آڈیو لیک کیس: علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

مچھلی

Well-known member
پاکستان کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس میں ایک ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئی ہے جس کا فیصلہ اسلام آباد کی District and Session Court نے دیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کے بعد ایک وارنٹ گرفتاری جاری کی گئی، اس جیسے واقعات میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوتی ہے جب اشتہاری قرار دینے والی کارروائی ہو جاتی ہے، لیکن ان صورتوں میں حکومت نے کوئی بھی فوری کسر نہیں کی ہوتے دیکھا گیا ہے۔

کسی شخص کو گرفتار کرکے پیش کرنے اور ان سے اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ ایسے حالات میں کیا جاتا ہے جب وہ اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کا شکار ہو جائے۔ اس صورت میں جرم کی کوئی چارہ نہیں بھی جاتی ہے، اور وہ شخص گرفتار کرکے پیش کرنے کے بعد ایسا کیا جاتا ہے کہ ان سے اشتہاری قرار دینے والی کارروائی میں کوئی تبدیلی نہ ہوتے دیکھا گیا ہے۔

اسلام آباد کی District and Session Court نے علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی، اور اس صورت میں اس کے خلاف تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے۔
 
اس نئے وارنٹ گرفتاری کی صورت میں تو سچے لوگ یہ چاہیں گے کے ان پر کسی بھی صورت حال میں سرگرمی نہیں ہو سکتی؟ اور اگر ان پر اشتہاری قرار دینے والی کارروائی سے پہلے ہی اس طرح کی وارنٹ گرفتاری جاری کی گئی تو کیا یہ ایسا سمجھنا ہے کہ ان پر اشتہاری قرار دینے والی کارروائی سے پہلے سے ہی کوئی جرم نہیں ہو سکتا؟ یہاں تک کہ ایسے حالات میں بھی جب ان پر اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کا شکار ہونے کو لگ رہے ہوں تو انہیں گرفتار کرکے پیش کرنا اور ان سے اشت۰اری قرار دینا یہ سب ایک پہلو ہے جس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے۔
 
اس्लام آباد کی District and Session Court نے علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کو 21 فروری تک ملتوی کردیا ہے، اس میں سے ایک وارنٹ گرفتاری جاری کرنی پڑ گئی ہے۔ ابھی تک حکومت نے ان حالات میں فوری کسر نہیں کی ہو سکتی ہے۔ یہ بات بھی دیکھنی چاہیے کہ اشتہاری قرار دینے والی کارروائی سے پہلے اس شخص کو گرفتار کرکے پیش کرنا اور ان سے اشتہاری قرار دینا اس قدر مشکل ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں بھی فیصلہ نہیں لگتا ہو سکتا۔ اچھا یہ ریکارڈ بھی کیا گیا کہ حکومت کو کسی بھی صورت मہر پر اس شخص کو گرفتار کرکے پیش کرنا اور ان سے اشتہاری قرار دینا جس کی وعدہ کی گئی ہو۔
 
بہت دیر ہو چکا ہے کہ پہلے اشتہاری قرار دینے والی کارروائی میں Ali Amin Gandapur کی شہرت ہوئی، اب جب وہ اس کے خلاف آڈیو لیک کیس میں گرفتار ہوا ہے تو یہ سب ہمارے سامنے آ گیا ہے کہ governments ko bhi logon ki aaraa nehin hai ki kaisi sazaat di jati hai?

yaan jo people ko government ke aane wala banna hona hai, uski baat nahi ho sakti. ye decision jo Islamabad High Court ne liye hai, woh ek good decision tha, lakin ab yeh question upar aa raha hai ki agar koi person jail meh jaata hai to kya wah sahi se aage badh sakta hai?

Ab iska matlab yeh nahi hai ki Ali Amin Gandapur ko arrest karke usse jail meh dena ek bad idea tha, lekin agar wo kisi bhi aam logon ki tarah jhelum uthata to kya wo sahi se aage bad sakta hai?

Mujhe lagta hai yeh case thoda aur samajhdar hota jo uske baad pehli baar isse jawabdeh kiya jaayega.
 
