پاکستان کے ہر شہری پر کتنا قرض ہے؟ قرضوں کے خطرناک حد تک بڑھنے کی رپورٹ جاری | Express News

طبلہ نواز

Well-known member
پاکستان کے شہریوں پر قرض کی ایک عاریز سدوم پہنچ گئی، جس میں اسے لگایا گیا ہر سال تقریباً 39 ہزار روپے اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے سر پر اس سدوم کو بڑھاتے ہوئے، وفاقی حکومت نے اپنے مظالم میں اچانک اٹھاؤ کیے اور اس سے 80.5 کروڑ روپوں کا عوامی قرض 71.2 کروڑ سے زیادہ کر دیا۔ یہ دیکھنا عجیب ہے، جیسے اس شہری پر 13 فیصد اضافہ کیا گیا ہو، جو ان کو ایک اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنسایا ہے۔ یہ سدوم جبکہ وفاقی حکومت نے اپنے مظالم میں اٹھاؤ دیا، اس کے خلاف سرزمیں بھی لگائی گئیں ہیں کیونکہ یہ قرض جی ڈی پی کے ساتھ بھی دبایا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات میں تقریباً 2.7 فیصد اضافہ کر دیا، جس سے جاری بجٹ 18.9 کروڑ روپوں تک بڑھ گیا۔

انچارے پر ایک سال گزرتے ہوئے، انچارے میں وفاقی اخراجات 17.2 کروڑ سے زیادہ کر دیئے گئے، جس کا مطلب ہے کہ حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی額 اضافہ کر دیا تھا۔

ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دفاعی اخراجات میں تجاوز نے یہ عجیب سداوم کو بڑھایا ہے، جس کے بعد اسے نان ٹیکس آمدنیاں تو توقعات سے بہتر کر دی گئیں تھیں، اور یہ واضح طور پر دکھای رہی ہے کہ حکومت کا ایک ہی سدوم اپنے معاشی اخراجات میں بڑھتے ہوئے جاری اور دوسرے معاملوں میں نئے محکمے کے قیام اور فرنیچر خریدنے سے باہر نکل گیا ہے۔
 
بہت عجیب ہے، یہ شہری پہلے ایک لاکھ روپوں سے زیادہ قرض کیا کر رہا تھا اور اب اس پر 71.2 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے! governments ایسے معاملات میں بھی دخل اور باutrتی نہیں رکھتیں، وہ اپنے معاشی اخراجات کو بڑھاتے چلے جائیں گے تاکہ ان کے لیے بہت کم نان ٹیکس ہو جو کہ وہ پیداوار میں اضافہ کرنے کا یہی طریقہ سمجھتے ہیں۔

میں سوچta hoon government nai policies banaye rahi ho yeh kaisa effect karega, aapko pata nahi lagega ki 80.5 crore se zyada public debt badh gaya hai.
 
یہ تو ایک بات فاش ہو چکی ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات میں تقریباً 2.7 فیصد اضافہ کر دیا ہے، لیکن اس سے جی ڈی پی پر ایک لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے؟ یہ تو ایک بات فاش ہو چکی ہے!

جس سدوم کو آم وفاق نے جاری رکھی ہے وہ معاشی اخراجات میں بڑھتے ہوئے ہے، لیکن اس کا کوئی انحصار معاشی اخراجات پر نہیں ہے؟ یہ تو ایک جھال ہے!

انچارے پر ایک سال گزرتے ہوئے، انچارے میں وفاقی اخراجات 17.2 کروڑ سے زیادہ کر دیئے گئے، لیکن یہ تو ایک بات فاش ہو چکی ہے کہ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی پر اپنا تعلق نہیں رکھا!
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ قرض دیکھنا عجیب ہے، اور وفاقی حکومت کی ایسی پالیسی کو لگانے سے اس شہری پر گھنٹی کی کھڑکی میں چھپایا گیا ہے جو تقریباً 39 ہزار روپے اضافہ کرتا رہتا ہے۔ یہ دیکھنا ایسا ہی لگتا ہے جیسے اس کی چاکوں پر دباؤ بڑھایا گیا ہے۔ اور حکومت نے اپنے مظالم میں اٹھاؤ دیا، حالانکہ یہ سدوم جیسا لگتا ہے جو اس شہری کو ایک اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنسایا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ، وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات میں تقریباً 2.7 فیصد اضافہ کر دیا ہے جو جی ڈی پی سے دبایا جا رہا ہے۔
 
بہت زیادہ گھنٹیوں سے یہ بات چیت نہیں ہو سکتی کہ عوامی قرض زیادہ اور زیادہ کر رہا ہے، جس کی پہل وچ بھی ابھار ہوئے ہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ عوامی قرض میں تقریباً ایک لاکھ روپے اضافہ ہوتا ہے، جس سے شہریوں پر بھاری بار دبाव پڑتا ہے۔ وفاقی حکومت نے اسے زیادہ اور زیادہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی قرض 71.2 کروڑ سے زیادہ 80.5 کروڑ روپوں تک بڑھ گیا ہے۔ یہ دیکھنا عجیب ہے، جیسے ایک اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنسایا گیا ہو۔
 
