افغانستان میں بارشوں کے بعد سیلاب17 افراد جان کی بازی ہار گئے

ہاکی پلیئر

Well-known member
افغانستان میں موسمی برفباری اور بارشوں نے پچیس سالوں کے تنازعات، کمزور منصوبے اور جنگلات کی کٹائی سے متاثر ہونے والے قدرتی آفات کو بھی تو ختم کیا ہے بلکہ اس ملک میں نئے چیلنجز کی لانچ کر دیا ہے۔

سولہ سے ایک crore لوگ مویشیوں سے متاثر ہوئے جب اس ملک پر بھاری برفباری اور بارشوں نے اچانک سیلاب لا دئیے جو کم از کم ان کے گھروں کو تباہ کر دیا اور 17 افراد کی جان لے لی جس میں میرٹ اور بچے بھی شامل ہیں۔

ان نوجوانوں کی جان لگائی گئی جو ایک گھر کی چھت سے گرنے پر مارے گئے جس کا باعث ہوا اور اچانک آنے والے سیلاب کو اس پہلے گھر واپس لانے کا موقع فراہم کیا جو ایک نئی پہلی تھی۔

ان حالات میں ان 11 افراد کو زخمی کیوٹ بھی جائیں جن کو اچانک آنے والے سیلاب سے لگنے کا شکار ہوا اور نجات حاصل کرنا بھی مشکل سمجھا گئا تھا۔

دہائیوں سے مٹی کے بنے ہوئے گھروں کی وجہ سے ایسے واقعات زیادہ ہوتے رہتے ہیں جو نئے چیلنجز لانچ کر دیں۔

اس طرح کے حالات میں ہر ملک میں کوئی ایسی پالیسی نہیں ہوتی جس سے قدرتی آفات سے متاثرہ لوگ ان کے گھروں اور وسائل کی حفاظت کر سکیں اور نوجوانوں کو لازمی تناول کیا جائے جو اب بھی یہاں موجود ہیں۔
 
یہ بات سچ ہے کہ افغانستان میں موسم کی برفباری اور بارشوں نے زیادہ تر مویشیوں کو تو پہنچا دیا ہے لیکن اس کے بعد چیلنجز اتنا ہی کسٹم ڈائیڈنگ کر دیے ہیں۔ یہ بھی بات سچ ہے کہ جب لوگ پانی میں لگنے پر مارے گئے تو وہ کوئی چیلنج نہیں تھا، لیکن ان حالات میں 11 افراد زخمی ہوئے، یہ بھی سچ ہے کہ مٹی والے گھروں کی وجہ سے یہ بات کو دیکھنا اچھا تھا۔
 
یہ لوگ بڑا شقناس ہوئے ، 40 سال تک چلے آئے تنازعات اور کمزور منصوبوں نے افغانستان میں قدرتی آفات کو کم کر دیا ہے لیکن اب یہ وہی بھی ہیں جو پچیس سال قبل تھیں۔

سٹریٹ سے لوگ نئی تجدید کا مطالبہ کر رہے ہیں، نوجوانوں کو بھی ان کی جان لگائی گئی ہے اور اب اس کی حفاظت کس کرتا ہے؟ ان حالات میں لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سیلاب کیسے لاحق ہوتا ہے اور ابھی نئی پالیسیوں کے ذریعے ان حالات کو کم کیا جا سکتا ہے؟
 
تمام ملکوں میں موسمی برفباری اور بارشوں کی وجہ سے ہونے والے سیلاب کے واقعات نہیں ہوتے بلکہ اس میں اچانک آنا بھی شامل ہوتا ہے جس سے لوگ کو گھروں کو پھینکنے کا موقع ملتا ہے… مٹی کے بنے ہوئے گھروں کی وجہ سے یہ واقعات بھی زیادہ ہوتے رہتے ہیں… اس لئے ضرور پالیسی بنائی جائے جو لوگوں کو اپنے گھروں کا سہارہ لینے کا موقع دیا جا سکے …
 
افغانستان میں اچانک برفباری اور بارشوں نے اس ملک کی نوجوانوں کو بھی ساتھ دو چکا ہے، ان کے گھروں کو تباہ کیا جو پچیس سالوں تک وہاں موجود ہونے والے تنازعات اور کمزور منصوبوں نے متاثر کیا۔ 17 افراد کی جان لگائی گئی، ان میں میرٹ اور بچے شامل تھے۔

نوجوانوں کو ایسے واقعات سے نجات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، انہیں لازمی تناول کیا جائے گا اور انہیں اپنے گھروں کی حفاظت کرنے کے لیے پالیسیوں پر کام کیا جائے گا۔
 
😱 پھرنے والے سیلاب میں 17 افراد کا اہل خانہ تباہ ہوگیا… ان میں میرٹ بچے بھی شامل ہیں… وہ نوجوان جو گھر کی چھت سے گرنے پر مارے گئے… یہ ایک کھارپور واقعہ ہے… ان لوگوں کو نجات حاصل کرنا بھی مشکل سامجھا گیا… اور وہ لوگ جو زخمی ہوئے انھیں بھی چوٹ لانی پڑ گئی… مٹی کے بنے گھروں کی وجہ سے یہ سارے واقعات ہوتے رہتے ہیں… لاکھوں لوگوں نے مویشیوں میں سے متاثر ہونے کا سامنا کیا… ان کی گھروں کو تباہ کر دیا گیا… اور اس ملک کو ایسے حالات میں ہمیشہ سے نئے چیلنجز لانچ کرنا پڑتا رہتا ہے…
 
