افغانستان میں Maulviوں کو جرائم کی سزا نہیں دی جائے گی، اس کے بجائے انہیں غلام بنایا جائے گا۔ جبکہ نچلے درجے کے افراد کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
غلاموں کی حیثیت سے Maulviوں کو ان چار زمروں میں سب سے نیچے رکھا جائے گا، جو علماء، اشراف، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ ہیں۔ نچلے درجے کے افراد کو جیل اور جسمانی سزا دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ Maulviوں کو صرف conseils کی جائے گی۔
اس طرح طالبان انتظامیہ نے اپنے معاشرے کو چار Zamuroں میں تقسیم کیا ہے اور انہیں ایسا ہی تقسیم کیا گیا ہے۔ اس سے ظالمانہ معاملات میں پھیلتے خطرے کو روکنے کی کوشش کئی جاری ہو گئی ہے اور انہوں نے اپنے معاشرے کی اس صورتحال کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔
ہمیشہ سے بتایا جاتا رہا ہے کہ ایسی چیزوں میں بھی یہ ہوتا ہے کہ جس پر آپ سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں وہ اچانک توٹ جاتا ہے... آج افغانستان میں بھی یوں ہی ہوا ہے اس پالیسی کو ان میں جو لوگ ذمہ دار ہیں وہ اپنی عقل چھونے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ سبسکرسن نہیں ہوتا ہے... میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ پالیسی بنانے سے پہلے کم سے کم ایک بار سوچا ہوتا کہ اس کے نتیجے میں کیا Result Hoga?
یہ واقفہ تو مری دھلنی میں بھی نہیں ہو سکا، افغانستان میں Maulviوں کو غلام بنانے کا یہ تجویز بہت ہی خطرناک ہے، ایسا تو طالبان کے معاشرے کی وہ چار ذillerتوں پر مبنی منظر نامہ سے ملتا جلتا ہے جو انھوں نے لگایا ہے، اور اب یہی کہیں اور پھیلتے خطرے کو روکنے کی کوشش ہو رہی ہے؟
افغانستان میں Maulviوں کو غلام بنایا جائے گا؟ یہ بات تو ایسے حالات میں نہیں آئی جہاں انسانی سمجھ کی جان کے خلاف اس طرح کی پوری معاشرتی تقسیم ہو سکے۔ یہ صرف ایک راز ہے جو افغانستان میں طالبان کے حکمرانوں کو ظاہر کرنا چاہیے کہ انہیں اپنی قوت کی برآداری کرنا پڑے گا۔ مگر یہ دیکھنا بھی ہم جنت میں اچھا ہوگا کہ کس طرح انہوں نے اپنی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی پالیسی adopt kiya hai۔ یہاں کی معاشیات میں ایک ایسی تقسیم ہو گئی ہے جو لوگوں کو انچھوٹے اور بڑے درجے کے افراد کے درمیان فرق بناتی ہے، یہ بات سے لاتھی ہے کہ کس طرح انسانی سماج کی ایسی تقسیم ہو سکتی ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف متعلق بناتی ہے۔
یہ تو بہت ہی غیر منصفانہ اور غلط فیصلہ ہے! آج کل افغانستان میں یہ سزائیں انفرادیوں پر نہیں دی جاتیں بلکہ سماجی درجے پر بھی پڑتی ہیں۔ Maulviوں کو غلام بناکے ڈالتے ہوئے، انہیں سزا دینا اور نچلے طبقے کو جیل میں ڈالنا بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ تو ایک بدترین معاشرتی نظام کا نمونہ ہے۔
اس طرح کے فیصلوں سے کوئی نوجوان یا عادتی لوگ بھی دوسری تلوار سے لڑنے کی چچکی لینے کا موقع اور پرت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک معاشرہ کو اس طرح بنانے والے لوگ ہی اس کی زندگیوں کے خاتمے کا سبب بنتے ہیں۔
افغانستان میں Maulviوں کو غلام بنایا جائے گا؟ یہ تو بھی نہیں، یہ ایک بدترین پالیسی ہے۔ اس طرح انہیں علماء اور اشراف کی طرح کمزوریوں کا شکار کر دیا جائے گا اور بھوکے اور نہائے جانے والوں کے لیے ایک نئا زمرہ بنایا جائے گا۔ اس سے پورا معاشرہ توڑ-میکھ کر کے رہا کروے گا۔
