افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے،گورنر خیبرپختونخوا

افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، گورنر خیبرپختونخوا

سابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے انعامات کی تقریب میں کہا کہ افغانستان اب بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں خود کو کھیل رکھتے ہوئے دیکھنا پيا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان اس وقت اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر ایسے تجارتی اور سیاحتی معاملات کو انجام دینے میں لڑ رہے ہیں جس سے انھیں ویزے پر ایسا اپنے آباؤ اجداد کے لیے کھیلنا پڑگا جو انھیں بے شمار مصائب اور کٹار و کشت لگاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت افغانistan افغانستان سے باہر اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کرنا شروع کیا ہے جس پر ایک قانون کا تعلق ہوتا ہے اور وہ اس قانون میں چل رہے ہیں کیونکہ یہ قانون افغان سرزمین پر دہشت گردی کے لیے استعمال ہوا ہے اور خیبرپختونخوا میں بھی امن کا ایسا جام شہادت نوش دیا گیا ہے جو انھیں پہچانا جاتا ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین اور خیبرپختونخوا میں امن لانے کے لیے ہم بڑی طاقت کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور وہ ہماری آباؤ اجداد کو اسی طرح کی آمرزتیں دیتے ہیں جو انھیں بھی مل سکتی ہیں لیکن یہ بات کہیں سے نکلتی ہے کہ افغان اسی طرح کی آمرزتیں استعمال کر رہا ہے جو انھیں بھارتی اور اسرائیلی جہتوں کو مل سکتی ہیں جو انھیں نہ مل سکتی ہیں اور اس سے انھیں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گورنر نے ایسا کہا کہ افغانستان اس وقت بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں خود کو کھیل رکھتے ہوئے دیکھنا پيا۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگ اس وقت اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر ایسے تجارتی اور سیاحتی معاملات کو انجام دینے میں لڑ رہے ہیں جو انھیں بے شمار مصائب اور کٹار و کشت لگاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کرنے والے لوگوں کو ایک قانون کا تعلق ہوتا ہے اور وہ اس قانون میں چل رہے ہیں جو انھیں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور خیبرپختونخوا میں بھی امن کا ایسا جام شہادت نوش دیا گیا ہے جو انھیں پہچانا جاتا ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین اور خیبرپختونخوا میں امن لانے کے لیے ہم بڑی طاقت کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور وہ ہماری آباؤ اجداد کو اسی طرح کی آمرزتیں دیتے ہیں جو انھیں بھی مل سکتی ہیں لیکن یہ بات کہیں سے نکلتی ہے کہ افغان اسی طرح کی آمرزتیں استعمال کر رہا ہے جو انھیں بھارتی اور اسرائیلی جہتوں کو مل سکتی ہیں جو انھیں نہ مل سکتی ہیں اور اس سے انھیں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے ایسا کہا کہ افغانستان اس وقت بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں خود کو کھیل رکھتے ہوئے دیکھنا پيا۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگ اس وقت اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر ایسے تجارتی اور سیاحتی معاملات کو انجام دینے میں لڑ رہے ہیں جو انھیں بے شمار مصائب اور کٹار و کشت لگاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کرنے والے لوگوں کو ایک قانون کا تعلق ہوتا ہے اور وہ اس قانون میں چل رہے ہیں جو انھیں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور خیبرپختونخوا میں بھی امن کا ایسا جام شہادت نوش دیا گیا ہے جو انھیں پہچانا جاتا ہے۔
 
جب بھی اس بات پر پڑھتے ہیں کہ افغانستان دوسرے ممالک کے ہاتھوں میں خود کو کھیل رہا ہے تو یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ اس طرح کی ستمندگیوں سے وہ اس قدر آسان نکل پاتا ہے؟ یہ سب سے بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ افغانستان کو اس وقت اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر ایسے تجارتی اور سیاحتی معاملات کو انجام دینے میں لڑنا پڑتا ہے جو انھیں بے شمار مصائب اور کٹار و کشت لگاتی ہیں۔
 
