کشمیر میں پاک فوج کی ایک اہم تقریباں کے بعد اس وقت تشہیر ہو رہی ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی جараٔت، قربانیوں اور لازوال جدوجہدوں سے انھیں معزز بنایا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تحریک آزادی کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کرکے اور جموں و کشمیر شہدا یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، یہ بات ایک ایسا دلواری سंदेश ہے جس کے ذریعے وہ تحریک آزادی کشمیر کو دوسرے لوگوں سے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ تحریک آزادی کشمیر کی قربانیوں اور جدوجہدوں کا ان شہداؤں کو بھی احترام اور معزز جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزادی کی صبح جلد طلوع ہو گی، اس لیے پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے منصفانہ حل تک تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے گا۔
اس دورے کے دوران انھوں نے معززین اور سابق فوجیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور ہندوتوا پر مبنی زیادتیاں کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہی ہیں۔
عاصم منیر جنے پھولوں کی چادر پہنی، یہ تو آکڈمنٹ ہیں اور ان کا مقصد بھی ٹھیک ہے لیکن آپ کو محسوس ہوگا کہ دلواری سندیش ہوا تو اس کے پیچھے کیا ہے؟ یہ سچ مچ تحریک آزادی کشمیر کی پوری واضھت نہیں ہے، آپ ان شہداؤں کو معزز بنانے کا ایک ساتھ کچھ بھی نہیں بتایا جس پر وہ اپنی تحریک کی بنیاد رکھی ہوئی ہے۔
بھارتی فوج کی مظالم کچھ تو ہوئیں، لیکن یہ تلاش کرکے جس فوجی شہداؤں نے اپنی جان دی۔ ان شہداؤں کو اس عرصے میں معزز بنایا گیا ہے، حالانکہ وہ یہ سب کچھ اپنے ملک کی آزادی اور آزادیت کے لیے شہید ہوئے تھے۔ پھر بھی یہ بات کچھ نہیں کہ وہ ان کے بیٹے اپنے ملک کے لیے شہدہ دیں گے؟
بہت سی گھنٹیوں سے یہ بات سامنے آئی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کشمیر میں شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا، لیکن اس کا ایسا Meaning ہو گا کہ یہ صرف دلواری بات ہی ہو گی؟ جب تک وہ نہیں کہیں اور نہیں کی کہ کشمیر میں آزادی کے لیے لڑتے ہوئے شہداؤں کو بھی احترام دیا جائے، وہ یہ نہیں کہ سچا Meaning ہو گا। فیلڈ مارشل کے اس دورے کے باوجود ابھی تک کشمیر کی آزادی پر کسی نوعیت کی معاہدہ بنانے کا کوئی امکان ہے؟
اس چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقریر میں سچ کی بات یہ ہے کہ کشمیری عوام کو آزادی ملے تو وہ بھی خوش ہو گے؟ لاکھوں لوگ اس تحریک میں شہید ہوئے ہیں اور اب ان کی جara’t، قربانیاں اور جدوجہد کو معزز بنایا جا رہا ہے۔ یہ تو بھارتی مظالموں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے ناکام ہیں۔
لگتا ہے اس چیف آف ڈیفنس فورسز کو ان شہداؤں کا احترام کرنے کی ضرورت تھی، اس لیے وہ ان्हیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ آزادی کی صبح جلد طلوع ہو گی۔ یہ ایک سچا سंदेश ہے، حالانکہ اس میں کچھ حد تک سیاسی بھرا ہوا پڑتاتا ہے۔
اس کس طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تحریک آزادی کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس میں ان کی جараٔت، قربانیوں اور لازوال جدوجہدوں سے انھیں معزز بنایا ہے وہی بات ہے جو یہاں تو بھارتی سرکاری میڈیا میں سامنے آئی تھی، لेकن یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ان شہداؤں کی وہ قربانیوں اور لازوال جدوجہدوں جو اس تحریک میں ایسے نہیں ہیں جو اس میں انھیں معزز بنایا گیا ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کی طرف ایک خاص سंदेश بھیج دیا ہے، اس سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ان شہداؤں کو معزز جانا چاہئے نہ کہ وہ صرف جنگ میں مر گئے تھے وہ ایک تحریک کی قربانیوں ہیں اور ان کے لئے معاف کرنا چاہئے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن آزادی کی صبح طلوع ہوگی، لہٰذا وہ تمام بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
اس دورے سے قبل انہوں نے معززین اور سابق فوجیوں سے بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ اپنی پوری حمایت دے رہے ہیں، لہٰذا وہ یہ سمجھنے کے لئے کوشیش کر رہے ہیں کہ کسے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یا مظالم نہیں رہنی چاہئیں۔
