پی آئی اے حوالگی: نجکاری کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ

چاٹ محب

Well-known member
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا پی ایس این سے ہونے والا معاملہ حوالگی کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم نے طے کیا ہے۔ اس معاہدے کی شروعات 20 دسمبر کو جس میں نجکاری کمیشن اور کامیاب کنسARTHیم نے باضابطہ معاہدہ کیا، اس سے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی کامیاب نجکاری کی دوسری سال کی ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔

آج فوری میٹنگ قومی اسمبلی کی نجکاری سے متعلق صدارت فاروق ستار نے جس کا شعار تھا ‘’حوالگی ایک نیا دور‘‘ اس کے بعد انہوں نے کامیاب کنسورشیم اور نجکاری کمیشن کو معاہدہ کرنے کی خبر دی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے پہلے اس معاہدے پر دستخط کی گئی تھیں جس سے پی آئی اے کے تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات سول ایوی ایشن اتھارٹی کو منتقل کر دیئے گئے ہیں اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے عارف حبیب کو کلیئر کیا تھا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ نجکاری کمیشن کا ایک ایسا ریکارڈ بننا بھی اچھا ہے جس میں اس طرح کی سارے معاملات کو کوئی اور حل نہیں کرتا، یہ ایک حقیقی نجکاری ہوگی جس سے ملکی صنعتوں میں بھی تعاون ملेगا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے اپنا منصوبہ پہلے ہی نئے کنسورثیم کو فراہم کیا گیا تھا، اسی لیے یہ معاہدہ ایک نئے دور کی شروعات کر رہا ہے جس میں ملکی صنعتوں اور کامیاب کنسورثیم کی طرف بڑھتی رہیگی۔

انہوں نے ان ساتھ ملنے والے اعلیٰ حکام پر زور دیا، ان میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کی عظمتِ رفتہ بحال ہوگی، مسافروں کے لئے آرام دہ سفر، ان کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنائے گا اور پاکستان کا نام بلند ہوگا، اس سے ملک کی پوزیشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے اپنے مشیر نجکاری محمد علی سے کہتے ہوئے کہ ان سارے کارروائیوں پر شکر گزاریں، اسی لیے ان کی بھرپور سراہی جانی چاہئی۔

انہوں نے ان ساتھ ملنے والے اعلیٰ حکام کو بھی کھل کر شکریہ ادا کیا، ان کی ایسے کردار پر ان کی طرف سے شکریہ ہے جنہوں نے اس معاہدے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کی نجاری سے ملک کو 55 ارب روپے قومی خزانے میں آنے والی سرمایہ کاری میں ایک نئے دور کی شروعات ہوگی، جس سے ملک کا معاشی ماحول بھی بہتر ہوگا اور ملکی صنعتوں کو بھی بہت فائدہ پہنچائے گا۔

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہی معاملات پر ایک جسمانی عمل کا اعلان کیا اور یہ بتایا کہ ان کے مشیر نجکاری محمد علی اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، وہ اس کی تصدیق کر رہے تھے۔
 
عرف حبیب نے پی آئی اے کے معاملے سے متعلق تمام کارروائیوں پر شکر گزارنے کی ضرورت ہے اور ان سب لوگوں کو بھی سراہنا چاہئیے جنہوں نے اس معاہدے میں اہم کردار ادا کیا
 
عرف حبیب کنسورشیم کو یہ ایک بڑا فائدہ ہوگا؟ انہوں نے پی آئی اے کی نجاری سے ملک کے معاشرے میں بھی ایسی ایک رات کو لایا ہے جس سے لوگوں کی زندگی میں ایک نئی دھار تھپکی لگی ہوگی۔
 
🤓 میں بھی یہ دیکھنا مشکل تھا کہ حکومت نے ایسا معاہدہ کیا ہے جس سے پی آئی اے کی قیمتیں اس kadar کی ہونگی کہ ان کے بعد ملک کو جو فائدہ پہنچائے گا وہ صرف ایک نئے دور میں دیکھا جاسکتا ہے۔

یقیناً یہ معاہدہ ایسا ہوا ہے جو ملکی صنعتوں کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی سلامتی اور آنے والی سرمایہ کاریوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

جب تک اس معاہدے کے شروعات میں پی آئی اے کی کارروائیوں کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان سارے کارروائیوں پر توجہ دی گئی ہے اور انہیں بڑی تینچ میں لایا گیا ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے کے نئے دور میں فائدہ پہنچانے کے لیے کامیاب ہوگا۔

لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑی کہ اس معاہدے کی شروعات سے قبل بھی حکومت نے اپنے منصوبے کو جاری رکھا تھا اور اس لیے یہ معاہدہ ایسا ہوا ہے جو اس منصوبے کے ساتھ مل کر انہیں بڑی تینچ میں لایا گیا ہے۔
 
عرف حبیب کنسورشیم نے پی ایس این سے تعلق رکھنے والے معاملے کو حل کیا ہے اور یہ بات باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی ہے
 
عجیب بات یہ ہے کہ جس لیے پی آئی اے کو چلایا گیا تھا وہی لینے والے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کیا ہے، یہ ایک بڑا شاندار قدم ہے جس پر ملک کی آزادی کے لیے ہمیشہ ہمیں کوشش کرنا پڑتا ہے۔

ان معاملات میں ان ساتھ ملنے والے اعلیٰ حکام کو بھی سچائی کی بات کہنی چاہئی، نہ ہی وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ معاہدہ کیا ہے، نہ ہی ان کے لیے ملک کی بھال کا کوئی اور Means نہیں ہوتا، وہ اس معاملات میں آئناکار ہوتے ہیں جو ان کی ناکامی کی طرف لے جاتے ہیں۔
 
