چلنا پکاہے۔
 
رپورٹ سے پتا چلta ہے ایسے واضح منصوبوں کاImplementation ہوا ہے جو اس کے لیے ایک بھرپور دور آ رہا ہے اور وہ ابhi ادراک کر رہا ہے جس میں وفاقی اداروں میں اصلاحات کی گئیں اور 600 سے زیادہ اقدامات ہوئے جن کا مقصد دیرپا نظام قائم کرنا تھا 📈
 
ماں ب Apne pas ہوئے گھر میں بہت سی نئی لکیریں سامنے اٹھائیں تھیں، میں ان تمام لیکریاں پڑھ کر محسوس کرتا ہوں کہ دنیا آج ایسے ہی ہے جیسا کہ میں اپنے بچپن سے جانتا ہوں، بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور نئے معاشی نظام کی وجہ سے لوگ اب ایسے مواقع کو حاصل کر رہے ہیں جن کے بارے میں پہلے سوچنا مشکل تھا
 
پاکستان کو یہ ریفارمز رپورٹ ایک بے مثال منصوبہ ہے جس کا مقصد دیرپا نظام قائم کرنا تھا اور اب تک اس میں بہت ساری ترقی کی پہچان مل رہی ہے۔ معاشی بھرپورتنہ اور سیاسی استحکام دونوں خصوصیات اس نئے دور کو طېلع کرتے ہیں جس میں پاکستان ایک اعلیٰ درجہ کا ملک بن رہا ہے۔
 
یہ رپورٹ واضح دلالت کرتی ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی بھرپور طور پر تیزی سے آ رہی ہے اور سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ واضح حکمرانی کی خصوصیات نے اسے یہیں پہنچایا ہے۔ دوسرے شعبہ جات میں بھی کاروباری ترقی اور روزگار کے مواقع متحرک ہو رہے ہیں، جو نوجوانوں کی ترقی میں بھی مدد دیتا ہے۔
 
بھائی، پھر ایسے کچھ ہوا ہے جو مینے اپنی یادوں میں بھی نہیں دیکھا ہے! یہ رپورٹ پاکستان کے لیے ایک نئا دور آ رہا ہے جس میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کی طرف بڑھنا ہو گا۔ مینے سنی ہیں کہ وفاقی اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات کی گئی ہیں جس سے دیرپا نظام قائم ہو گا۔

مگر مینے سوچا تھا کہ ابھی بھی یہ ملک اپنی پرانی معاشی اور سیاسی Probleme کھل کر حل نہیں سکا سکتا! لہٰذا ہم اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ہمیں خوشیوں کا اچانک بوجھلا!
 
ہر ایک جانتا ہوگا کہ پاکستان میں اب نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور اس میں معاشی بھرپورتنہ، سیاسی استحکام اور واضح حکمرانی کی خصوصیات ہیں۔ ریفارمز رپورٹ سے بات کرنے لگا کہ اس سال پاکستان کو اپنے معاشی اور منصوبہ بندی سلسلے میں تیزی سے ترقی حاصل کرنا ہو گیا ہے۔

یہ رپورٹ دکھاتا ہے کہ پاکستان نے وفاقی اداروں میں 600 سے زائد اقدامات کو اپنایا ہے جس کا مقصد دیرپا نظام قائم کرنا تھا۔ اس سے آپ کو یہ محسوس ہونے لگے گا کہ پاکستان میں اب معاشی ترقی پر ایک بھرپور فوج ہو رہی ہے۔

رپورٹ نے بتایا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کے لیے پاکستان ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 کے نفاذ سے قومی فریم ورک قائم ہو گیا ہے اور انھوں نے آئن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب کو مضبوط کیا ہے۔

انچارے سے آپ جانتے ہو گے کہ اس رپورٹ نے اسکول ٹیک پاکستان کی پوری طرح ترقی دی ہے اور اس نے 2,700 انٹرنز کو عملی میدان میں تعینات کیا ہے۔