اسسٹمنٹ مین ہوں، یہ قرض پالنا بہت گھنٹی کا کام ہو رہا ہے! 71.2 کروڑ روپوں کا عوامی قرض دیکھ کر میرے جس سے توازن محسوس ہوتا ہے! جی ڈی پی کے ساتھ بھی دبایا جا رہا ہے، یہ تو ایک عجیب سدوم ہی نہیں بلکہ ایک پھینکیوں کی گاڑی کی واپسی کا معاملہ ہے! میرا ماننا ہے کہ انcheonے میں تقریباً ایک لاکھ روپے اضافہ کر دیا گیا تھا، جس سے جی ڈی پی میں بھی دباؤ ہو رہا ہے!
 
یہ واضح ہوتا ہے کہ مظالم میں اٹھاؤ کرکے وفاقی حکومت نے اپنی جی ڈی پی کو زیادہ دبایا ہے، لیکن یہ دیکھنا عجیب ہے کہ ان Chancellor Ki pehle bhi kai baar is tarah ki aazadi thi, jese kay apne eadat ke maamle mein achaanak aatuh de diya gaya tha.

اس baat ko dhyan me rakhna chahiye ki government ne kisi kaam ka koi naya sambandh nahi banaya hai, balki woh samee samay pe hee samee maamle ka hilaaul kar rahi hai, jese kay pichhle baar bhi kai baar is tarah ke mazo ki aazadi thi.

jo ki government ne kaha hai ki ye budget mein aatuh diya gaya tha, to woh saaf si truth nahin hai. ye budget jese kay apne previous budget ka hi hilaaul kar rahi hai, jahan se unhe aapne adhik takaat aur maamle milen ge.
 
اس سدوم کو دیکھتے ہی مجھے بہت غمizzاد ہوتا ہے، یہ وہ معشوق اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنسایا جاتا ہے جس سے اس کی زندگی پر بالکل کسیControl نہیں رہتا۔ اور یہ تو غالب ہی وہ سرفraz جو ایک اچانک گھنٹی کے باوجود اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، لیکن اب یہ دیکھتے ہی ناجائیز ہے، یہ سرفraz کو ایک اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنسایا جاتا رہتا ہوں۔

مجبور کرنا بھی اس کے ساتھ ہوتا رہتا ہے، اور یہ تو یہ غلطی ہے کیونکہ یہ ان کے لیے کوئی ترقی نہیں دیتی ہوں، بلکہ اسے ایسا محسوس کرایا جاتا رہتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی کی چال چلائی بھی کنٹرول میں نہیں رکھ سکتا ۔ اور یہ تو ایسی بات کے لیے ہوتی ہے جس کے خلاف سرزمیں لگائی گئی ہیں۔
 
بہت عجیب ہے، شہری کو چھپانے والے قرض میں تقریباً لاکھوں روپوں کا اضافہ ہوا ہے اور اس نے انہیں ایک بڑا ذمہ داری کی ٹول ڈنٹ بھی دیا ہے، جس سے وہ اپنی زندگی کو توڑ کر رہتے ہیں 🤯

دیکھو کہ انچارے میں اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی額 اضافہ ہوئی ہے، جس سے جی ڈی پی پر بھی دبائی جا رہی ہے تو یہ کیا غم؟

میں سوچتا تھا کہ وفاقی حکومت ایک ہی سدوم کی طرح اپنے اخراجات میں اضافہ نہیں کرتی، لیکن اب دیکھنا عجیب ہے جیسے یہ ٹول ڈنٹ چل رہا ہے 😩
 
یہ تو بھولنا نہیں پائے، جاری اخراجات میں ایسا زیادہ اضافہ کر دیا گیا ہے جیسے اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی! اور یہ کچھ بھی معلوم نہیں کہ یہ قرض جی ڈی پی پر میزبان ہونگے یا پھر یہ انچارے کو زیادہ گھنٹیوں میں بنائے رکھنے کے لیے ہیں؟

مگر، یہ بات تو۔ جب सरकار آپ پر بھاری سدوم پہنچاتی ہے تو وہ اچانک اٹھاؤ لگاتے ہیں اور آپ کو ایک غلام کے طور پر رکھ دیتے ہیں۔ کیوں نہیں؟ اس سے وہ اپنے معاشی اخراجات میں اضافہ کر सकतے ہیں اور ایک لمحہ میں جی ڈی پی پر بھی لگایا جا سکta ہے!
 