ایسا تو حقیقی طور پر دھکے ملوثوں کی جانب سے ہوتا ہے، جب آپ چار زمرے کے برعکس ہو تو کیا انہیں اپنے خیالات کو سمجھنے کی اجازت نہ دی گئی؟ اس طرح اہل حقیقت سے منصوبہ بنایا گیا ہے، جو چار زمروں کے اندر بھی ایک ایسا نظام تھا جس میں غلام بنائے جانے والے Maulviوں کو اپنی ذمہ داریوں سے واقف نہ کرنے کی اجازت دی گئی ہوگی، انہیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ کس معاملات میں معاون ہوتے ہیں
ایسا تو حقیقی طور پر افغانستان کی معاشی حالت میں بھی کام نہیں آتا ہوگا। غلاموں کو جرائم کی سزا نہ دی جائے گا، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس معاشرے میں کسی بھی اہمیت والے شخص کی جان کے لئے کوئی کسر ہو جائے گی۔
[icon: ]
آج کل افغانستان کی سڑکیں پھیلتی ہوئی ہیں اور شہروں میں تیز رفتار ترقی ہو رہی ہے، لेकن اس معاشرے کا اندازہ لگاتے ہیں تو یہ سب بھی کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔
[icon: ]
طالبان کی حکومت میں پہلے سے تھوڑی سے تبدیلی آج کل بڑی ہوئی ہے، ایسا کہیں انہیں معاشرے کی پھیلتی ہوئی ہنسی کھلنی پڑ گئی ہو۔
[icon: ]
[Diagrams: ایک چار آؤٹلینز سسٹم کا ماحول، دیکھتے ہیں تو یہ سب نچلا طبقہ، اسکالرز، اشراف، متوسط طبقہ اور غلاموں پر مشتمل ہے]
اس غلام بنानے کا پھیلاؤ تو آج کل تالبان کا سب سے بڑا مقصد ہی ہے... وہ اپنے معاشرے کو ایسے چار Zamuroں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کے نئے رواداری کی پالیسی پر یقین رکھایا جا سکے... معاشرے میں کسی بھی حد تک بغاوت کو دبانا چاہتے ہیں... اور یہ غلام بنانا ایسا سڑکتا ہے جو ان کے مقاصد کے مطابق ہو... کیا وہ معاشرے کی مختلف طبقات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا صرف اپنے اثر و رسخ کو مزید بڑھانے کا مقصد دیکھتے ہیں?
افغانستان میں Maulviوں پر ایسا کرنا گalti hai, ان کو جرائم کی سزا ملنی چاہئیے, نہیں تو اس سے معاشرے میں وضاحت پھیلتی ہے اور فوری حل نہیں مل سکتا
مگر یہ بات صحت مند ہے کہ انچہ راتوں تک معاشرے میں توٹ پھول کر گئی ہے, اس لیے کچھ ایسی صورتحال بنانا چاہئیے جو اس کے ساتھ مل سکے اور لوگ اس پر سوچنا شروع کریں
اور یہ بات بھی دھیان رکھنی ہوگی کہ Maulviوں کو بھی اس معاشرے کی اکثریت میں شامل کیا جائے, نہیں تو وہ انچہ راتوں تک اسی گروہ پر چلنا چاہئیں گی جو انہیں غلام بنانے والے ہیں
یہ بات سچ ہے کہ افغانستان میں Maulviوں کو جرائم کی سزا نہ دی جائے گی، اس لیے وہ غلام بن جائیں گے، ایسا تو یہ بات بھی سچ ہے کہ نچلے درجے کے افراد کو سخت سزا ملنی پڑے گی، مگر انھیں تو اپنا معاشرہ بھی رکھا جاے گا، اور Maulviوں کو صرف conseils دیئے جائیں گے، یہ بات سچ ہے کہ طالبان انتظامیہ نے اپنے معاشرے کو چار Zamuroں میں تقسیم کیا ہے، اور انھوں نے اپنی یہ پالیسی اپنا کر رکھی ہے، اس سے وہ اپنے معاشرے کی صورتحال کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ نچلے درجے کے افراد کو جیل اور جسمانی سزا دیئے جائیں گے، مگر Maulviوں کو تو صرف advisers کی حیثیت سے رکھا جائے گا، اور یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ اپنی پالیسی سے اپنے معاشرے میں پھیلتے خطرے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں
ایسا بھی تو پتہ چلتا ہے کہ طالبان نے اپنی حکومت میں ایسی Divisional System لگا دی ہے جس سے لوگ اپنے درجے کی بنیاد پر الگ الگ رہیں گے، یہ تو پریس کونسلوں کو اچھی طرح بتاتا ہے کہ طالبان نے اس معاشرے میں کتنے سے اچھے اور کتنے کھرا لگنے والے افراد رکھے ہیں، لیکن کیا یہ تو صحت مند ہے؟