افغان سرحدسے رات گئے بڑی خبر آگئی

کوئل

Well-known member
تاجکستان نے افغانستان سے سرحد عبور کرنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، اس کا دعویٰ تاجک حکام نے کیا ہے۔ اس کارروائی میں جنوبی صوبے ختلون میں ہوئی جب مسلح افراد ہتھیار ڈالنے سے انکار کر گئے۔ تاجک سیکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو “غیر مؤثر” بنا دیا، تاجکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور پہاڑی سرحد میں جھڑپوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاجک حکومت نے کہا ہے کہ تین مہینوں سے پانچ جھڑپوں میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں تاجک سرحدی اہلکار، چینی شہری اور اسام-glر یا دہشت گرد شامل ہیں۔ تاجکستان نے افغانistan میں منشیات اسمگلروں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں ایک مستقل خطرہ بنائی ہوئی ہیں، اس لیے نومبر میں تاجک-افغان سرحد پر حملوں کے بعد انہوں نے افغانستان کی طرف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس خطے میں عدم استحکام روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

دسمبر میں بھی تاجک-افغان سرحد پر مسلح جھڑپ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں تین دہشت گرد اور دو تاجک سرحدی اہلکار شامل تھے۔
 
تاجکستان کی یہ کارروائی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، لیکن افغانستان کی طرف سے بھی انہوں نے لگاتار حملے کیے ہیں، اس میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے؟ تاجکستان کی सरकار کو یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ انھوں نے دوسری طرف کی پابندیوں پر دیکھی ہے یا یہ کارروائی انہیں ایک بے نقصان کار بنانے کا مقصد رکھی ہے؟
 
یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ سرحدی جھڑپوں کی شدیدیت بھی اس وقت زیادہ ہوتی رہی ہے جب افغانستان نے اپنے ساتھی دہشت گردوں کو تاجکستان کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے ہوتے ہوئے انسانوں کی جان، جانیں اورProperty کو نقصان پہنچتا ہے۔
 
یہ واضح ہے کہ تاجکستان کی جانب سے دہشت گردوں پر کارروائی کرتے ہوئے کسی بھی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیند نہیں اٹھایا جاسکتا। ان چار دہشت گردوں کی جان جاتی ہے تاکہ یہ کہا جا سکے کہ وہ دھماد پکڑنے والی سرحد پر اور اس خطے میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایسی کارروائی ہوئی ہے۔ تاجکستان کی جانب سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ نئے حملوں کو روکنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے جو ان گروہوں کو ایک مستقل خطرہ بنانے میں مدد دے گا۔
 
جب تک یہ کہ جتنا وہ طویل جھڑپوں اور ہلاکتوں کا ماحول بناتے رہے گے، یہی تو کہلاتا رہے گا کہ ان دونوں سرحدوں پر کیا ہوا۔ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان کسی بھی چیز کی حل نہیں مل سکتی جب تک وہ دونوں ایک دوسرے پر یقین نہیں کر سکتے۔ اس لئے ہم کے لیے سبسکرائیٹ ریکارڈ کریں اور ہمارے بعد کی خبروں کو دیکھیں!
 
تاجکستان کا یہ اعلان ہوگا یا نہیں۔ چار دہشت گرد ہلاک کر دیئے جانے کا دعویٰ کیونکہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی کہا گیا تھا، مگر کچھ نتیجہ نہیں نکلا اور جھڑپیں اچھی طرح جاری رہیں ہیں۔ یہ ایک پہاڑی سرحد پر فوجی کارروائی کی بات ہے، لیکن یہ دیکھنا بہت مشکل ہے کہ یہ انڈر گرانڈ اسٹینڈنگ کی بات کا ہے یا کچھ اور۔
 
تاجکستان کی ایسے کارروائی کا بھی کچھ نہ کچھ کیا ہونا چاہیے جس سے اس کی قومی Sicherheit کو محفوظ بنایا جا سکے؟ اور یہ تھوڑا اور زیادہ نہیں ہے کہ ان لوگوں نے جو شہدت فراہم کی ہے وہ قوم کے لیے ایک مثالی بھی ہو گئی ہو?
 
عجیب بات ہے یہ کہ ہر وقت ایسے حالات نکلنے لگتے ہیں جب کسی بھی طرف سے حملہ کرنا شروع ہوتا ہے تو ہر دوسری طرف کے لوگ اسے اپنی نوجوانوں کو بے کار بنانے کی لالچی کا شکار ہیں، ہزاروں افراد تاجکستان میں فوجی اور ریانی گھروں میں قائم کئے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ وہ لوگ جو سول کارروائیوں پر کام کرتے ہیں ان کی زندگی بھی خطرے میں ہوتی ہے، ہر ایک جسے یہ خبر پہنچے گی وہ اچانک اپنی ساری زندگی بدل لیتا ہے
 
تھوڑا سا دیکھو اس کارروائی کو ، یہ سب کچھ ایسا ہی چلا گا جیسا کہ تھوڑی سے آگے بڑھتا جائے تاکہ ہر جگہ سے خوف پڑے ، حالانکہ اس کارروائی نے ایک بار پھر دہشت گردوں کا زمرہہ فشاد کر دیا ہے لیکن ابھی تک نتیجہ بھی لگتا ہے ، تاجکستان اور افغانستان کے درمیان ایسے تو بات چیت کی ضرورت ہوگی جتنی سے نچلے سرحدی خطوں میں دہشت گردی کو روکنا ہو ، یہ سب ہی کھیل ہے اور ہم بھی اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا
 
اس کارروائی نے مجھے شدید تھوکنا چاہیے کہ ان دہشت گردوں کو ہلاک کرنے میں بھی اچھی کامیابی حاصل کی گئی ہے لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ اس سے تمام جھڑپوں میں اضافہ ختم ہو جائے گا؟ اس کے ساتھ ہی تو فوری جاپ و انصاف کی ضرورت ہے، اسے بھی دیکھنا چاہیے کہ سرحد پر کسی نہ کسی صورتحال کو کھڑے کرنے سے پہلے کیا جاسکتا ہے؟
 
واپس
Top