فائرنگ کے واقعے میں بی این پی رہنما سے فائرنگ اور قتل، ایک افسوسناک خبر
جبکہ تاحال ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی، حالات کی بدترین صورت کا سامنا ہو رہا ہے۔ جیسور میں ایک مقامی سکول کے قریب فائرنگ کے بعد بی این پی کے ایک رہنما عالمگیر حسین کو ملا پھر کر kills کر دیا گیا، حالانکہ فائرنگ کے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کی جا رہی ہے۔
عالمگیر حسین جیسور میونسپلٹی کے تحت بی این پی کی وارڈ نمبر 7 یونٹ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری تھے، اور اس سے قبل سٹی بی این پی کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ وہ موٹر سائیکل پر گھر واپس جا رہے تھے جب ایک مقامی سکول کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے، بعد ازاں عالمگیر حسین کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا، ہسپتال ذرائع کے مطابق انہیں سر پر گولیاں لگ کر مریzia پہنچ آئیں تھیں۔
ابوالبشر نے بتایا کہ پولیس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور سیاسی و کاروباری پہلوؤں سمیت تمام ممکنہ محرکات کی جانچ کی جا رہی ہے، حالانکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا ہے اور تاحال ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی۔
سینیئر بی این پی رہنماؤں نے ہسپتال کا دورہ کیا اور اس قتل کو اپوزیشن کارکنوں کے خلاف منظم تشدد قرار دیا، اسے قابلِ مذمت اور غیر جمہوری عمل کہا۔
عالمگیر حسین ایک پُرامن طبیعت کے انسان تھے اور زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ خاندان اس واقعے پر شدید صدمے میں ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
جبکہ تاحال ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی، حالات کی بدترین صورت کا سامنا ہو رہا ہے۔ جیسور میں ایک مقامی سکول کے قریب فائرنگ کے بعد بی این پی کے ایک رہنما عالمگیر حسین کو ملا پھر کر kills کر دیا گیا، حالانکہ فائرنگ کے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کی جا رہی ہے۔
عالمگیر حسین جیسور میونسپلٹی کے تحت بی این پی کی وارڈ نمبر 7 یونٹ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری تھے، اور اس سے قبل سٹی بی این پی کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ وہ موٹر سائیکل پر گھر واپس جا رہے تھے جب ایک مقامی سکول کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے، بعد ازاں عالمگیر حسین کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا، ہسپتال ذرائع کے مطابق انہیں سر پر گولیاں لگ کر مریzia پہنچ آئیں تھیں۔
ابوالبشر نے بتایا کہ پولیس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور سیاسی و کاروباری پہلوؤں سمیت تمام ممکنہ محرکات کی جانچ کی جا رہی ہے، حالانکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا ہے اور تاحال ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی۔
سینیئر بی این پی رہنماؤں نے ہسپتال کا دورہ کیا اور اس قتل کو اپوزیشن کارکنوں کے خلاف منظم تشدد قرار دیا، اسے قابلِ مذمت اور غیر جمہوری عمل کہا۔
عالمگیر حسین ایک پُرامن طبیعت کے انسان تھے اور زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ خاندان اس واقعے پر شدید صدمے میں ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