یہ بھی تو عجیب ہے کیوں نہ ہوتا کہ وفاقی حکومت نے ایسا ہی سدوم اپنے اخراجات میں پہلا تیزاب پکڑا ہے! اب یہ 80.5 کروں تک چل پڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو ایک اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنسایا جا رہا ہے۔

میری نظر سے یہ بھی عجیب ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دفاعی اخراجات میں تجاوز نے اس سدوم کو زیادہ بنا دیا ہے۔ اب وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی額 اضافہ کر دی تھی، جو کہ عوام کو بہت زیادہ دبایا جا رہا ہے۔

جب تک یہ سدوم جاری ہوگا تو عوام کو معاشیں میں کئی چیلنجز کی پہچاننے پڑتے رہتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کے لیے یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔
 
یہ عجیب بات ہے، جیسے یہ شہری ایک ایسے قرض پر پھنس گیا ہو جس کے بارے میں اس کو علم نہیں تھا اور اس کی نوجوانی بھی نہیں تھی، جب تک اس کے سر پر 13 فیصد اضافہ کر دیا گیا، تو یہ شہری ایک اچانک گھنٹی کی کھڑکی میں پھنس گیا ہوگا!

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات میں تقریباً 2.7 فیصد اضافہ کر دیا، جس سے جی ڈی پی پر بھی دبایا جا رہا ہے، یہ تو تو اس بات کا بھرپور اچھوتھا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے معاشی اخراجات میں بڑھتے ہوئے سدوم کو نان ٹیکس آمدنیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے!

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے اپنے معاشی اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی額 اضافہ کر دی تھی، جس کا مطلب ہے کہ اس شہری کو ایک ایسا قرض دئے گا جو اس کی آخری نوجوانی میں بھی پورا کرنا پڑ سکتی ہے!
 
یہ بھی پتا چلا ہے کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرکے ایک ایسا قرض جبکہ وہ شہری اپنی ذمہ داریوں سے نکلنے کا بھی مظاہرہ کرتا ہے، یہ تو۔ پہلے بھی دیکھنا تھا کہ وفاقی اخراجات میں اضافہ کرکے حکومت نے کچھ معاشی اقدامات کیے جس سے شہریوں پر ایک سدوم پڑنے کی صورت میں ان کی معیشت بھی نقصان پہنچا دیتی ہے۔
 
یہ عجیب بات ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے مظالم میں اچانک اٹھاؤ دیا ہے اور عوامی قرض کو 71.2 کروڑ سے زیادہ کر دیا ہے! انچاروں پر ایک سال گزرتے ہوئے، انچاروں میں وفاقی اخراجات 17.2 کروڑ سے زیادہ کر دیئے گئے ہیں! یہ سدوم تو صرف شہری پر 13 فیصد اضافہ کرکے ہی نہیں، بلکہ جی ڈی پی کے ساتھ بھی دبایا جا رہا ہے!

یہ تو واضح طور پر دیکھنا ہے کہ حکومت کا ایک ہی سدوم انکار اخراجات میں بڑھتے ہوئے جاری اور دوسرے معاملوں میں نئے محکمے کے قیام اور فرنیچر خریدنے سے باہر نکل گیا ہے! یہ بھی واضح ہے کہ حکومت نے اپنے اخراجات میں تقریباً 2.7 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس سے جاری بجٹ 18.9 کروڑ روپوں تک بڑھ گیا ہے!

میں اس پر توجہ دینا چاہتا ہूं کیونکہ یہ سدوم وفاقی حکومت کو دیکھنے والوں کو ایسا محسوس کرتا ہے جو اسے بہت غمگستھ اور ناکام محسوس کرتا ہے!
 
اس دuniya کی جھولپلی تو بھارپور ہی ہے! 80.5 کروڑ روپوں کا عوامی قرض، یہ تو کچھ اچانک اٹھاؤ ہی نہیں ہوا!

مگر، اگر میں اس کی سوجھوں کے راسخ ہون۔ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے ساتھ دبایا جو بھی نہیں ہوا!

جس طرح سرزمیں لگائی گئی ہیں، اسی طرح انچارے کی چالوں میں بھی ہاتھ بھرنا پڑا ہے، جیسا کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دفاعی اخراجات میں تجاوز نے اس سدوم کو بڑھایا ہے!

لیکن، میرا یہ ماننا ہے کہ وفاقی حکومت جس طرح جواب دہ ہوئی ہے، ابھی تک معاشی بحران سے بچ نہیں سکا ہے!
 
یہ بھی دیکھنا عجیب ہے، جیسے ایسے سڑکوں پر پہنچ کر بھی لوگ اٹھتے ہیں اور بعد میں کتنے قدم اٹھتے ہیں اسے ملک کے معاشرے کی سوچ سے جوڑنا پڑتا ہے۔ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی اضافہ کر دی، حالانکہ یہ معاشی بحران کا وقت تھا جب لوگ اپنے گھروں میں بھی رکاوٹ سے دوچکا ہو رہے تھے اور کیا ناکافی کیوں اُتارتی ہے؟
 
😕 ایک وارث کو اپنے ملازمت سے بھگتنا پڑتا ہے تو دوسرا وارث اس کے فائدے سے لافazona کرلتا ہے 🤑
 
واپس
Top