مگر یہ بھی سوچو ہی کہ پی ایس این سے ہونے والا معاملہ اور حوالگی کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم نے کیا حوالگی دی۔ ہر سال اس طرح کی سوچ و سازش کی جاتی ہیں، پھر کیسے یہ معاہدے پر دستخط کرے؟ اور یہ بھی سوچو کہ نئے کنسورثیم سے ملک کا معاشی ماحول بھی بہتر ہوگا، لیکن یہ بھی سوچو کہ ان سب سے ہونے والی ایک بڑی گمری؟
 
جب تک میں سوچ رہا ہوں کہ پی ایس این اور پی آئی اے کے درمیان معاملہ سے نکلنا ممکن نہیں تھا ، لेकिन اب وہاں سے ایک نئی لڑائی شروع ہوگئی ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو ایک نیا دور ملک میں بڑھانے کے لئے ایسی ریکارڈیں بنائی جارہی ہیں اور اس معاملے کی وجہ سے ان کی عظمتِ رفتہ بحال ہونے پر غور کرنا ضروری ہوگا.
 
🚨 پورے ملک میں یہ بات سے ہٹنا پوری مشکل ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجاری کو کوئی خوف کے درمیان بھی دیکھ نہیں سکا۔ اس معاہدے کی شروعات 20 دسمبر سے شروع ہوئی تھی، جس میں نجکاری کمیشن اور کامیاب کنسورشیم نے باضابطہ معاہدہ کیا۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پی آئی اے کی نجاری سے ملک کو ایک نئے دور کی شروعات مل رہی ہیں۔

ان معاہدے پر دستخط کرنے والی تمام جماعتوں کے لئے میں بڑا شکریہ اور تسلیت ہے، کیونکہ یہ معاہدہ ملکی صنعتوں کو فائدہ پہنچانے والی نئی یقینی ہے۔ اس معاہدے سے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی کامیاب نجکاری میں دوسری سال کی ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔

میں اس معاہدے پر کچھ شک نہیں کرتا، جس سے ملکی صنعتوں کو اور ملک کی ترقی میں بھی کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس معاہدے سے یہ بات واضح ہو چuki ہے کہ پی آئی اے کی نجاری سے ملک کو ایک نئے دور کی شروعات مل رہی ہیں، جس میں ملکی صنعتوں اور کامیاب کنسورثیم کی طرف بڑھتی رہیگی۔
 
یہ بھی کچھ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجاری کو ایک نیا دور کے طور پر دیکھنا، پہلے بھی یہ بات تھی کہ پی آئی اے کی Najaret مملکت میں ہونے والی حوالگی کمیشن سے معاملات کو حل کرنے کا ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، اب بھی یہ کہتے ہوئے چلے آ رہے ہیں کہ ان معاملات کو حل کرنے کی ایک نئی پالیسی جاری کی گئی ہے جس سے ملکی صنعتوں میں بھی تعاون ہوگا، یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجاری کے ساتھ ساتھ ملک کے معاشی ماحول میں بھی تبدیلی آنی گئی ہے۔
 
ایسے میں یوں پہلے سے کہا جاتا ہے کہ پی ایس این سے ہونے والی معاملے میں حوالگی کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم نے شروعات کی، پھر اس سے بعد 20 دسمبر کو نجکاری کمیشن اور کامیاب کنسارثیم نے باضابطہ معاہدہ کیا، جس سے بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی کامیاب نجکاری کی دوسری سال کی ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔

اس معاہدے پر مشتمل یہ اعلان فوری میٹنگ قومی اسمبلی کی نجکاری سے متعلق صدارت فاروق ستار نے جس کا شعار تھا ‘’حوالگی ایک نیا دور‘‘ ہے، اور انہوں نے معاہدے پر دستخط کرنے کی خبر دی ہے۔

اس معاہدے سے پی آئی اے کے تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات سول ایوی ایشن اتھارٹی کو منتقل کر دیئے گئے ہیں، اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے عارف حبیب کو کلیئر کیا تھا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ نجکاری کمیشن کا ایک ایسا ریکارڈ بننا بھی اچھا ہے جس میں اس طرح کی سارے معاملات کو کوئی اور حل نہیں کرتا، یہ ایک حقیقی نجکاری ہوگی جس سے ملکی صنعتوں میں بھی تعاون ملेगا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ सरकار کی جانب سے اپنا منصوبہ پہلے ہی نئے کنسورثیم کو فراہم کیا گیا تھا، اسی لیے یہ معاہدہ ایک نئے دور کی شروعات کر رہا ہے جس میں ملکی صنعتوں اور کامیاب کنسورثیم کی طرف بڑھتی رہیگی۔
 
شاید یہ معاہدہ سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو ہے جو ملکی صنعتوں کو بھی نمایاں طرح سے لाभ دے گی, لیکن اس کے پیچیدگیوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے, کہ اگر اس معاہدے پر ملک کے تمام ادارے کور کر دیئے جائیں تو یہ ملک کی انتظامی صلاحیتوں کو کمزور کردے گا
 
🙏 یہ معاہدہ پی آئی اے کے لیے ایک نئے دور کی شروعات کر رہا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بھی حکومت نے اپنا منصوبہ فراہم کیا تھا لेकین اب اس کو اچھی طرح نئی شکل دی گئی ہے، معاملات کو حل کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے، اس سے ملکی صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچائے گا، اس میں ان ساتھ ملنے والے اعلیٰ حکام نے اہم کردار ادا کیا ہے جو شکر گزاریں دیجے، یہ معاہدہ ایک حقیقی نجکاری ہوگا جس سے ملکی صنعتوں میں تعاون ملے گا۔
 
"جب آپ نے اپنا کام جتایا ہے تو بھاگ جائیں اور کچھ لینے کے لیے بھی بھاگ جائیں۔" 🤩
 
واپس
Top