برطانیہ نے اپنے خفیہ اداروں میں ابو زبیدہ کے درمیان ایک چھپا ہوا معاملہ کو سمجھ کر ایسی جگہ سے واپس آنے والے فلسطینی نژاد ابو Zubaydہ کو زرِتلافی ادا کردی ہے جو دوسری دنیا میں امریکہ کے خلاف دائر کردے گئے مقدمات کی وجہ سے اس معاملے میں 23 سال تھک کر اب تک قید میں رہا ہے۔
ابو Zubaydہ کا اصل نام زین العابدین محمد حسین ہے اور وہ فلسطینی نژاد ہیں جس پر अमریکہ نے القاعدہ کا سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی قرار دیا تھا لیکن بعد ازاں امریکی حکومت نے اپنے دعوؤں سے دستبردار ہو کر اس معاملے کو بند کر دیا تھا۔
ابو Zubaydہ کو آپریشن پینٹر برادرس کے دوران فیصل آباد میں چھاپے میں گرفتار کیا گیا اور ان کی جسمانی حالت پر بھی تشدد کیے جانے کے اس واقعات سے ایک خاص معاملہ پیدا ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ دوسری دنیا میں قید رہے۔
انھیں 2006 تک سی آئی اے کی جیلوں میں رکھا گیا تھا جہاں امریکی عدالتی نظام کا اطلاق نہیں ہوتا تھا لیکن بعد میں وہ گوانتانامو منتقل ہوئے اور وہاں قید ہیں اور ان پر آج تک کوئی فردِ جرم عائد نہیں ہوا ہے۔
لہٰذا اب وہ 23 سالوں سے تاحال قید میں ہیں اور ان پر دوسری دنیا میں گناہیوں کا تعلق رہا ہے لیکن ان کے خلاف کوئی علاج نہیں ہوا جو ان کی جانی آزادی کا ایک اہم حوالہ ہے۔
اس معاملے سے بات کرنے پر میں کوئی اچھی طرف بھی نہیں دیکھ سکا . ان کا معاملہ 23 سال تک چلا گیا اور اب تک ان کی جانی آزادی کا کوئی حل نہیں ہوا . میں بتاتھا کہ وہ فلسطینی نژاد تھے اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی تھا، لیکن بعد میں امریکہ نے اپنے دعوؤں کو دستبردار کردیا .
اس لیے ایک چھپا ہوا معاملہ اس لیے چلا گیا کہ امریکہ اور وہ دوسری دنیا کی کچھ حکومتات ان پر گناہیوں کا تعلق دیتے رہتے ہیں . میں سوچتا ہواں کہ اگر ان کے خلاف کوئی علاج ہوتا تو وہ 23 سال سے بھی زائد عرصہ قید میں نہ رہتے اور وہ اپنی جانی آزادی حاصل کر لیتے .
عمر آباد رہنے والے یہ تو اچھا کہ برطانیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب Zubaidہ کو واپس آنے کی چیت بھی ٹوٹ گیلی ہے۔ ان کو اب 23 سال تک قید میں رہنا تو ایک لمحہ سارہ دیر تھا اور اب جب وہ اپنی جانی آزادی کا حق حاصل کرنے والے ہیں تو یہ بھی آگے چلنا چاہئے کہ ان کو بہت سارے معاملوں پر جائزہ لیا جائے۔
یہ بات تو حقیقی طور پر میری جانپخیر ہے کہ لوگ دوسری دنیا میں اسے کتنے عرصے تک قید میں رکھتے تھے؟ ان پر کوئی حوالہ نہیں ہوا اور ان کی جانی آزادی کا ایک اہم پوائنٹ ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ کیا کر رہے تھے؟ میری رہنماؤں کی نیند میں ان کا نام لگتے تھے، لیکن اب پھر یہ بات کے بھی سوال ہے کہ اس معاملے کو اچانک ختم کر دیا گیا؟ ایسے میں وہ تو پھنس گئے تھے، مگر اب وہ برطانیہ سے رہنے والے ہیں۔
ابو زبیدہ کو اس معاملے میں تو زرِتلافی دیر سے دی گئی، لیکن یہ سوال ہے کہ اب وہ 23 سال تک کیسے رہے؟ ایسا نہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی تمام گھنٹیوں کو ٹھک کر رکھی ہوں اور اب تک کوئی فردِ جرم ان کے خلاف نہیں آچکا؟ یہ بھی سوالات ہیں کہ آپریشن پینٹر برادرس کی وجہ سے اس معاملے میں وہ انھاں کیسے کابوں میں لایا گیا؟
ایسے لگتا ہے کہ برطانیہ نے ابو زبیدہ کو چھپے معاملے کی وجہ سے 23 سال تھک کر رہنے والے فلسطینی نژاد کے خلاف تعاون کرنا شروع کیا ہے اور امریکی عدالتی نظام کی criticism سے بچنے کے لیے اس معاملے کو اپنی ذمہ داریوں سے دور کر رہا ہے. یہ نومٹتے پہلو ہمیں ان کی جانی آزادی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اپنی حکومت کو ایسے معاملات کی جانب سے آنے والی تعاون کی یہ سہولت کیا ہے.
