اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بھارت سے تعلق رکھنے والے صلاح کاروں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق سرگرمیوں پر زور دیا گیا۔
انہوں نے صلاح کاروں سے اس بات پر اتفاق کرنے کے لئے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیں، جس پر صلاح کاروں نے بھی انھیں موافقت کا اعلان کیا۔
اس وقت تک کی جانب سے، پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے بارے میں واضح نتیجہ نہیں کھڑا تھا، لیکن اس رشتے کو حل کرنے سے اب پہلے یہ بات واضع ہو گئی ہے۔
سری چیئرمین محسن نقوی نے صلاح کاروں سے کہا کہ، بھارت سے تعلق رکھنے والے تمام ٹیمز جو پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیں گئی ہیں انہیں ایک گروپ میچ کھیلنا پڑے گا، لیکن وہ ان میں سے ایک نہیں ہو سکتے ہیں جو بھارت کے خلاف آئے گے۔
اس بات پر انھیں اتفاق کرنا پڑا کہ، پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیں گئی ہیں، بھارت سے تعلق رکھنے والی تمام ٹیمز کو ان کی فریق پر آئے اور ایک گروپ میچ کھیلنا پڑے گا اور بھارت کے خلاف کھیلنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔
انہوں نے صلاح کاروں سے اس بات پر اتفاق کرنے کے لئے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیں، جس پر صلاح کاروں نے بھی انھیں موافقت کا اعلان کیا۔
اس وقت تک کی جانب سے، پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے بارے میں واضح نتیجہ نہیں کھڑا تھا، لیکن اس رشتے کو حل کرنے سے اب پہلے یہ بات واضع ہو گئی ہے۔
سری چیئرمین محسن نقوی نے صلاح کاروں سے کہا کہ، بھارت سے تعلق رکھنے والے تمام ٹیمز جو پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیں گئی ہیں انہیں ایک گروپ میچ کھیلنا پڑے گا، لیکن وہ ان میں سے ایک نہیں ہو سکتے ہیں جو بھارت کے خلاف آئے گے۔
اس بات پر انھیں اتفاق کرنا پڑا کہ، پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیں گئی ہیں، بھارت سے تعلق رکھنے والی تمام ٹیمز کو ان کی فریق پر آئے اور ایک گروپ میچ کھیلنا پڑے گا اور بھارت کے خلاف کھیلنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