اس نئے سال میں پاکستان، افغانستان اور بھارت سے متعلق تمام رپورٹس دیکھ کر کھونے میں آ گیا تھا کہ برفباری اور بارشوں نے وہاں کے لوگوں کو ایک بڑا چیلنج دیا ہے۔ مویشیوں سے متاثر ہونے والے 16 لاکھ افراد کو اپنے گھروں کی حفاظت کرتے ہوئے ایک بڑی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ بھی دیکھنے کو میلا کہ اب یہ لوگ نئے مویشوں پر رش لے کر بھاگ جائیں گے۔ ان لوگوں کے لیے اس چیلنج سے نکلنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب ان کے پاس ایسے نئے مویش موجود ہیں جن پر رش کرنے کے لیے بھاگ سکتے ہیں جو پہلے کی تुलनہ میں آسان ہیں۔
 
برفباری اور بارش نے افغانستان میں قدرتی آفات کو ختم کر دیا ہے لیکن یہ سوچنا غلط ہے کہ ان نوجوانوں کی جان لگائی گئی تھی جو سیلاب میں گिरنے پر مارے گئے ۔ ان کو ایک خطرناک اور غیرمعمولی صورتحال میں پھنسایا گیا تھا جس کے لیے کسی بھی نوجوان کی جان لگانے کی ضرورت نہیں تھی 🤔

دہائیوں سے ہونے والے مٹی کے بنے گھروں کی وجہ سے ایسے واقعات زیادہ ہوتے رہتے ہیں اور اس لیے کوئی پالیسی نہیں ہوتی جس سے لوگ اپنے گھروں اور وسائل کی حفاظت کر سکیں۔ اس پر توجہ دینا ضروری ہے، خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے جو اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔
 
یہ تو ایک بڑا دुख ہے ان نوجوانوں کی جان لگائی گئی جنہوں نے اپنے گھروں میں ساتھ رہتے تھے اور اچانک آنے والے سیلاب کو اس پہلے گھر واپس لانے کا موقع فراہم کیا گیا جو ایک نئی پہلی تھی۔ میرے خیال میں یہ دیکھنا انتہائی غصے کا سبب بن سکتا ہے۔
 
تین دن پہلے نئی دہلی میں ایک سیلاب نے ایک اور 17 افراد کو ماریا تھا، اب افغانستان بھی اس طرح کا اچانک سیلाब کا شکار ہوا ہے جس سے لوگ اپنے گھروں کی حفاظت میں تنگ آ چکے ہیں، پہلی بار ایسی صورتحال نہیں دیکھا گیا تھا اس کا باعث یہ بھی ہوا کہ وہاں کی زمینوں میں مٹی کے بنے گھروں کی وجہ سے زیادہ ہوتا رہا ہے۔ ہر ملک میں ضروری پالیسی نہیں ہوتی جس سے لوگوں کو اپنے گھروں اور وسائل کی حفاظت کر سکے۔
 
ایسے تو ان پچیس سالوں میں کیا ملا؟ آج نوجوانوں کی جان لگائی گئی، گھروں کو تباہ کر دیا گیا، 17 افراد ہی نہیں لیکن اس سے قبل بھی کمزور منصوبوں اور جنگلات کی کٹائی سے زیادہ برفباری اور بارشوں میں ہلاک ہونے والے لوگ کی تعداد زیادہ تھی؟

اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک نے اپنی جنگلات کو کٹایا ہے، اب وہاں ہوا کے لئے کوئی جگہ نہیں رہ گئی ہوںگی اور نوجوانوں کی جان بھی اس لیے رک گئی ہوںگی؟

اب یہ سوال ہے کہ 11 افراد کو زخمی کیوٹ لیا گیا، ان کو نجات حاصل کرنا مشکل سمجھا گیا؟ اور نوجوانوں کو لازمی تناول کیا جائے گا؟ یہ سب ہی سے اس ملک کی کمزور پالیسیوں پر بات چیت کی گئی ہے۔
 
ایسے حالات میں پوری دنیا کی نظر آئی ہے کہ افغانستان کو ایسے چیلنجز سے لڑنا ہو گا جو اسے اپنے تاریخی تنازعات اور کمزور منصوبوں سے زیادہ تھے!

یہ بھی سمجھنی چاہئیں کہ مویشیوں کی تباہی نہ صرف ایک جگہ ہی پر ہوئی بلکہ اس ملک میں پورے علاقائی جہتوں میں ہوا ہے۔

اس سے ہمیں سمجھنے کا موقع ملا ہے کہ اگر ہم نوجوانوں کو اس پالیسی پر ایک نظر گویٹ دیں جو ان کی حفاظت اور ترقی کو بڑھا سکتی ہے تو یقیناً اس سے افغانستان کے مستقبل میں بھی بدلاؤ आئیں گے!
 
واپس
Top