اس بات پر توجہ دیجے چاہئیں کہ افغانستان کی صورت حال ایک جھگڑے کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔ لگتا ہے اس میں کسی کو بھی اپنی وارثت اور سرزمین کا احترام نہیں کیا جاتا۔

میری Opinion 🤔

افغانستان کی صورت حال ایک تباہ کن جگہ ہے جو پوری دuniya کو گھبرائی رہی ہے۔ افغانستان کے آباؤ اجداد نے ان کے لیے اپنی سرزمین پر بہت سے مصائب اور قیمتی لڑائیوں کیں، اور اب وہ اس وقت اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر ایسے تجارتی اور سیاحتی معاملات کو انجام دینے میں لڑ رہے ہیں جو انھیں بے شمار مصائب اور کٹار و کشت لگاتا ہے۔

اس بات پر توجہ دیجے چاہئیں کہ افغانستان کی صورت حال ایک جھگڑے کی طرح دکھائی دے رہی ہے اور اس سے انھیں اپنی وارثت اور سرزمین کا احترام نہیں ملتا ہے۔
 
اس گورنر کی بات تو بالکل درست ہے، افغانستان اب بھارتی اور اسرائیل کے ہاتھوں میں خود کو کھیل رکھتے ہوئے دیکھنا پيا ہے اور اس سے ان کی سرزمین پر امن لانے کا راستہ بھی چل رہا ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر قیام کرنے والے لوگ ایسی آمرزتیں استعمال کر رہے ہیں جو انھیں دہشت گردی کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور اس سے ان کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ تو ایک طرف موت کا راحlat ہے اور دیئے گئے ایسے جہتوں پر ماری نہیں دیلے جو انھیں مل سکتی ہیں، یہ تو ایک بڑا معاملہ ہے اور اس پر کوئیSolution نہیں آ سکتا
 
افغانستان کے حالات کا یہ تصور بہت گھناسا ہے …..
```
/_/\
( o.o )
> ^ <
مریں یہ سوچنا پڑا ہے کہ افغانستان اپنی آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کر رہا ہے جو اس نے دوسروں سے حاصل کی ہے اور اب وہ اس کو فاصلے پر ہاتھوں میں کھیل رکھتے ہیں
```
انھوں نے کہا کہ افغانستان اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ انھیں ایک بڑا مصیبت اور کٹار و کشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے
```
______
| |
| افغانستان کے لوگ |
| اپنی آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کر رہے ہیں |
|______|
| مصیبت اور کشت کا سامنا کر رہے ہیں |
```
اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کر رہا ہے لیکن اس سے انھیں بہت مصیبت اور کشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے
 
عجیب، افغانستان کے ساتھ بھارت اور اسرائیل کا تعلق تو صاف اٹھا دیتے ہیں لیکن یہ بات کیسے نکلتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ افغانستان اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کر رہے ہیں لیکن وہ اس قانون میں چل رہے ہیں جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ یہ تو بھارتی اور اسرائیلی جہتوں کا کوئی قانون نہیں ہے جس پر انھوں نے اس کو اپنا کر لیا ہو!
 
افغانستان کو اس کے آباؤ اجداد کی سرزمین پر قیام کرنے والوں سے بھارتی اور اسرائیلی زور دیا جا رہا ہے، لیکن ان کے لیے یہ ایک بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سرزمین وطن کی محبت سے اس پر قیام کرنا پڑتا ہے نہ کہ کسی بھی طاقت کی وجہ سے۔

انسانوں کو خود کو دوسروں کے ہاتھ میں لینے سے قبل اپنی سرزمین پر ایسا کھیلنا چاہیے جس سے وہ اپنے آباؤ اجداد کی یادوں کو زندہ کرتے ہیں اور اپنی آزادی کا احترام کرتے ہیں۔
 
یہ واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان بھارتی اور اسرائیلی دباؤ میں ایک لالچین ہوتا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کی جانب سے ایسے معاملات کو انجام دینے کا کوشش کیے جائے جو انھیں اس کے آباؤ اجداد کی سرزمین پر کھیلنا پڑ رہے ہیں، تو یہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی مصائب اور کٹار و کشت دیتا جاتا ہے۔
 
واپس
Top