یہ بھی دیکھنا جارہا ہے کہ رپورٹ نے بتایا ہے کہ 7 ہزار سے زائد سرکاری افسران کو googل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام سے تربیت ملی ہے اور ایک لاکھ نوجوانوں کو ہواوے آئی سی ٹی پروگرام سے جدید ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کی گئی ہیں۔
 
ایسے دھندلوں کو یقینی بنانا، وہ لوگ جو کہدتے ہیں کہ پاکستان میں نوابغ معاشی ترقی ہو رہی ہے، اور ان کا خیال ہے کہ پاکستان ایک نئے دور کے قریب ہے، وہ لوگ جو ڈیجیٹل معیشت سے مایوس ہو کر اس پر لگاتار تنقید کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں ایک نئا دور آ رہا ہے؟ یہ ان کا خیال ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے ان چاروں منظر نامے کی پرتگیب کے ساتھ ریکوریسٹیونس رپورٹ 2026 کو بھی دیکھا ہے۔
 
دیکھو، پاکستان کو اب ایک بڑا شعبہ و معیشت بننا ہو گیا ہے اور اس کے لیے وفاقی اداروں میں تبدیلی کی ضرورت ہو گئی ہے۔ اس رپورٹ سے مندرج تیزی سے ترقی کے خفیہ نیلوں کو ظاہر ہوا ہے، جیسے کیونکہ ایس اے 2,700 انٹرنز کو عملی میدان میں تعینات کیا گیا ہے اور 12,600 پیشہ ورانہ سرٹیفکیشنز جاری ہوئی ہیں۔

اس سے دیکھنے لگتا ہے کہ پاکستان ایک نئا دور آ رہا ہے جس میں دیجیٹل معیشت کا تعلق زیادہ ہو گا، اور اس میں وفاقی اداروں میں اصلاحات کیے جانے سے دیرپا نظام قائم کرنا ہوگا۔

جبکہ یہ رپورٹ پاکستان کو ایک نئی پالیسی کے طور پر کاربن مارکیٹ اور پاکستان گرین ٹیکسانومی کی جانب بڑھانے کی طرف مائل ہے، جو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا اور سائنسی نظام میں تبدیلی لائی گئی ہے۔
 
بھائیو! یہ رپورٹ دیکھتے ہی میرا لگتا ہے کہ اس میں سے کچھ اقدامات پہلے ہی ہوئے ہوتے، جنم لیتے ہیں! مثال کے طور پر ڈیجیٹل معیشت کے لیے پاکستان ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 جیسا اقدامہ 2018 میں ہی کیا گیا تھا۔ اور آئیکونیونسٹ ہاؤس کا نفاذ سے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب مضبوط ہوا ہو گا تو پہلے بھی اس پر کام کیا گیا ہوگا۔

لیکن جب بھی میرا لگتا ہے کہ دوسری جگہ کی بات کی جا رہی ہے تو، ان سارے اقدامات کو مل کر دیکھتے ہی یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اور معاشی ترقی میں بھرپور تبدیلی ہوئی ہوگئی ہے۔

میری Opinion کی بات کی جا رہی ہے تو، یہ رپورٹ دیکھتے ہی اس بات پر مجھے شک نہیں ہوا کہ پاکستان کے لیے ایک نئا دور آ رہا ہے اور اس میں واضح حکمرانی کی خصوصیات ہو گیں، جس سے معاشی ترقی اور معیار زندگی بھی بڑھنے کے مواقع پیدا ہون گے۔
 
اس سال کی ریفارمز رپورٹ کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اب اس پالیسی سے پاکستان ایک معاشی طور پر بھرپور بن گئے گا اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی اداروں میں 600 سے زیادہ اصلاحات کیے گئے ہیں۔ اب معاشی بھرپورتنہ اور سیاسی استحکام پاکستان کے لیے ایک نئا دور آ رہا ہے جو اسے دنیا کے عظیم ممالک میں اپنا مقصد حاصل کرنے کی راہ پر بھی رکھتا ہے۔
 
واپس
Top