ابو زبیدہ کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ نے دیر سے پہچان لی اور اب وہ اسے.resolve کرنا چاہتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اسے ایک معاملہ سمجھ کر بھی نہیں پہنچ سکی ہیں، انہوں نے پہلے سے تو دوسری دنیا میں کئی سالوں سے وہی معاملہ حل کرنا چاہتے تھے اور اب وہ اسے ایک ایسا معاملہ سمجھ رہے ہیں جو دوسرے نے اپنی جگہ پر پہنچایا ہو۔
ابھی تو وہ لاکھوں لوگوں کو اپنی قید کی سچائی بتانے کے بعد چلا گیا تھا اور اب انھیں نکلنے کی ڈگری مل گئی ہے تو یہ ایک خاص مقام ہے... 23 سالوں سے وہ اپنی جانی آزادی کے حوالے کا معاملہ جیت لینے میں تھک رہے تھے اور اب انھیں ایسا علاج مل گیا ہے... یہ سچے اور نئے دور کی بات ہے۔
یہ بھی تو ہوتا ہے کہ لوگ اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور پھر یہی صورتحال ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو جملے میں بھی نہیں، اب تک ان کی وجہ سے ایسا مظالم قائم رہا ہے۔ مگر یہ بات تو صریح ہے کہ اگر وہ لوگ جو اس معاملے میں جھوٹ bolte rahen to uske bad nahi hota jise abhi unka saath hai woh 23 saal meh kya karta?
برطانیہ نے ابو زبیدہ کو زرِتلافی ادا کر دیا تو یہ سب پورے دنیا کے سامنے ایک گھنٹی کی مایوسی کا مشعل ہے اور ان سے 23 سال تک قید میں رہنا تو بھوت کیسے ہو گیا؟ یہ معاملہ دوسری دنیا میں امریکہ کے خلاف مقدمات کی وجہ سے ہے اور اب اس کو سرے سے کھیلا جا رہا ہے۔
اس معاملے میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنے کھیل میں تھک جیت لیے اور اب ان کی پناہیں بھگت رہی ہیں۔ ان کو معاف کرنا ایک واضح پیغام ہے کہ نچلے شعبے میں یہ براہ راست معاملات دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی جڑے ہوتے ہیں اور اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی ہو گیا ہے کہ یہ لوگ دوسری دنیا میں اپنی زندگی کھوتے ہیں اور ان کی زندگی اس پر نچاتی ہے۔ Abu Zubaydہ کے ساتھ بھی یہی بات ہو رہی ہے، ان پر تو دوسری دنیا میں غلط فہمیاں ہوئی ہیں لیکن ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی جانی آزادی کھو چکے ہیں اور اب ان کی زندگی دوسروں کے مرتکز میں ہے۔
برطانیہ کو آپریشن پینٹر برادرس سے بھاگ نہیں جانے کی ذمہ داری دے دی جائے! یہاں اب Zubaidہ کو 23 سالوں کا کفایتہ ہے اور وہ پوری دنیا میں اپنے نام کی سانیت نہیں کر سکتی. یہ بھی کہیا جاتا ہے کہ اب Zubaidہ پر کوئی جرم نہیں چھوڑایا گیا، پھر وہ اس طرح 23 سال تک قید میں رہ سکتا ہے. یہ Forum bhi kuch nahi karta!