پاکستانیوں کی ڈیٹا چوری کا شکار پھیل گئی اور اس کو انکشاف میں لایا گیا ہے کہ پھر سے 500 روپے میں ملنے والے ایسے پاکستانیوں کی ڈیٹا بھی بیرون ملک استعمال اور فروخت ہونے کا شکار ہوئے ہیں۔
ایک سینیٹر نے انکشاف کیا کہ پابندیوں کی کمی کی وجہ سے پاکستانیوں کی ڈیٹا چوری کو روکنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور اس کا استعمال بیرونی ملکوں میں بھی کیا جارہا ہے۔
اس سینیٹر کی کہانی ایک وکیل کو جنب تک پہنچا ہے جس نے بتایا کہ اسے اپنی شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے بھارت پہنچا گیا تھا اور اس سے وہ اپنا پاکستانی شہریت ثابت کرنا پڑا۔
اس واقعے میں ایک ڈیش بورڈ بنایا گیا تھا جو جعل سازیوں کے ذریعے سفر کرنے والوں کا تدارک ممکن کر دیتا ہے اور اس سے نادرا کو ملنے والی شہریت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔
سینیٹر نے بتایا کہ ایک شخص اپنے پاسپورٹ کو استعمال کر کے اپنا پاکستانی شہریت ثابت کرنا چاہتا تھا اور اس سے اس کا دہری شہریت ہے جس نے اسے برطانوی پاسپورٹ پر سفر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
ایک سینیٹر نے انکشاف کیا کہ پابندیوں کی کمی کی وجہ سے پاکستانیوں کی ڈیٹا چوری کو روکنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور اس کا استعمال بیرونی ملکوں میں بھی کیا جارہا ہے۔
اس سینیٹر کی کہانی ایک وکیل کو جنب تک پہنچا ہے جس نے بتایا کہ اسے اپنی شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے بھارت پہنچا گیا تھا اور اس سے وہ اپنا پاکستانی شہریت ثابت کرنا پڑا۔
اس واقعے میں ایک ڈیش بورڈ بنایا گیا تھا جو جعل سازیوں کے ذریعے سفر کرنے والوں کا تدارک ممکن کر دیتا ہے اور اس سے نادرا کو ملنے والی شہریت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔
سینیٹر نے بتایا کہ ایک شخص اپنے پاسپورٹ کو استعمال کر کے اپنا پاکستانی شہریت ثابت کرنا چاہتا تھا اور اس سے اس کا دہری شہریت ہے جس نے اسے برطانوی پاسپورٹ پر سفر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