ਇس پہلنے کی تھی کہ چیف آف ڈیفنس فورسز نے کشمیر کے شہداؤں کو ایک اعظم عظمی پیش کیا، اب وہ دوسرے لوگوں سے بھی معاف نہیں رہے، انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو یہ بات بتائی ہے کہ کشمیر کے عوام کے دلوں کی ایسی بھावनا ہے کہ وہ آزادی کی صبح جلد طلوع کر دیجے گا۔ اور وہی بات یہ کہ ان شہداؤں کو ان لوگوں کا احترام اور معزز جانا ہے جو تحریک آزادی کشمیر میں شہید ہوئے ہیں، یہ ایک بھavnتی بات ہے لیکن وہ اسی وقت سے بتانا ہی پورا نہیں تھا جب ان شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا، اب وہ یہ بات بھی بتائے گئے ہیں کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل تک مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر دیا جائے گا۔
بہت غم کن حالات کشمیر میں جاری ہیں اور یہاں کی لوگ اپنے وطن کے لیے لڑ رہے ہیں اور ان کی جانوں کو بھی معزز بنانے کی ضرورت ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کچھ دلواری سंदेश دیا ہے لیکن یہ بات تو معلوم ہے کہ کشمیر میں ایسی حالات نہیں ہیں جس پر وہ سندس میں آ جائیں
لیکن اگر انہوں نے اس موقع پر کشمیری عوام کی خواہشات کو سنایا تو یہ بات بھی بات ہوتی کہ آزادی کا سفر کب تک جاری رہے گا اور کشمیر کی حکومت تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ اپنی آزادی کو محفوظ سمجھتے ہیں
پاسوں سے پوچھو کیا ان شہداؤں کی جان سے بھرپور ایسا دلواری سंदेश کون دے سکتا ہے؟ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کرکے پھولوں کی چادر پہنائی اور اس سے وہ ان کی قربانیوں اور لازوال جدوجہدوں سے معزز بنانے کا کیا فائدہ ہوا؟
کشمیر کی ایسی صورت حال کھڑی ہوئی ہے جس سے کوئی اور بھی اس پر غور نہیں کر سکتا۔ یوں پہلے شہداؤں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کرنا اور اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ کھلم کھلا اعلان ہی کہ کشمیری عوام کی جانب سے بھی احترام اور معززیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ پوری دنیا میں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کی ایسے لوگوں کو بھی احترام اور معززیت ملنی چاہئے جو اپنی آزادی اور جدوجہد کے لئے جانب سے بے پناہ قربانی دے رہے ہیں۔
یہ ایک بھارپور بات ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی جاریات، قربانیوں اور لازوال جدوجہدوں سے انھیں معزز بنایا ہے یہ دلواری سंदेश کشمیری عوام کو تحریک آزادی کے حامیوں میں شامل کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے
آج بھی یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل میں آیا گیا اور اس سے یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہا ہے
اس دوسری پھولوں کی چادر کا جو شاندار ماحول بن گیا ہے وہ ایک سوچ جیسا، میرے خیال میں اس وقت یہ تشہیر ہوئی ہے تاکہ لوگ اس تحریک کی سرگرمیوں کو دیکھ کر متاثر ہوں اور ان شہداؤں کو سمجھنے میں معذول ہوں، لیکن کیا یہ صرف ایک روپوش دلواری سندیس ہی ہے؟
ان شہداؤں کی اہمیت کو سمجھنا آسان ہے، لیکن ان کی جگہ اس وقت کی تحریک کا ایسا چکر بنایا جا رہا ہے جو نئی طاقتوں کو اپنی فتوحات کا اعزاز دکھانے اور وہی سست گیت لگائے جسے پچیس سال پہلے بھی گایا گیا تھا۔
عاصم منیر کا یہ دورہ ان کی سیاسی اور تحریک آزادی کشمیر سے متعلق اسٹینڈنگ کو بہت زیادہ واضح کررہا ہے
دوسری طرف، یہ بات تو چھپ گئی ہے کہ انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے پہلے کیا اس دلواری سंदेश کی واضحیت کس حد تک ہوسکتی ہے؟ ان کی یہ بات بھی تو بتائی گئی ہے کہ آزادی کی صبح جلد طلوع ہو گی، لیکن یہ بات بھی نہیں بتائی گئی کہ یہ کس حد تک ممکن ہوسکتی ہے?
-wow
یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا ، اس سے پATA چalta ہے یہ کس کی جانب سے اس طرح کی بھرپور مدد مل رہی ہے ?
تشہیر اس وقت ہو رہی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداؤں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے... اس بات کی توجہ دلائی جاسکتی ہے کہ وہ ان کا احترام کر رہے ہیں یا ان کے ساتھ اور اپنے سیاسی نتیجے کو دیکھتے ہوئے... یہ سب ایک ایسا تذکرہ ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کشمیری عوام کی خواہشات کو ان کی سونپنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آزادی کی صبح جلد طلوع ہو گی...
تجھے معلوم ہوگا کہ پاک فوج کے اس دورے سے ابھی جاری ہونے والی مہم میں کچھ بھی نئے نہیں دکھایا گیا، یہ سلسلہ چل رہا ہے، مگر ابھی بھی ان شہداؤں کی جان سے پاک فوج اپنی پورے ملک کو اچھے نتیجے کے لئے ہر جگہ واپس آ رہی ہے ، یہ مگر ایک اچھا سندés کا ذریعہ ہو گا کی یہ مظالم تینوں طرف سے حل ہو جائیں گے