بڑا خوفناک! پاکستان کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئی ہے، یہ تو کچھ بھی درست نہیں ہوتا دیکھا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے کوئی کوشش نہیں کی جارہی کہ اشتہاری قرار دینے والی کارروائی میں تبدیلی آئے، یہ تو سمجھنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا। اور پھر ان سے اشت۰اری قرار دینے والی کارروائی میں کوئی تبدیلی نہ ہونے پر حکومت کس باتوں میں مصروف ہے؟
 
اب Ali Amin Gandapur ko arrest karne ki talash ho rahi hai, aur issey pehle se bhi court ne nazarandaaz varntari ka farman diya tha 🤯. Lagta hai koi sense nahi hai, agar government ko is tarah ka varntari dena chahiye toh unhein apne actions par baandh lo dena chahiye, na ki issey zikr karke unki bhi galatigaar ko show karna. Aur phir yeh sawal hai koi government se milna chahiye ya court ke hawale? 🤔
 
ایسے واقعات ہوتے تو کیا کرتے؟ پہلے اشتہاری قرار دینے والی کارروائی سے لے کر وارنٹ گرفتاری جاری کرنا، یہ سب ایک دھڑكانا ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص اشتہاری قرار دیا گیا تو وہ اپنی جائیداد پر رکھتا ہے اور اس صورت میڰ حکومت نہیں کرسکی سکتے۔
 
اسلام آباد کی District and Session Court نے علی امین گنڈاپور کو ایسے حالات میں اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کا شکار ہونے کے بعد گرفتار کرکے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ ان سے اشتہاری قرار دینے والی کارروائی میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کی وجہ وہاں کیسا پائا؟ اگر کسی شخص کو اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کا شکار ہونا چاہیے تو ان سے قبل بھی کچھ بدلنا چاہئے تاکہ وہ جسم و محسوسات میں ایسا ہو جائے کہ وہ اپنی گaltی کو تسلیم کرے، اب وہ شخص اپنی گaltی کی پکڑ میں ہے اور ان سے اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کا شکار ہو رہا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی گaltی کو تسلیم کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اشتہاری قرار دینے والی کارروائی کا شکار ہونے کے بعد گرفتار کرکے پیش کرنے کی وجہ سے ان کے جسم میں کچھ تبدیلی نہیں آئی ہے۔
 
جناب علی امین گنڈاپور کا یہ ایسا مामलہ ہو رہا ہے جو اس وقت تک پھیل گیا ہے جب تک کوئی نہ کوئی جانیں نہ ہوں گے کہ یہ کس طرح ایک آڈیو لیک کیس میں پھیل گیا ہے، مگر ان سے پوچھنا ہوتا ہے کہ وہ کیس اس پر مبنی ہو گا یا نہیں؟ جسے مگر میں اور تمارے ساتھ بھی نہیں کھل رہا ہوں
 
ایسا لگتا ہے یہ فیصلہ سے ناکام رہا، آڈیو لیک کیس کی سماعت کو ملتوی کرنے والے اس فیصلے کی ناقدیت کرتے ہوئے دوسرے کیسوں میں بھی یہ ناکامی دکھائی دے رہا ہے، حالانکہ جس ملک میں اس طرح کی غلطیاں ہوتی ہیں وہ ملک کے سامنے ایسا نئا چیلنج پیش کرتا ہے؟ اور دوسرے سے یہ پوچھنا تو کیا ہوا کہ اس جیسے واقعات میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کی گئی ہے تو government کو فوری کسر دی جانے کی ضرورت نہیں پائی؟

یہاں تک کہ اگر علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے والی کارروائی میں گرفتار کرکے پیش کرنا ہوا تو اس صورت میں بھی ان سے اشت۰اری قرار دینے والی کارروائی میں کوئی تبدیلی نہ ہوتی، ایسا لگتا ہے یہ ملک کی ایک بدشہ داستانی روایت کی وجہ سے چل رہا ہے۔

اسلام آباد کی District and Session Court نے علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت کو 21 فروری تک ملتوی کردیا ہے اور اس صورت میں تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے، اور یہ سوال بھی پوچھنا کہ ان حالات میں ملک کی ایسے معیار کو کیسے بنایا جائے جو آڈیو لیک کیس سے بالکل الگ ہو؟
 
واپس
Top