افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، فیصل کریم کنڈی | Express News

حقیقت پسند

Well-known member
پاکستان کی حکومت نے اپنے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط بھیجا جس میں اس پر افغانستان کے ساتھ یقین برتنے اور ان کے خلاف دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرنی ہو گی، ملک میں نئے سال کا آغاز کر رہی ہے جس نے اپنے لیے ایک نئی لڑائی کا اعلان کیا ہے، اس سے پہلے حکومت نے دوسرے ممالک کو بھی بلا لیا اور انھوں نے اس پر یقین رکھا تھا،

پاکستان کی حکومت کے موقف سے متعلق افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کو بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں، وہ اس پر یقین رکھتے ہیں،

افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان میں عام انتخابات ہوتے ہیں اور وہ بھی آدھار پر ہوتے ہیں، اس پر یقین رکھتے ہیں،

افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ جب پاکستان میں امن ہو گا تو ملک میں ترقی اور خوش حالی ہوگی، خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن لانے کے لیے ہم پرعزم ہیں،

افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ جو بھارت اور اسرائیل نے افغانستان کو دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں وہاں کی سرزمین پر انہیں بڑے پیمانے پر انسداد کرنا چاہئیے،

افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ جب پاکستان میں امن ہو گا تو ملک میں ترقی اور خوش حالی ہوگی، خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن لانے کے لیے ہم پرعزم ہیں،
 
یہ افغانستان کی حکومت کی بھرپور تعصب کی پتیوں کی نمائش ہے, یہاں تک کہ وہ باقی دنیا کو بھی دوسروں ممالک کے ہاتھوں میں رکھنے کی تلاشی کر رہی ہے, یہ سچا ہم نہیں بتاسکتے کہ وہ اس پر یقین کیسے رکھتے ہیں؟

پاکستان میں بھی ایسے دوسرے ممالک کی لہروں سے ہم نہیں دوڑ سکتے, اس لیے اچھا ہے کہ ہم اپنے ملک کو بھی خود پر چپکایا کرنے کی کوشش کریں, جس سے ہمارے ملک میں امن اور ترقی ہو سکے۔
 
کیا یہ بھی اچھا ہوگا؟ پاکستان کی حکومت نے شہباز شریف کو ایک خط بھیجا جس میں ان سے افغانستان کے ساتھ یقین رکھنا ہوگا، لیکن اگر اس پر افganستان کی حکومت نے یقین رکھ دیا تو وہی کوئی رکھتے ہیں؟ یا یہ بھی اچھا ہوگا کہ افغانستان کی حکومت نے اس پر یقین رکھنا جو ان کے لیے دوسرے ممالک کو بلا لایا تھا، شہریوں کو یہ کیا دکھائی دیتے ہیں؟
 
اس نئے سال کی لڑائی میں وہی فوجی طاقت جو پاکستان کو افغانستان سے باہر لے آتی ہے، وہی طاقت اس ملک کو دوسرے ممالک کے ہاتھوں میں نہیں رکھ سکتی, پاکستان کی حکومت کو یہ سوچنا چاہئیے کہ وہ ملک پر قبضہ کرنے والے دوسرے ممالک سے بچنے کے لیے خود کو مستعد اور تیار رکھنا چاہئیے
 
فارنے بھی یہی بات رکھتی ہے کہ کیا افغانستان کی حکومت کو پاکستان میں امن لانے کا وقت نہیں تھا؟ پہلے انہوں نے دوسرے ملکوں پر تنقید کی اور اب وہ ہمارے ساتھ معashrat کرنا چاہتی ہے? یہ بتاؤ کیا انہیں یہ نئی لڑائی کیسے جیتنی ہوگی؟
 
یہ بہت problematic hai, پہلے افغانستان کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے اور اب انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کو بھارت اور اسرائیل کی مدد سے اس پر قابو پانا چاہتے ہیں... یہ کیاLogic hai? ہم نے پہلے افغانستان کی حکومت سے کہا تھا کہ ایک دوسرے کو اپنی بہن بھائی کے طور پر سمجھنا چاہئیے، لیکن اب انہوں نے ایسا کیا ہے کہ اب پوری دنیا میں اس کی آواز سنائی دے رہی ہے...

میں سوچتا ہوں کہ افغانستان کی حکومت کو اپنی بیان و بیان پر انھیں کامیابی نہ مل سکے...
 
یہ واضح تھا سے افغانستان کی حکومت انفرادی طور پر دوسرے ممالک کی مہارتوں پر یقین رکھتی ہے؟ کیا وہ خود کے لیے بھی ایسا ایمٹ ہوتا ہے؟ پھر اور پھر ان کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرنے کا کہنا تو کہتے ہیں، لیکن افغانستان کی حکومت نے بھی ان پر یقین رکھنا ہوتا ہے کہ جو دوسرے ممالک نے ان کے خلاف دباؤ اٹھایا ہے، وہ اس کے لیے یقینی طور پر اس کے خلاف کام کر رہے ہیں؟ اور یہاں بھی یہ بات کہنے کے لئے ہم تھک گئے کیوں کہ ان پر یقین رکھنا ہوتا ہے یا ان سے پُریشانی کو دور کرنا چاہتے ہیں؟
 
افغانستان کی حکومت نے اس خط سے بھرپور کامیابی کا اعلان کیا ہو گا یا نہیں؟ پوری دنیا میں دباؤ اور جھگڑے دیکھنے پر آتی ہے، لیکن وہ یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے کیا ہے؟ اس سے پہلے بھی دوسرے ممالک کو آگاہ کیا ہے اور وہ یقین رکھتے تھے، اب بھی ان پر یقین رکھنا مشکل ہو گا،

پاکستان کی حکومت نے بھی ایسے ہی خط بھیجا ہے، پھر کیا یہ سچا کہاں جاتا ہے؟ افغانستان کی حکومت کے اس statement پر توجہ دیتے ہوئے، وہ بھی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بھارت اور اسرائیل کو بھگاد کرنا چاہتے ہیں، یہ تو ابھی دیکھنے پر آ رہا ہے،
 
واپس
Top